فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر575

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر575
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر575

  

ملکہ موسیقی روشن، آرا بیگم نے ۶ دسمبر ۱۹۸۲ء کو وفات پائی تھی۔ ان کے ’’سایہ نما‘‘ فنکار بھی ڈھونڈے نہیں ملتے اور غضب یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور مغرب زدگی نے اب کانوں کو سریلی آوازوں اور روح کو چھونے والے سروں سے یکسر محروم کر دیا ہے۔ ایک چیخ و پکار، شورو غل اور اچھل کود اور اس سے آگے ساتھ ساتھ عریاں جسموں کے مظاہرے اب موسیقی میں شامل ہوگئے تھے۔ اصلی موسیقی کا اصلی خوارک کی طرح نام و نشان تک نہیں رہا ہے۔

روشن آرا بیگم کے بارے میں ہم پہلے بھی تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ اب اسے شکوہ یا نوحہ سمجھ لیجئے کہ ہم لوگ روشن آرا بیگم کو کتنی جلدی فراموش کو بیٹھے ہیں۔ نئی نسل کے سامنے تو روشن آرا بیگم کا نام لینا بھی ایک معما پیش کرنا ہے۔ ان سے پہلی والی نسل بھی دماغ پر زول ڈال کر کہتی ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر574 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

‘‘روشن آرا بیگم؟ ہاں ۔ کچھ ذہن میں آتا تو ہے۔۔۔کیا یہ کوئی اداکارہ تھیں؟‘‘

جنہیں موسیقی سے دلچپسی ہے اور وہ اس بارے میں جاننا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ معلومات دوبارہ فراہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کم از کم وہ اس نام اور ان کے فن سے آشنا تو ہو جائیں گے۔

روشن آرا بیگم نے زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان اور پنجاب میں گزارا لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کا تعلق کلکتہ سے تھا۔ ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، گھنے سیاہ لمبے بال اور خدوخال اس کے گواہ ہیں وہ کلکتہ والی تھیں اس لیے انہیں موسیقی سیکھنے اور اس میں کمال حاصل کرنے سے کون روک سکتا تھا۔ بچپن ہی سے گانے کی شائق تھیں پھر یہ شوق، لگن، جذبہ اور دیوانگی بن گیا۔ انہوں نے گائیکی میں بڑے بڑے استادوں سے سبق حاصل کیا اور آموختہ یاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ سبق ازبر یاد ہوگیا۔

ان کی آواز کے شعلے اور گائیکی کا جادو آج بھی اتنا ہی مسحور کن اور حیرت انگیز ہے جتنا کہ ان کی زندگی میں تھا۔ افسوس کہ روشن آرا بیگم نے مشینی اور صنعتی دور میں جنم لیا تھا اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں ملاؤں نے موسیقی کو حرام قرار دے رکھا ہے اور شریف گھرانوں میں موسیقی سیکھنے والوں (اور سیکھنے والیوں) کو عجیب نظروں سے دیکھاجاتا ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جس مذہب میں موسیقی کو حرام سمجھا گیا ہے اسی نے برصغیر کے عظیم ترین موسیقاروں اور گویوں کو جنم دیا اور ہندو مذہب جو موسیقی اور رقص کر اپنے مذہب کا ایک حصہ سمجھتا ہے اس معاملے میں مسلمان فنکاروں کی بڑائی اورہ نر مندی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس شعبے میں برصغیر کے قریب قریب سبھی فنکار مسلمان تھے۔ انہوں نے اپنے فن کی جوت سے کروڑوں دلوں کو روشن کیا۔ انہیں کیف و سرور اور دلی مسرت سے ہمکنار کیا۔ خدا جانے اس کے بعد بھی انہیں’’حلال‘‘ ہونے کی سند مل سکتی ہے یا نہیں؟ بہرحال۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کا براہ راست معاملہ ہے۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے۔ کیا عجیب کہ ان سب فنکاروں کو جنت میں داخل ہونے کا حکم جاری کر دے۔ اگر غالب یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ ۔۔۔

کیوں نہ دوزخ کو بھی جنت میں ملا لیں یا رب

سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

تو گانے والے بھی اس قسم کی درخواست بارگاہ خداوندی میں کر سکتے ہیں کہ یا رب ! اہل جنت کی تفریح اور وابستگی کا یہ سامان بھی انہیں فراہم کر دے۔

