تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کے ممکنہ خدوخال (2)

تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کے ممکنہ خدوخال (2)
تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کے ممکنہ خدوخال (2)

  

جہاں تک میری ناقص رائے کام کرتی ہے، یہ آپریشن بھی ویسا ہی ہو گا جس طرح کسی اصل جنگ میں کسی خارجی دشمن کے خلاف کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کا سکوپ، کسی روایتی دشمن کے خلاف آپریشن سے بھی آگے نکل جائے۔

فوج کی تیاریاں جیسا کہ مَیں نے سطور بالا میں ذکر کیا تھا، ایک عرصے سے مکمل ہو چکی ہوں گی، ان کی تدریجی اَپ ڈیٹنگ بھی،مرور ایام کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔

کسی بھی آپریشن کی منظوری، جمہوری حکومتوں میں سویلین اتھارٹی کے پاس ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ اتھارٹی وزیراعظم کے پاس ہے۔ جب وہ فائنل ”یس“ (Nod)کر دیں گے تو سارا وزن آرمی چیف (یعنی آرمی) پر آ جائے گا۔

آرمی، ہیڈ کوارٹرز، آپریشنز آرڈرز سے پہلے آپریشنز انسٹرکشز جاری کرتا ہے۔ یہ ہدایات یا انتباہات گویا فوج کے ان حصوں کو پیشگی خبردار کر دیتا ہے کہ جن کو آپریشن کنڈکٹ کرنا ہوتا ہے۔ اس پیش آگاہی کا سکوپ ملٹری آپریشن کے تخصیصی نہیں، عمومی پہلوﺅں کو محیط ہوتا ہے۔

اس کے بعد آپریشنز آرڈرز (Ops Orders) جاری کئے جاتے ہیں جس میں تفصیل سے درج ہوتا ہے کہ کس فارمیشن نے کیا کرنا ہے، اس کی مدد کن کن Segments نے کرنی ہے۔ آپریشنوں کا علاقہ کون سا ہے، اہداف کون کون سے ہیں، کس فارمیشن نے کہاں جا کر رکنا ہے، کہاں مزید آگے کی کارروائی کے لئے کس سے رجوع کرنا ہے، شروعات (D-Day) کب ہوں گی۔ ساعتِ حملہ (H-Hour) کیا ہو گی، توپخانے کے فائر کھولنے کا وقت اور پھر لفٹ کرنے کے اوقات کیا ہوں گے، ایر فورس کے استعمال کا سکیل اور سکوپ کیا ہو گا۔ دشمن کی شکست کی صورت میں ماپ اَپ (Mop-up) اور تعاقب (Pursuit) کا ٹاسک کیسے انجام دیا جائے گا.... یہ اور اس قسم کی موٹی موٹی باتیں، تمام متعلقہ فارمیشن کمانڈروں کو ارسال کر دی جائیں گی جو ان آرڈرز کے تحت اپنی ماتحت یونٹوں کو تخصیصی (Specific) مقصودات (Objectives)دیں گے وغیرہ وغیرہ۔

علاوہ ازیں جانی نقصانات اور اسلحی نقصانات کا ایک ممکنہ حساب کتاب بھی لگایا جائے گا، زخمیوں کے علاج معالجے کا ایک بندھا ٹکا طریقہ ¿ کار فوج میں رائج ہے جو فوج کی ہر فارمیشن اور یونٹ کو معلوم ہے۔ اس موضوع پر مزید بحث کرنا یا مزید تفصیلات کا ذکرکرنا شائد ضروری نہ ہو۔ قاری اپنے تصور کو کھینچ کر خود بھی کئی اندازے لگا سکتا ہے۔

 میرے خیال کے مطابق طالبان کے خلاف اس آپریشن کی تکمیل مندرجہ ذیل دو طریقوں سے کی جا سکتی ہے:

(1) Targetted یا Selected آپریشن۔

(2) All out آپریشن

جہاں تک Targetted آپریشن کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ مثلاً اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنا ہے تو میرن شاہ کے آس پاس کے علاقوں کی ایک بریکٹ بنا دی جائے اور اس کو کلیئر کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی فوج کے کسی اور دستے کو اس مقام (میرن شاہ) سے آگے پیچھے کسی اور مقام کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک دے دیا جائے کہ جہاں معلوم ہو کہ طالبان کا گڑھ ہے یا ان کا اسلحہ ڈپو ہے یا ان کا ٹریننگ ایریا ہے یا مستور گاہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔.... یہی ٹارگٹڈ آپریشن ملک کے دوسرے حصوں مثلاً مہمند ایجنسی، کراچی، شانگلہ وغیرہ میں بھی کئے جا سکتے ہیں۔

دوسری قسمAll out آپریشن کی ہے، یعنی ایک بڑے علاقے کو یکبارگی Sweep کر دیا جائے۔ لیکن ایسا کرنے میں سب سے زیادہ اندیشہ بے گناہ (یا گنہ گار؟) سویلین آبادیوں کے جانی نقصان کا ہو گا۔ مگر دوسری طرف اگر ان آبادیوں کو نکل جانے کا انتباہ کر دیا جائے تو آپریشن کی پوشیدگی اور اس کا اخفا (Secrecy) باقی نہیں رہتا۔ بے گناہ عورتوں، بچوں اور بزرگوں کے ساتھ گمراہ نوجوان اور باغی طالبان بھی نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ فوج کو نہایت سوچ سمجھ کر کسی ایک طریقے کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ قبل ازیں جنوبی وزیرستان اور سوات میں آبادیوں کو باہر نکال کر آپریشن کیا گیا تھا جو بڑی حد تک کامیاب رہا تھا۔ لیکن بڑی بڑی مچھلیاں (نام لینے کی ضرورت نہیں) پہلے ہی نکل کر افغانستان چلی گئی تھیں۔

حال ہی میں ترکی میں جو تین سربراہوں (نواز شریف صاحب، کرزئی صاحب اور اردگان صاحب) کی کانفرنس ہوئی تھی، اس میں اس پہلو پر اتفاق کر لیا گیا تھا کہ افغانستان، اس آپریشن کی کامیابی کے لئے پاکستانی طالبان کے لئے اپنی بانہیں دراز نہیں کرے گا۔ اس سلسلے میں ”باہر“ کے لوگوں کی آمدو رفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ پھر بھی افغانستان اور پاکستان کا بارڈر نہایت وسیع و عریض (پورس) ہے۔2500کلو میٹر طویل اس بارڈر پر دو درجن مقاماتِ عبور موجود ہیں جن کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افغاستان کے ارباب ِ اختیار اگر ساتھ دیں تو پاکستانی علاقوں سے اچھلی ہوئی طالبانی نفری کو جائے فرار ڈھونڈنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

خیال ہے کہ اس آپریشن کے ہر اول میں پاک فضائیہ کو استعمال کیا جائے گا۔ اس موضوع پر بہت تفصیل سے بحث ہو سکتی ہے لیکن اس کی گنجائش نہیں۔ ہاں اتنا عرض کرنا شائد ضروری ہو کہ فضائیہ کے استعمال کو زیادہ محدود نہ کیا جائے۔ اس آپریشن کی نصف کامیابی کا انحصار پاک فضائیہ کےOptimum استعمال پر ہو سکتا ہے۔

پاک آرمی کے پاس ہیلی کاپٹروں کا جو فضائی بیڑا ہے، اس کا استعمال بھی بھرپور طریقے سے کیا جائے۔ اور اس سلسلے میں بھی کسی ”نرمی“ سے گریز کیا جائے۔ روز روز کے رونے سے ایک روز کا رونا، قوم کو قبول کر لینا چاہئے۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ اس آپریشن کی تکمیل میں امریکہ، یورپی یونین اور ناٹو وغیرہ کو بھی پیشہ ورانہ مشاورت اور معاونت میں حصہ دار بنائے۔ عمران خان صاحب کے غبارے کی ہوا حالیہ طالبانی حملوں نے نکال دی ہے۔ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز آ جائیں۔ دائیں بازو کی وہ جماعتیں جن کا موقف (Stance) ہم صبح و شام میڈیا پر سنتے ہیں، ان کو بولنے دیا جائے، ان کو روکنا مزید ”خرابی“ کا باعث ہو گا۔

اس آپریشن کے نزدیک تک بھی کسی میڈیا ٹیم کو نہ آنے دیا جائے، ورنہ یہ لوگ ”پانی کا گلاس“ پینے کے بعد تازہ دم ہو کر پھر سٹیج سجا دیں گے!

پاکستان آرمی کو ”ڈرونوں“ کے استعمال کی آپشن پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ہم ایک عرصے سے امریکہ سے ڈرون ٹیکنالوجی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ان پر زیادہ زور ڈالا جائے۔ 2014ءکا31دسمبر اب زیادہ دور نہیں رہ گیا۔ ان سے کہا جائے کہ وہ اپنی سٹیٹ آف دی آرٹ وہ ڈرون ٹیکنالوجی نہ دیں، جو ان کے مسلح ڈرونوں سے عبارت ہے۔ لیکن حصول انٹیلی جنس کے لئے وہ ٹیکنالوجی تودیں جو دسمبر2014ءتک ان کی اپنی افواج کے انخلاءمیں بالواسطہ مدد دے گی۔ میرا خیال ہے امریکی اس نکتے کو سمجھ جائیں گے اور پاکستان آرمی کو نیم مسلح ڈرون ٹیکنالوجی کی شد بد دینے سے شائد گریز نہیں کریں گے۔.... ذرا یاد کریں انہوں نے سٹنگر بھی تو دے ہی دیئے تھے۔ سٹنگر (Stinger) اور پری ڈیٹر (Predator) اپنی بیٹل فیلڈ اہمیت کے پیش ِ نظر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔.... ایک اینٹی ائر ہے تو دوسرا اینٹی گراﺅنڈ ہے!

اب سب سے آخر لیکن سب سے اہم بات یہ کہنی ہے کہ پاکستان کی سویلین ایڈمنسٹریشن کو پاک فوج کے جلو میں چلے آنے سے گریز کی پالیسی تبدیل بلکہ ترک کر دینی چاہئے۔

ٹارگٹڈ آپریشن ہو یا آل آﺅٹ، فوج جب اپنا رول نبھا چکتی ہے تو سول ایڈمنسٹریشن کا رول شروع ہوتا ہے۔ موخر الذکر پہلو ہمارا یہی وہ کمزور ترین پہلو ہے جس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مَیں تو یہاں تک جاﺅں گا کہ اگر غیر ملکی معاونت کی افرادی امداد بھی لینی پڑے تو پاکستان کو ایسا کرنے سے اجتناب نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہم نے واقعی طالبان ”مائنڈ سیٹ“ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تو یہ کام سول ایڈمنسٹریشن کا ہے۔ فوج تو میدان جنگ میں اُگا ہوا جھاڑ جھنکار اور کانٹے دار درختوں کے جھنڈ، گراﺅنڈ لیول تک صاف کر دے گی، لیکن فوج زمین کھود کر کانٹے دار درختوں کی جڑیں صاف نہیں کر سکتی۔ یہ کام وقت مانگتا ہے جو فوج افورڈ نہیں کر سکتی۔ بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں ہماری مدد کرنی چاہئے۔ یہ مدد ”دامے، سخنے، اسلحے، سازو سامانے اور افرادے“ تک جانی چاہئے۔

مَیں ایک چھوٹی سی مثال سے اپنا مطلب واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

روزنامہ ”بزنس ریکارڈر“ پاکستان کا ایک معروف اخبار ہے جس کی خبریں زیادہ تر اقتصادیات اور معاشیات کے موضوعات کو محیط ہوتی ہیں۔ 17فروری 2014ءکا یہ اخبار میرے سامنے ہے جس میں ”پلڈاٹ“

Pakistan Institute of Legislative Development and Transparency

کے بارے میں ایک خبر ہے جو قارئین کو دینی مقصود ہے۔

یہ ”پلڈاٹ“ ایک فارن فنڈڈ NGO ہے جس کا کام پاکستان میں جمہوریت کا فروغ اور قانون کی شفافیت ہے۔ اس کے چارٹر میں اس کا جو مشن بتایا گیا ہے، وہ ”پاکستان میں جمہوری اداروں اور جمہوریت کی مضبوطی“ ہے۔ اس ادارے کی بنیاد پاکستان میں 2001ءمیں رکھی گئی۔ وہ دور ایک فوجی آمر کا دور تھا۔ اسNGO نے واقعی بحالی ¿ جمہوریت اور پھر استحکام جمہوریت میں کافی کام کیا۔ کئی کتابیں، پمفلٹ، سیمینار (بمعہ انتظاماتِ قیام و طعام برائے شرکائے سیمینار) منعقد کروائے۔ کئی وفود باہر کے ملکوں میں بھیجے۔ سول ملٹری روابط پر اس ادارے کی خاص نگاہ رہی۔ راقم السطور ایک عرصے سے اسNGO کی کارکردگی کی پیشرفت بغور دیکھ رہا ہے اور ”خوش“ ہو رہا ہے۔ پہلے اس کا آفس لاہور میں ہوتا تھا۔ اب اسلام آباد میںF-8/3 میں ہے۔ پاکستان میں اس کے روح رواں احمد بلال محبوب صاحب ہیں مگر ان کے روح رواں ڈنمارک میں بیٹھے ہیں۔

اس برس ڈنمارک والوں نے اس ادارے کے لئے ساڑھے تین ملین ڈالر اسلام آباد بھیجے ہیں تاکہ نوجوانان ِ پاکستان کو جمہوریت کے ”حُسن“ کا درس دے کر ایک نئی کھیپ تیار کی جائے۔.... کُل پیکیج 50ملین ڈالر کا ہے جس کو آپ خود پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر لیں۔

میرا اس NGO کو بیچ میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ باہر والے لوگ” استحکام جمہوریت“ کے نام پر تو کروڑوں ڈالر ارسال فرما رہے ہیں لیکن پاکستانی معاشرے کو طالبنائزیشن سے بچانے کے لئے کوئی ایسا ”پلڈاٹ“ قائم نہیں کرتے جو جمہوری پاکستان کو ”اصل استحکام“ سے ہمکنار کر سکے۔ طالبان، پاکستان میں شریعت چاہتے ہیں.... وہ اسلامی شریعت جو ڈنمارک کی سوسائٹی کی عین ضد ہے۔ کہاں اسلامی شریعت اور کہاں ڈنمارکی مادر پدر آزادی اور سماجی برہنگی؟

پلڈاٹ کی طرح کے کئی اورNGOs بھی ہیں جو اس کارِ خیر میں پاکستانی جمہوریت کو ”استحکام“ بخش رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ان سے بھی مذاکرات کرے اور پاکستان کے لئے کوئی ”تجویز ِ عافیت“ تلاش کرے۔ لیکن ساتھ ہی ان پر یہ بھی واضح کرے کہ پاکستان کے لبرل اسلامی معاشرے کو سینکڑوں ہزاروں ”پلڈاٹ“ مل کر بھی ڈنمارکی معاشرے میں تبدیل نہیں کر سکتے! .... ڈنمارک کا معاشرہ ایک انتہا ہے جس کی دوسری انتہا پاکستانی طالبانی معاشرہ ہے۔ خبر نہیں ”پلڈاٹ“ والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں یا نہیں۔

مزید : کالم