سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 2

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا ...
سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 2

  



مارسی کے شک میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ’’ابو جعفر ‘‘ تھا۔ ابو جعفر ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جس نے ’’ادرنہ ‘‘ میں ایک مذہبی پیشوا یعنی امام مسجد کا رُوپ دھار رکھا تھا۔ یہ شخص در حقیقت ’’قیصرِقسطنطنیہ ‘‘ کا جاسوس تھا۔ اور یہاں ’’ادرنہ ‘‘ میں ایک مسلمان مذہبی پیشوا کے روپ میں داخل ہوا تھا۔ یہ شخص ’’ادرنہ‘‘ میں مارتھا کی آمد سے پہلے ہی اپنی سازش کا جال پھیلا چکا تھا۔ مذہب پرست البانوی کنیز مارتھا سلطان کے محل میں وارد ہوئی تو ابو جعفر کی سرگرمیاں مزیدتیز ہوگئیں۔ اُس نے پہلے پہل مارتھا کو صلیب اعظم کا واسطہ دے کر اپنی سازش میں شریک کیا تھا۔ ابو جعفر خود قسطنطنیہ میں ’’آیا صوفیاء ‘‘ کے چرچ سے منسلک تھا اور ایک پختہ کار راہب تھا۔

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 1 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قیصر نے سلطان مراد خان ثانی کو سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھے دیکھا تو ایک نئی چال کے تانے بنانے شروع کردیئے۔ ابو جعفر جو در حقیقت ’’ڈیمونان‘‘ تھا۔ عظیم عیسائی سلطنت کے بادشاہ قیصرِ قسطنطنیہ کا خاص جاسوس تھا۔ قیصرِ قسطنطنیہ ’’مینوئل‘‘ کے پاس عثمانی سلطنت کے دارالخلافہ ’’ادرنہ ‘‘ کی ایک ایک خبر ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ پہنچتی تھی ۔ اور ’’ادرنہ‘‘ میں قیصر کی اس ساری سازش کا سرغنہ ابو جعفر تھا۔ یہی ابو جعفر پچھلے بارہ سال سے مارسی کی ماں کے مکان پر آیا جایا کرتا تھا۔ مارسی بچپن سے ہی اس سے متنفر تھی۔ وہ اس کی مکارانہ صورت کو دیکھتے ہی کھول اُٹھتی۔ اُسے ابو جعفر کی حقیقت کا علم نہیں تھا لیکن وہ اُس کی عادات و اطور سے اب تک بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ یہ مکار شخص یقیناً وہ نہیں جو اوپر سے نظر آتا ہے۔

ابو جعفر مارتھا کے گھر ہوتا تو دونوں بند کمرے میں بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہتے۔ کبھی کبھی سکندر کو بھی بلالیا جاتا ۔ مارسی مسلمانوں کے اس مذہبی پیشوا کو اپنی عیسائی ماں کے پاس باقاعدگی سے آتا دیکھ کر شک میں مبتلا ہوگئی ۔ 

ادھر سکندر بیگ جب سے مسلمان ہوا تھا پہلے سے بھی زیادہ بدتمیز اور واہیات ہوگیا تھا۔ وہ جتنی دیر گھر پر رہتا مارسی کو بری نظروں سے دیکھتا رہتا۔ مارسی بچپن سے ہی سکندر بیگ کی عادات کو ناپسند کرتی تھی۔ وہ بچپن سے ہی چڑ چڑا ، بدتمیز اور ہتھ چھٹ تھا۔ شاید اس کے اس طرح بدمزاج ہونے کی وجہ یہ رہی ہو کہ اُس کے سامنے اُس کے باپ ۔۔۔ جان کسٹریاٹ کو سلطان مراد خان ثانی نے ذلت آمیز شکست دی اور اُسے اُس کے تین چھوٹے بھائیوں سمیت یرغمال بنا کر اتنی دور ’’ادرنہ‘‘ آنا پڑا۔ اور اس پر مستزادیہ تھا کہ اُس کے تینوں چھوٹے بھائی بچپن میں ہی اُس کی آنکھوں کے سامنے اس دیارِ غیر میں بیمارہو کر مر گئے ۔ یہ سب کچھ سکندر بیگ کے حالات کا تقاضہ تھا۔ اور کچھ مارتھا کا چرب زبان سازشی کردار کہ سکندر بیگ اس قدر منتقم مزاج اور مغرور واقع ہوا تھا۔ 