روشن آرا بیگم جیسی مغنیہ ان سے پہلے کبھی پیدا ہوئی تھی؟اس کا ہمیں علم نہیں ہے مگر ان کے بعد کوئی دوسری روشن آرا بیگم دنیا میں نظر نہیں آئیں۔ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے کہ فنون لطیفہ کے میدانوں میں قحط الرجال کی سی کیفیت ہے۔ روشن آرا بیگم۔۔۔ابھی نو عمر ہی تھیں کہ بڑے بڑوں کو اپنی گائیکی سے حیران کر دیا کرتی تھیں اور یہ بنگال میں ہوتا تھا جو کہ موسیقی کا گہوارہ ہے۔

وہ قیام پاکستان سے قبل بھی لاہور آئی تھیں کہ اس شہر کو موسیقی کا مرکز خیال کیا جاتا تھا۔ دراصل وہ آل انڈیا ریڈیو لاہور سے پروگرام پیش کرنے کے لیے لاہور آئی تھیں۔ جس نے کلاسیکی موسیقی کے فروغ کے سلسلے میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ بخاری صاحب کا زریں دور تھا۔ اب صرف اس کی یادیں رہ گئی ہیں۔

اس زمانے میں بھاتی گیٹ کیا ندر محلہ پیر گیلانیاں میں چن پیر کا آستانہ بھی تھا جو موسیقاروں کی زیارت گاہ تھا۔ یہاں برصغیر کے بڑے برے موسیقار دور دور سے آکر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے اور ہنر مند استادوں سے سیکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ریڈیو سے ان کا پروگرام پیش کیا گیا تو اعلان کیا گیا کہ بمبئی والی روشن آرا بیگم اپنا فن پیش کریں گی۔ انہیں بمبئی والی اس لیے کہا گیا کہ وہ ۱۹۳۰ء میں کلکتہ سے بمبئی چلی گئی تھیں اور ان کے فن کی اصل نشو نما اسی شہر میں ہوئی تھی۔ (یہ شہراب ممبئی کہلاتا ہے ) ان کی جائے پیدائش بھی بمبئی ہی تھا۔ وہاں منتقل ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان کے استاد عبدالکریم خاں بمبئی میں مقیم تھے۔ روشن آرا بیگم کئی سال تک استاد بعدالکریم خاں سے موسیقی سیکھتی رہیں۔

سعید ملک صاحب جو عہد نوجوانی سے موسیقی کے رسیا رہے ہیں انہوں نے بڑی بڑی یادگار محفلوں میں شرکت کی ہے اور ایسی ہستیوں کو روبرو بیٹھ کر سنا ہے جو اب قصہ کہانیاں بن چکے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ ۱۹۴۱ء میں روشن آرا بیگم لاہور آئی تھیں اور چن پیر کے آستانے پر ایک محفل میں بڑے بڑے نامور موسیقاروں کے سامنے جب انہوں نے آواز بلند کی تو سب ان کا فنکارانہ ہنر مندی پر حیران رہ گئے۔ ان کی آواز سریلی، نغمہ ریز اور تاثر سے بھرپور تھی۔ وہ اپنی آواز کے ذریعے ہر قسم کا تاثر پیدا کرنے پر قادر تھیں۔ مشکل سے مشکل استھائی اور انترہ اس قدر آسانی اور روانی سے گاتی تھیں جیسے ندی بہہ رہی ہو۔

روشن آرا بیگم کو معلوم تھا کہ وہ جس فن کو سیکھنے جا رہی ہیں اس کے لیے ان تھک اور جان لیوا محنت اور مسلسل طویل ریاض کی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کے دوران میں آواز اور راگ راگنی پر عبور حاصل کرنا پڑتا ہے۔ وہ بھرپور آواز سے گاتی تھیں۔ مشکل اور باریک ترین، سر طرز اور تانیں انتہائی آستانی سے کسی کاوش کے بغیر ادا کر سکتی تھیں۔ مرکیاں ، پلٹے، آواز کا اتار چڑھاؤ اور دیر تک ایک ہی سر پر قائم رہنا بہت مشکل کام ہے لیکن روشن آرا بیگم کے لیے یہ بالکل سہل تھا پھر ان کی گائیکی کا ایک منفرد انداز تھا۔ وہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۸۲ء تک اپنے سروں کا جادو جگاتی رہیں۔ عمر اور وقت نے ان کی آواز اور فن کو چھوا تک نہیں تھا۔ ان کی آواز میں وہی نوجوانی کی چمک، اٹھان، ٹھاٹھ اور بھرپور تاثر تھا اور آخر وقت تک قائم رہا۔ لے کاری میں بھی ان کا جواب نہیں تھا۔ موسیقی میں وہ کیرانہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ خصوصاً خیال اس خوبی سے گاتی تھیں کہ بڑے بڑے استاد داد دینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ یہ فن انہوں نے استاد عبدالکریم خان اور ان کے عم زاد استاد عبدالوحید خاں سے سیکھا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر576 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -