پاک آرمی کا ایک اور سپوت شہید!

پاک آرمی کا ایک اور سپوت شہید!
پاک آرمی کا ایک اور سپوت شہید!

  

اگر آپ دنیا جہان کی خبروں اور سیاسی تبصروں وغیرہ سے مستفید ہونا چاہیں تو آج ہر جگہ اس کے وسیع اور اَن گنت امکانات موجود ہیں۔۔۔بشرطیکہ آپ کے پاس وائی فائی کی سہولت موجود ہو!

بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز میں وائس آف امریکہ (VOA)، بی بی سی اور رشین ٹی وی (RT) کی Apps موجود ہیں۔ ان کے علاوہ چین نے بھی اب انگریزی زبان میں اپنی نشریات کا معیار بہتر بنا لیا ہے۔

لیکن چائنا گلوبل ٹیلی ویژن (CGTN) اور چائنا نیوز کے اینکر حضرات و خواتین ایسے لب و لہجے میں انگریزی بولتے ہیں جیسے ہمارے پاکستان میں مجھ جیسے پنجابی، اپنی انگریزی کی لسانی قابلیت بگھارنے کے لئے انگریزی بولتے ہیں یا امرتسر کے سکھ جب کینیڈا جاتے ہیں تو وہاں اپنے سکولوں / کالجوں میں پڑھی اور سیکھی انگریزی بول کر اہلِ کینیڈا کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

روس کا ایک اور چینل سپتنک (Sputnik) کے نام سے بھی گلوبل خبروں کو انگریزی زبان میں دیتا اور نشر کرتا ہے۔ جاپان کا ایک انگریزی چینل این ایچ کے (NHK) ہے جس کے اینکرز، چینی زبان کے چینلوں کے برعکس بڑی اچھی انگریزی بولتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں مغربی یورپ اور امریکہ کے جو ابلاغی اثرات ہیں، وہ چین میں نہیں۔ چنانچہ ٹوکیو اور بیجنگ کے میڈیا ہاؤسز جو خبریں اور تجزیئے فراہم کرتے ہیں ان میں سیاسی تعصبات کی لاگ ضرور ہوتی ہے۔

جہاں تک پاکستان کے ہمسایہ ممالک کا تعلق ہے تو انڈیا کے تمام چینل آپ کی دسترس میں ہیں۔ ان میں انگریزی اور ہندی چینلوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ایران پریس ٹی وی (Press TV) آپ کو ایران کی مقامی خبروں سے بھی آگہی فراہم کرتا ہے اور ان بین الاقوامی خبروں کو بھی دکھاتا اور سنواتا ہے جن کا تعلق اینٹی عرب (بالخصوص اینٹی سعودی عرب) موضوعات سے ہوتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے بارے میں جو خبریں نشر کی جاتی ہیں یا ایرانی پرنٹ میڈیا میں دی جاتی ہیں، وہ اول تو شاذ و نادر دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو ان میں انڈین نقطہ ء نظر کی سپورٹ کی جھلکیاں دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ فارسی اور انگریزی زبان کے وہ روزنامے جو تہران، مشہد، آبادان، اصفہان، شیراز اور تبریز سے شائع ہوتے ہیں وہ بھی آپ کی دسترس میں ہیں بشرطیکہ آپ فارسی سے کچھ صاحب سلامت رکھتے ہوں۔

اور جہاں تک ہمارے چوتھے مہربان ہمسائے افغانستان کا تعلق ہے تو وہاں کے قریباً چار درجن چینل اور اخبارات ایسے ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ان ذرائعِ ابلاغ میں سے بیشتر پر بھارتی وزارتِ اطلاعات و نشریات اور ’’را‘‘ کا کنٹرول ہے۔

ان چینلوں کی تکنیکی دیکھ بھال اور ابلاغی اوورسائٹ (نگرانی) تقریباً 80فیصد تک بھارت کی مرہونِ احسان ہے۔ میں چونکہ دری (افغانی فارسی) پشتو اور انگریزی زبان سے کچھ نہ کچھ شُدبُد رکھتا ہوں اس لئے گاہے بگاہے ان کو دیکھتا، سنتا اور پڑھتا رہتا ہوں۔

ان روزناموں میں ایک انگریزی روزنامہ افغانستان سن (Afghanistan Sun) کے نام سے بھی شائع ہوتا ہے جس کا ایک ذیلی آفس اسلام آباد میں بھی ہے۔ انگریزی زبان کے اس اخبار میں بھارتی تعصب کا عمل دخل بہت کم ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی اِن پُٹ (In-put) اس کی خبروں میں صاف دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

آج (22نومبر 2017ء) کے شمارے میں اسی ’’افغانستان سن ‘‘ میں ایک ایسی خبر شائع ہوئی ہے جو نہ صرف پاکستان کے لئے وجہِ طمانیت ہے بلکہ اس سارے خطے کے لئے بھی ایک روشن مستقبل کا امکان رکھتی ہے۔ اس خبر کی سرخی یہ ہے:

Pakistan welcomes US offer to prevent militant raids from Afghanistan.

اس کا اردو ترجمہ ہے : ’’پاکستان افغانستان کی سرزمین سے (پاکستان پر) کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام میں امریکی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے‘‘۔

کابل میں سوموار (20 نومبر 2017ء) کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے افغانستان میں سب سے سینئر امریکی کمانڈر، جنرل جان نکولسن نے کہا: ’’یہ پیشکش پاکستان کو اس لئے کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان آرمی کی اس فائرنگ کی حوصلہ شکنی کی جائے جو وہ (پاک آرمی) افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں (Raids) کے جواب میں کرتی ہے اور جس سے بہت سے افغان سویلین ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔۔۔ہم نے پاکستان کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر پاکستان کو درانڈ لائن (پاک افغان سرحد) سے ہماری طرف سے کی جانی والی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی شکائت ہو تو وہ ہمیں بتائی جائے تاکہ ہم اس کا ازالہ کر سکیں اور پاکستان کو افغان باسیوں پر گولہ باری کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے‘‘۔

جنرل نکولسن کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبار یہ بھی لکھتا ہے: ’’گزشتہ ہفتے پاکستان نے کئی روز تک افغانستان کے صوبے کنر (Kunar) پر سینکڑوں مارٹر گولے فائر کئے جس کے نتیجے میں اس سخت سردی کے موسم میں افغان دیہاتوں میں بسنے والے باشندوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔۔۔ یہ کراس بارڈر فائرنگ جو پاکستان کی طرف سے کی گئی وہ ان چھاپہ مار کارروائیوں کے نتیجے میں تھی جن کی وجہ سے پاکستان آرمی کے کئی اہلکار مارے گئے اور بہت سے زخمی ہو گئے تھے‘‘۔

پاکستان کی طرف سے جنرل نکولسن کے اس بیان کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور، ڈی جی آئی ایس پی آر نے وائس آف امریکہ (VOA)کو بتایا : ’’ہم نے تو اس بارڈر کی سیکیورٹی کو مستحکم بنانے کے لئے ہمیشہ افغانستان سے تعاون کی بات کی ہے۔

پاکستان نے یکطرفہ طور پر اپنے علاقے سے دہشت گردوں کے سارے مبینہ ٹھکانوں کو کلیئر کر دیا ہے اور عرصہ ہوا وہاں ریاست (پاکستان) کی عملداری (Writ) بحال کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے بارڈر پر اپنی طرف سے سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنانا شروع کر دیا ہے۔

2600کلومیٹر کے طویل پاک افغان بارڈر پر جنگلہ (Fence) لگایا جا رہا ہے اور جگہ جگہ پوسٹیں اور قلعے تعمیر کئے جا رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کی غیر قانونی کراس بارڈر آمد و رفت کو روکا جا سکے۔

ہم اس سرحد کو مستحکم بنانے کے لئے ایک جامع میکانزم کی تشکیل پر عمل پیراہیں تاکہ افغانستان کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں پاک آرمی کو فائرنگ نہ کرنی پڑے اور اس کے نتیجے میں افغان دیہاتوں کی سویلین آبادی کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘

مشاہد حسین سید، سینیٹ میں ڈیفنس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ اخبار نے آگے چل کر ان کا یہ تبصرہ بھی شائع کیا ہے: ’’جنرل نکولسن کے یہ ریمارکس پاکستان کے اس مبنی بر انصاف موقف کی تائید ہیں کہ جس میں پاکستان اس بارڈر کی سرحدی سیکیورٹی کے سلسلے میں اپنے خدشات کا بار بار اظہار کرتا رہا ہے۔

امریکہ کا یہ بیان جو آخر کار ہمارے اساسی خدشات کو ایڈریس کرنے کے سلسلے میں دیا گیا ہے، نہ صرف پاک افغان بارڈر سیکیورٹی انتظامات کو مستحکم کرے گا بلکہ اس پاک امریکی تعاون کے لئے بھی خوش آئند ہوگا جو دہشت گردی کے خلاف ہمارا مشترکہ موقف ہے۔‘‘

پاکستان ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے جو امریکہ اور افغانستان کی طرف سے لگائے جاتے رہے ہیں کہ پاکستان کو ’’ڈومور‘‘ کی ضرورت ہے اور پاکستانی سرزمین پر حقانی نیٹ ورکس کی باقیات وغیرہ موجود ہیں جہاں سے افغانستان پر حملے کئے جاتے ہیں۔

پاکستان کا موقف یہ ہے کہ وہ دور اگر تھا بھی تو اب ختم ہو چکا ہے۔اب یہ مساوات الٹ چکی ہے اور یہ حملے اب افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ہو رہے ہیں۔ لیکن قارئین کرام! یہ صورتِ حال اچانک ہی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ ہی امریکی جرنیلوں کو یکدم یہ خیال آیا ہے اور انہوں نے پاکستان کی طرف دستِ تعاون دراز کردیا ہے۔

وہ تو گزشتہ 16، 17برسوں سے پاکستان پر الزام دھرتے چلے آ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں ہیں افغانستان میں نہیں۔۔۔ تو پھر اس قلبِ ماہیت کی اصل وجہ کیا ہے؟۔۔۔ آیئے آپ کو بتاتے ہیں۔

آپ نے پچھلے دنوں یہ تو سنا ہوگا کہ پاکستان آرمی کے کئی جوان اور آفیسرز پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان کی طرف سے کی جانے والی چھاپہ مار کارروائیوں سے شہید ہوگئے۔ کیپٹن جنید حفیظ اور ان کے ساتھ ایک سپاہی کی شہادت اور کئی پاکستانی فوجیوں کے زخمی ہوجانے کی خبریں تو آپ نے دیکھی اور پڑھی ہوں گی۔

تب جنرل آصف غفور کی طرف سے یہ بیان بھی آیا تھا کہ پاک آرمی نے جائے حادثہ پر کمکی دستے (Reinforcements) بھیج دئے ہیں اور دہشت گردوں نے جس پاکستانی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی اسے بھی کلیئر کروالیا گیا ہے۔۔۔ لیکن اس اجمال کی تفصیل کسی میڈیا پر نہیں آئی تھی۔

وہ تفصیل یہ ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد (زیرو لائن) پر باڑ لگانے کا عمل جاری تھا کہ افغانستان کی طرف سے ہماری ون لائٹ کمانڈو بٹالین (LCB) پر کہ جو فرنیئرکور(کے پی کے) کے زیر احکام آپریٹ کررہی تھی اسے ٹاسک دیا گیا کہ موکھا ٹاپ (Mokha Top) پر قبضہ کرے۔ یہ چوٹی باجوڑ ایجنسی میں خاصی بلندی پر واقع ہے اور اس تک جانے کے راستے میں 6،6فٹ برف پڑی ہوئی ہے۔

دھند اور کہر کی وجہ سے حدِ بصارت بھی بے حد محدود ہے۔ تاہم بٹالین نے 14/13نومبر2017ء کی شب تین کمپنیوں کے ساتھ حملہ کیا۔

اس آپریشن کو ’’فصیلِ آہن 4‘‘ کا کوڈ نام دیا گیا۔ اس چوٹی سے پہلے ایک اور چوٹی ’’بولڈر ٹاپ‘‘ بھی آتی ہے۔ بٹالین نے اس ٹاپ پر حملہ کیا اور دہشت گردوں کو وہاں سے فرار ہوتے بن پڑی۔۔۔ یہ اس آپریشن کا پہلا مرحلہ تھا۔

دوسرے مرحلے میں موکھا پر حملہ کرنا تھا۔ جہاں 80,70 دہشت گرد مورچوں میں جمے بیٹھے تھے۔ان پر ہر اول کمپنی نے حملہ کیا اور اس دلیرانہ کارروائی میں کیپٹن جنید حفیظ نے جام شہادت نوش کیا۔ ان کے علاوہ اس کمپنی کے مزید 7جوان بھی زخمی ہوگئے جبکہ 35دہشت گرد مارے گئے باقی کے گرد گھیرا ڈال دیا گیا۔

گیارہ گھنٹے کی لگاتار لڑائی میں محصور دشمن کے اکثر دہشت گرد موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔ جب یہ علاقہ کلیئر ہوچکا اور موکھا ٹاپ پر تسلط حاصل کرلیا گیا تو سرحد پار اُن علاقوں پر مارٹر گولوں کی بارش کردی گئی جن سے یہ دہشت گرد اٹھ کر آئے تھے۔

جن سویلین لوگوں نے ان کو پناہ دے رکھی تھی وہ بھی اسی فائرنگ کی زد میں آئے۔ یہ فائرنگ مسلسل ایک ہفتہ تک جاری رہی اور جنرل نکولسن نے جس مارٹر فائر کا ذکر کیا ہے اور جن’’بے چارے‘‘ افغان سویلین باشندوں کے گھر بار چھوڑنے کا رونا رویا ہے وہ وہی لوگ تھے جو 80,70 دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہے تھے۔

جب افغانستان نے یہ دیکھا کہ اب پاکستان آرمی اس سرحد پر آکر جم کر بیٹھ گئی ہے اور باجوڑ میں پاکستان علاقے پر حملہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تو جنرل نکولسن نے ناچار تعاون کا ہاتھ بڑھا ہے۔

جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو اس محاذ پرپاک آرمی کے ایک اور سپوت میجر اسحاق کی شہادت کی خبریں آ رہی ہیں۔۔۔ یہ شہادتیں جس غرض اور مقصد کے لئے دی جا رہی ہیں اس کا راز بھی پاکستانیوں پر جلد افشاء ہو نے والا ہے۔۔۔۔ انشاء اللہ

مزید :

کالم -