آج مارسی نے ایک مرتبہ پھر سکندر بیگ کو مقابلے کا میدان جیتتے دیکھا تو اُس کے رگ و پے میں مایوسی اور غصے کی لہر ڈور گئی ۔ آج خصوصی طور پر اُس کے غم و غصے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ علی الصبح گھر سے نکلنے سے پہلے سکندر نے مارسی سے کہا تھا ۔ 

’’آج شمشیرزنی کے مقابلوں کا دن ہے۔ میں ایک بار پھر ادرنہ کا سب سے بڑا جنگجو تسلیم کیا جاؤں گا ۔۔۔ یہ حقیر ترک میرے مقابلے کی ہمت نہیں رکھتنے ۔ آج اگر میں پھر جیت کا تمغہ لے کر لوٹا تو چچی مارتھا سے تمہارا ہاتھ مانگ لوں گا‘‘ 

سکندر بیگ ، مارتھا کو چچی کہہ کر پکارتا تھا۔ مارسی نے اتنا سنا تو غصے سے چہرہ لال کرتے ہوئے کہا ۔ ’’اتنا تکبر مت کرو ۔۔۔ دراصل سلطان تم پر اعتماد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہی احترام میں تمہاری سامنے کوئی نہیں آتا۔ مجھے یقین ہے کہ ینی چری کا کوئی بھی سالار تمہیں آسانی سے شکست دے سکتاہے۔ ‘‘

سکندر بیگ مارسی کا زہر آلودہ جملہ سن کر غصے سے پیر پٹختا ہوا گھر سے نکل گیا ۔ اور اب مارسی دیکھ رہی تھی کہ ینی چری کا ایک سالار سکندر بیگ سے بری طرح مات کھا چکا تھا۔ مارسی کی نظریں میدان سے ہٹ کر اپنے پیروں میں آجھکیں۔ وہ آج صبح کا مکالمہ یاد کر رہی تھی جب سکندر نے اُس سے کہا تھا کہ ’’میں تمہاری ماں سے تمہارا ہاتھ مانگ لوں گا۔ ‘‘

مارسی شدید بے چین تھی اور آنے والے وقت سے ہراساں تھی ۔ مارسی کی نگاہیں جھکی ہوئی تھی کہ اچانک اُسے سٹیڈیم میں شور سنائی دیا ۔۔۔ زوردار تالیوں کا شور ، مارسی نے چونک کر میدان میں دیکھا تو مارے حیرت کے اپنی نشست پر اُچھل کر رہ گئی ۔ ایک اجنبی نوجوان جس کے جسم پر عربی لباس تھا ، سٹیڈیم کی ایک جانب سے ایک سفید گھوڑے کو ایڑھ لگاتا ہوا داخل ہوا۔ نوجوان کے خدوخال بھی حجازی تھے۔ اُس کے نیچے ترکی نسل کا بہترین گھوڑ اتھا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں ایک بھاری اور چمکدار شمشیر تھی ۔ اُس کے جسم پر نہ ہی زرہ تھی اور نہ ہی پیش قبض۔ اور اُس کے سرپر آہنی خود کی بجائے خالص حجازی طرز کا عمامہ تھا۔ نوجوان کی عمر زیادہ سے زیادہ سترہ برس رہی ہوگی۔ تماشائی پورے جوش سے تالیاں بجا رہے تھے۔ 

اجنبی نوجوان کو آتا دیکھ کر سکندر کے ماتھے پر شکنیں نظر آنے لگیں۔ اُسے اس عرب نوجوان کی آمد پر شدید حیرت تھی ۔ سٹیڈیم کے اعلانچی نے با آواز بلند اعلان کیا اور لوگوں کو بتایا کہ اجنبی نوجوان کا نام ’’قاسم بن ہشام‘‘ ہے۔ یہ حجاز کے شہر ’’مکہ ‘‘ کا رہنے والا ہے۔ جہاں اسلام کا اولین سورج طلوع ہوا۔ اعلانچی نے بتایا کہ قاسم عثمانی تربیت گاہ کے شمشیر زنی کے استاد ’’طاہرین ہشام‘‘ کا چھوٹا بھائی ہے۔۔۔ اس اعلان کے ساتھ ہی سلطان مراد خان ثانی کے چہرے پر بھی حیرت و اشتیاق کی لہر دوڑ گئی۔ اور سلطان کے پہلو میں بیٹھا نو عمر شہزادہ ’’محمد‘‘ بھی حیرت سے چونک اٹھا ۔ لیکن مارسی کی حالت سب سے عجیب تھی ۔ وہ اپنی نشست پر بار بار پہلو بدلتی اور مٹھیاں بھینچ بھینچ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی ۔ 

عرب شہسوار سکندر بیگ کے سامنے آیا تو سکندر نے مسکرانے کی کوشش کی۔ اُس نے عرب شہسوار کو حسب سابق حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ ’’نوجوان ! میں تمہارے چہرے پر جرأت اور بہادری کے نقش دیکھ رہا ہوں ۔ لیکن افسوس !تمہارا تمام تر اعتماد سکندر بیگ کے پہلے وار سے ہی خاک میں مل جائے گا۔ یہ مکہ نہیں ، ترکی سلطنت کا دارالخلافہ ادرنہ ہے۔ اور میں سلطان مراد علی خان ثانی کا سب سے مضبوط شمشیر زن ہوں ۔‘‘

قاسم ، سکندر بیگ کے فرعونیت سے بھرپور لہجے کو محسوس کر کے عارفانہ انداز میں مسکرایا اور پھر انتہائی نپے تلے انداز میں مخاطب ہوا۔ 

’’میں وقت سے پہلے بلند بانگ دعوؤں کا قائل نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے بدن میں ’’خالد بن ولیدؓ ‘‘ کا خون دوڑ رہا ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں آج ایک ترک شہزادے کو حجازی شمشیر کا لوہا دکھا سکوں۔‘‘

قاسم نے اتنا کہا اور اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگادی۔ سکندر پوری طرح تیار تھا۔ قاسم نے تلوار فضا میں بلند کی اور خالص عربی لہجے میں اللہ اکبر کہہ کر سکندر پر ٹوٹ پڑا ۔ سورج کی شعاعیں قاسم کی چمکدار تلوار پر پڑیں اور تماشائیوں کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ییہ محض تلوار کی چکا چوند نہیں تھی ۔ بلکہ آسمانی صاعقہ کی لپک تھی ۔۔۔ قاسم کے تابڑ توڑ حملے سکندر کے لئے ہزیمت کا پیغام تھے۔ سکندر کی تمام چالیں دھری کی دھری رہ گئیں اور وہ مسلسل ہر وار کو اپنی تلوار پر روکنے لگا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ قاسم جلد تھک جائے گا۔ مارسی ، قاسم کے ہروار کے ساتھ اُچھل اُچھل جاتی۔ وہ اب اپنی نشست پر کھڑی ہوگئی تھی ۔ تمام تماشائی چیخ چیخ کر قاسم کو داد دے رہے تھے ۔ سلطان بے ساختہ مرحبا، مرحبا پکار رہا تھا۔ اور شہزادہ ’’محمد‘‘ اپنے شاہانہ مرتبے کو بھول کر بالکل بچگانہ انداز میں تالیاں بجا رہا تھا۔ 

یکلخت قاسم نے نئی چا ل چلی اور اپنے آپ کو تھکا ہوا ظاہر کرنا شروع کردیا۔ سکندر نے قاسم کے وار میں کمزوری محسوس کی تو اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو حوصلہ دیا اور بڑھ کر قاسم پرحملہ کر دیا۔ اب قاسم سکندر کے ہر وار سے اپنی آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہوا محسوس ہوا۔ اُس کا گھوڑا مسلسل اُلٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا اور اُس کی تلوار پے در پے سکندر کے وار سہنے لگی۔ سکند ربھی بری طرح تھک چکا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح جلد از جلد یہ مقابلہ ختم ہو ۔ اچانک قاسم نے گھوڑے کی پشت پر اپنے پاؤں کھینچ لئے اور زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا ۔ اگلے لمحے تماشائی قاسم کا کرتب دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ قاسم نے اپنے بدن کا بوجھ اپنے پیروں پر ڈالا اور ایک جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔ پورا اسٹیڈیم ایک ساتھ تالیوں سے گونج اُٹھا۔ اب دراز قد قاسم سکندر سے بلندی پر تھا اور حملہ کرنے میں اس کی پوزیشن کو فوقیف حاصل تھی ۔ اس نے گھوڑے کی زین پر کھڑے ہوکر پہلا وار اس قدر بھرپور اور زور دار انداز میں کیا کہ سکندر کے چھکے چھوٹ گئے ۔ فرطِ جذبات سے مارسی کی چیخ نکل گئی۔

سکندر بیگ دراز قامت قاسم کے پہلے وار کو ہی نہ سہہ سکا۔ قاسم کی شمشیر کسی آہنی گرز کی طرح سکندر پر گری۔ سکندر نے اپنی تلوار آگے کر کے قاسم کے وار کو روکنا چاہا۔ لیکن ضرب اتنی کاری تھی کہ سکندر گھوڑے کے پشت پر سنبھل نہ سکااور نیچے گرگیا۔ قاسم نے کسی بازی گرکی طرح گھوڑے کی پشت سے چھلانگ لگائی اور سکندر کے سنبھلنے سے پہلے اُس کے سر پر سوار ہوگیا۔ سکندر کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکتی دیکھ کر مارسی کھل اُٹھی۔ سلطان مارے اشتیاق کے خود تالی بجانے لگا۔ 

قاسم نے زمین پر قدم رکھتے ہیں سکندر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سکندر ابھی پوری طرح سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ قاسم نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اُس پر حملہ کردیا۔ اب سکندر کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی ۔ قاسم نے یک لخت پہلو بدلااور اچھل کر سکندر کے بائیں پہلو پر زور دار ضرب لگانے کا جھانسہ دیا۔ سکندر نے تیزی سے تلوار آگے کی لیکن وہ قاسم کی چال نہ سمجھ سکا۔ قاسم نے بائیں پہلو پر حملہ کرنے کی بجائے ہوا میں ہی اپنا ارادہ بدلا اور سکندر کے دائیں بازو پر تلوار کی زوردار ضرب لگائی۔ سکندر کے بازوؤں پر آہنی بازو بند چڑھے ہوئے تھے۔ قاسم کی تلوار نے لوہے کے بازو بند کو کاٹ کر سکندر کے بازو کو معمولی سا چیر ڈالا ۔ خون کے قطرے زمین پر گرے تو یک دم سٹیڈیم میں موجود تماشائی خاموش ہو گئے ۔ قاسم نے صورتحال کی نزاکت پر غور کیا اور ایک لخت اپنے تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ روک دیا۔ وہ سکندر کو پیچ و تاب کھاتا چھوڑ کر چند قدم پیچھے ہٹ آیا ۔ یہاں مقابلے کے جوان ایک قطار میں کھڑے تھے ۔ تمام لوگوں کے چہروں پر حیرت اور اشتیاق کے جذبات ثبت تھے۔ 

قاسم بے خبر انداز میں سٹیڈیم کے تماشائیوں کی جانب دیکھ رہا تھا کہ سکندر بے اصولی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیزی سے قاسم کی جانب لپکا۔ اگر مارسی اپنی نشست سے چیخ کر قاسم کو خبر دار نہ کردیتی تو سکندر یقیناً قاسم کی گردن کاٹ لیتا ۔ قاسم نے مارسی کی چیخ سنی اور ایک لمحے میں صورتحال کا اندازہ کر لیا۔ اگلے لمحے وہ کسی چیتے کی طرح اپنی جگہ پر اُچھلا اور گھوم کر نہ صرف سکندر کے وار سے خود کو بچا لیا بلکہ پوری قوت سے سکندر پر حملہ بھی کر دیا۔ تلواروں کی چھن چھن انتہائی سرعت کے ساتھ سنائی دینے لگی۔ اور پھر تماشائیوں نے دیکھا کہ قاسم کے ایک عجیب و غریب وار سے سکندر کی تلوار اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور کسی چودھویں رات کے چکور کی طرح پھڑ پھڑاتی اوپر کی طرف اُڑاتی چلی گئی۔ اب سکندر خالی ہاتھ تھا۔ قاسم نے بھی تلوار پھینک دی اور سلطان مراد خان ثانی کی موجودگی کا خیال کئے بغیر سکندر پر عراقی فن پہلوانی کا ایک ایسا داؤ آزمایا کہ اُسے زمین سے چند فٹ اوپر اٹھا کر بری طرح پٹخ دیا۔(جاری ہے )

سلطان محمد فاتح ,عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا. قسط نمبر 3 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح