سپریم کورٹ کا کردار اور ہماری جمہوریت 

سپریم کورٹ کا کردار اور ہماری جمہوریت 
سپریم کورٹ کا کردار اور ہماری جمہوریت 

  

نئی قانون سازی کے ذریعہ سے نظام عدل کی اصلاح پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے بصورت دیگر پارلیمنٹ کو معطل کر کے قومی حکومت کے قیام کے ذریعے تبدیلی نظام کی ٹھوس بنیاد رکھ کر آئین و قانون اور قومی و ملکی نظام میں تبدیلی کا حکم جاری کر کے مخلوق خدا کو اس ظلم و جبر کے نظام سے نجات دینی ہو گی۔سچ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ اپنے جمہوری کردار میں بری طرح ناکام جا رہی ھے۔جہاں ہر دور میں مقتدر طبقات نے اپنے مفادات کو تحفظ جب کے غریب عوام کے حقوق کو غصب کیا اور کر رہے ہیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنا پورا زور اور صلاحیتیں صرف کر کے تاریخ میں پہلی بار عدلیہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی مگر وہ باوجود کوشش کے نظام عدل اور عدالت کی عزت و وقار کو مجروح ہونے سے نہ بچا سکے۔ آنے والے چیف جسٹس صاحب کو اپنے ادارے کی عزت و توقیر کی بحالی اور عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جو ناگزیر ہیں۔ملکی استحکام اور ظلم و جبر کے خاتمے کے لئے عدالتی کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔پارلیمنٹ اکھاڑے کا کردار ادا کر رہی ہے جہاں صرف طاقت و اقتدار کے حصول کی جنگ چل رہی ہے۔عوام کے حق میں آئین یا قانون سازی اس پارلیمنٹ کی ترجیع میں شامل ہی نہیں ہے۔ 

ملکی بقاء اور سلامتی کے لئے لازم ہے کہ ادارے اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے بگڑی ہوئی قومی ،سیاسی اور آئینی کمزوریوں کا ازالہ کریں۔اور پاور پالیٹکس سے نکل کر اصلاح احوال کا فریضہ سر انجام دیں۔موجودہ کرپٹ نظام جس انتہاء پر پہنچ چکا ہے اس نظام سے عوامی مایوسی بھی انتہاوں کو چھو رہی ھے۔خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اب بھی اگر قوت و اقتدار کی یہ جنگ یونہی جاری رہی اور اصلاح احوال کی طرف توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کسی بہت بڑے قومی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہرصورت آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے اور پارلیمنٹ کے مثبت کردار کے تعین کے لئے اپنے اختیارات کو استعمال میں لانا ہو گا۔کسی ایک ادارے کو آگے بڑھ کر قومی و ملی جزبے کا ثبوت دینا ہو گا۔ اس وقت سپریم کورٹ ہی ایک ایسا ادارہ ہے جو اگر اپنے جائز اختیارات کا استعمال ایمانداری سے کرے تو اس بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے۔بصورت دیگر حالات خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر سکتے ہیں۔پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ اس نظام سلطنت میں اب خیر کی امید باقی نہیں بچی۔نظام ریاست میں واضع تبدیلی لائے بغیر عوامی حقوق کی پامالی نہیں روکی جا سکتی۔ دیکھا اور آزمایا جاچکا ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں کے پاس وہ صلاحیت ہی موجود نہیں کہ وہ اس نظام کی چال در چال کو ناکام بنا سکیں۔کرپٹ نظام سلطنت نے ہر ادارے کو دوسرے ادارے کے مقابل کھڑا کر رکھا ہے۔اور ہر ادارہ اپنی قوت و اختیارات کی بقاء کی جنگ میں مصروف ملکی بقاء سے کھیل رہا ھے۔تباہی کے اس کھیل کو روکنا ہوگا اور سپریم کورٹ کو وسیع تر قومی اور عوامی مفاد میں اپنے اختیارات استعمال کرنے ہوں گے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -