اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 118

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 118

  

خیمے کے باہر مجھے گھنٹی بجنے کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔ گھنٹی کے بجتے ہی باہر سے ایک سپاہی تیزی کے ساتھ اندر آگیا۔ سینا پتی نے اسے انگلی اٹھا کر اشارہ کیا۔ سپاہی اسی تیزی سے باہر نکل گیا۔ خیمے میں ایک بار پھر وہی پراسرار خاموشی چھاگئی۔ سینا پتی بولا۔’’جوگی میں نے دھرم شاستروں میں پڑھا ہے کہ شیو شنکر کے پجاریوں پر سانپ کا زہر اثر نہیں کرتا۔ کیا تمہارے جسم پر بھی سانپ کا زہر اثر نہیں کرتا؟‘‘

میں نے جواب دیا ’’جب میں شیو شنکر کے دھیان میں ہوتا ہوں تو مجھ کو چاہے جس قدر زہریلا سانپ ڈس جائے مجھ پر اس کے زہر کا اثر نہیں ہوگا۔‘‘

سینا پتی نے کہا ’’تو پھر اپنے شیو شنکر کا دھیان شروع کر دیجئے کیونکہ آپ کے امتحان کے لئے میں نے ہندوستان کا سب سے زہریلا سانپ منگوایا ہے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 117 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میں تیار ہوں عظیم سیناپتی۔‘‘

او رمیں نے یونہی الٹ پلٹ اشلوک پڑھنے شروع کردئیے۔ اتنے میں وہی سپاہی خیمے میں واپس آیا۔ اس نے ہاتھوں میں ایک پٹاری اٹھا رکھی تھی پٹاری رگھوناتھ سہائے کے حکم سے میری چوکی کے آگے رکھ دی گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ مادھوی کچھ پریشان سی ہے۔ میں نے اسے کچھ نہ کہا اور آنکھیں بند کئے اشلوک پڑھ کر یہ ظاہر کرتا رہا کہ میں شیو شنکر کے تصور میں گم ہورہا ہوں۔ پھر میں نے آنکھیں کھول دیں اور رگھوناتھ سہائے سے کہا

’’مہاراج میں امتحان کے لئے تیار ہوں۔‘‘

وہ بولا ’’تو پھر کس کا انتظار ہے۔ پٹاری کھولو۔ کالے ناگ سے اپنا آپ ڈسواؤ تاکہ تمہاری اصلیت ظاہر ہوسکے۔‘‘

میں نے پٹاری کا ڈھکن اٹھادیا۔ اف میرے خدا! کیا سانپ تھا۔ اس کے پھن کے اوپر اوپر لمبے سرکنڈوں جیسے بال تھے اور اس کی گلابی دو شاخہ زبان بار بار لہرا رہی تھی۔ لیکن میرے لئے وہ ایک بے ضرر کیڑا تھا۔ میں بھی نمائش کے طور پر ہری اوم کا جاپ کرنے لگا او رپھر ہاتھ بڑھا کر اپنی کلائی سانپ کے پھن کے آگے کردی۔ سانپ نے فوراً میری کلائی پر ڈس لیا۔ گائیکہ مادھوی اور رگھوناتھ سہائے مرہٹہ سینا پتی کی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں نے سونپ کو اپنی گردن میں ڈال لیا۔ سانپ نے ایک بار مجھے گردن پر بھی ڈسا۔ جب سانپ مجھے تین بار ڈس چکا تو میں نے اسے گردن سے اتارا اور سینا پتی کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’عظیم سینا پتی! کیا اب بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی؟ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تمہارے سب سے زہریلے سانپ نے مجھے تین بار ڈسا مگر مجھ پر اس کے زہر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔‘‘

مادھوی نے اٹھ کر میرے پاؤں چھوئے۔ ناستک رگھوناتھ سہائے نے ایسی کوئی حرکت نہ کی۔ وہ اپنی مسند پر اسی کروفر کے ساتھ بیٹھا اپنی مونچھوں کے کنارے مروڑتا رہا۔ مگر وہ مجھ سے متاثر ضرور ہوا تھا۔ کہنے لگا۔’’تم سچے تیاگی ہو۔ یہ گن اور یہ شکتی تم نے اپنی تپسیا سے پید اکرلی ہے۔‘‘

میں نے سانپ کو پٹاری میں بند کردیا۔ جسے سپاہی اٹھا کر لے گیا۔ اب سینا پتی میری طرف خاص انداز سے متوجہ ہوا۔ وہ اٹھا اور مسند کے گرد دو چکر لگا کر اچانک میری طرف پلٹ کر بولا۔

’’جوگی! تمہیں مادھوی نے سب کچھ بتادیا ہوگا۔ پہلی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے تم آکاش کے دیوتا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر تم نے میرے اس راز کو کسی پر ظاہر کیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ کیا تم وعدہ کرتے ہو کہ میرے اس راز کو اپنے تک ہی رکھو گے؟‘‘

’’میں وعدہ کرتا ہوں سینا پتی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’تو پھر مجھے بتاؤ کہ میں اپنی ناگن بیوی اور اس کی ناگن ماں سے کیسے نجات حاصل کرسکتا ہوں یہ دونوں میرے بچوں کو کھاجائیں گی۔ میں ایک ناگن بیوی اور ساس کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ میں مادھوی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو میری بیوی چالکا جو اصل میں ناگن ہے ہم دونوں کو ڈس لے گی کیونکہ ویدوں میں لکھا ہے کہ جو ناگن سو برس کی ہو کر عورت کا روپ اختیار کرلے وہ مرنے کے بعد پھر سے ناگن بن جاتی ہے۔‘‘

ہندو لشکر کا سینا پتی اس طرف ہی آرہا تھا جس طرف میں اس کو لانا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں اس کی ناگن بیوی اور ساس کو اپنے آتشی اشلوکوں سے اس طرح بھسم کر ڈالوں گا کہ وہ دوبارہ جنم نہیں لے سکیں گے۔ رگھوناتھ۔۔۔ میرے قریب آکر میرے سامنے والی چوکی پر بیٹھ گیا اور مادھوی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا۔

’’اگر تم مجھے ان ناگنوں سے نجات دلانے میں کامیاب ہوگئے تو میں تمہیں سونے جواہرات سے مالا مال کردوں گا۔ تم میرے مہامنتری ہوگے۔‘‘

میں مسکرادیا۔ ’’مہاراج۔ ہم جوگی تیاگی، سنیاسی لوگ ہیں ہم آپ کے دو بچھڑے ہوئے دلوں کو ہمیشہ کے لئے ملادیں گے اور چلے جائیں گے۔ ہمیں مال و دولت کی خواہش نہیں ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کو کیا کرنا ہوگا۔کل صبح آپ اپنے اس خیمے میں اپنے لشکر کے سارے سپہ سالاروں کو جمع کریں۔ یہاں ایک دعوت ہوگی اس دعوت میں آپ کی بیوی چالکا اور ساس بھی شامل ہوگی۔ آپ اعلان کریں گے کہ مسلمانوں کے قلعے پر حملے سے پہلے آپ ایک یگنہ ہون کررہے ہیں۔ میں اس ہون میں مقدس ویدوں کا پاٹھ کروں گا۔ اس دوران میں ایک خاص منتر پڑھ کر آپ کی بیوی چالکا اور اس کی ناگن ماں پر پھونک دوں گا۔ اس منتر کے اثر سے وہ دعوت کے ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد جب اپنے خیمے میں جائیں گی تو شعلہ بن کر بھسم ہوجائیں گی۔‘‘

رگھوناتھ سہائے نے کہا کہ اس دعوت میں لشکر کے دوسرے سالاروں کو بلانا کیا ضروری ہے؟ میں نے کہا کہ میرا خفیہ منتر پھر ہی کام کرے گا جب دعوت میں میرے سامنے اعلیٰ ذات کے لوگ جمع ہوں گے۔ رگھوناتھ مان گیا۔ اسے کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ اپنی فوج کے باقی سپہ سالاروں سے وہ اکثر خیمے میں ملتا ہی رہتا تھا۔ کل کا دن طے ہوگیا اور میں مادھوی کے ساتھ واپس اس کے خیمے میں آگیا۔ اس وقت ابھی ایک ایک پہر دن باقی تھا۔ میں اپنے خفیہ منتر کا ابھیاس کرنے کے بہانے جنگل میں نکل گیا۔

میرا مقصد اس ویرانے میں گھوم پھر کر ایک خاص قسم کی بوٹی حاصل کرنا تھا۔ یہ بوٹی میں ہندوستان کے جنگلوں میں دیکھ چکا تھا۔ اس کی تاثیر انتہائی مہلک تھی اگر اس بوٹی کے بیج پیس کر اس کا سفوف پانی یا مشروب میں ملا کر کسی کو پلادیا جائے تو وہ پینے کے دو گھنٹے بعد مر جاتا تھا۔ جنگلی جھاڑیوں میں گھومتے پھرتے آخر ایک جگہ مجھے یہ زہریلی بوٹی نظر آگئی۔ میں نے اس کے پوست کی طرح کے خشک پھل توڑ کر اس کے بیج اکٹھے کئے۔ وہیں ایک جگہ پتھر پر انہیں رگڑ کر سفوف بنایا۔ اس پوٹلی میں باندھا اور واپس مادھوی کے خیمے میں چلا آیا۔ دوسرے دن سینا پتی رگھوناتھ سہائے نے یہ کہہ کر اپنے تینوں سپہ سالاروں کو خیمے میں طلب کرلیا کہ وہ قلعے پر حملے کی تیاری کے سلسلے میں ایک ہون کررہا ہے۔ سپہ سالاروں نے تعجب کا اظہار کیا کہ وہ تو ان باتوں پر اعتقاد نہیں رکھتا۔ سینا پتی نے کہا کہ وہ ایسا اپنی بیوی چالکا کے کہنے پر کررہا ہے جس کا خیال ہے کہ اس ہون کے بعد لاہور کا قلعہ فتح ہوجائے گا۔

ایک پہر دن ڈھلے رگھوناتھ سہائے کے خیمے کے وسط میں آگ روشن کردی گئی۔ میں نے اپنی نگرانی میں مقدس مشروب تیار کروایا تھا جس میں موقع پاکر بوٹی کا زہر ملا دیا تھا۔ اپنے خیمے سے چلنے سے پہلے میں نے ارنڈ کے تیل میں ایک خاص بوٹی کا ست ملا کر ایک پیالی خود بھی پیا اور مادھوی کو بھی یہ کہہ کر پلادیا کہ یہ مقدس مشروب ہے اس سے دیوتا مہربان ہوکر دھرتی پر اتر کر ہمارے پاس آجائیں گے۔ اس دوائی میں یہ تاثیر تھی کہ اگر اسے بھی زہریلا مشروب پینا پڑگیا تو اس پر بوٹی کا زہر اثر نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے خود اس لئے پیالہ پیا تھا کہ مادھوی کو کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 119 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار