میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں صرف 4برس کی تھی اوروالد نے ہی مجھے میری ماں کی تصویر دکھائی ان کے بارے میں بتایا:صاحبزادی علامہ اقبال محترمہ منیرہ بانو

میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں صرف 4برس کی تھی اوروالد نے ہی مجھے میری ماں کی ...
میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں صرف 4برس کی تھی اوروالد نے ہی مجھے میری ماں کی تصویر دکھائی ان کے بارے میں بتایا:صاحبزادی علامہ اقبال محترمہ منیرہ بانو

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)علامہ اقبال کی صاحبزادی محترمہ منیرہ بانو نے کہاہے کہ وہ علامہ اقبال کی وفات کے وقت صرف 8برس کی تھیں ، علامہ اقبا ل کی وفات کے وقت علی بخش ان کے ساتھ تھے اور انہوں نے ہی سب کو اٹھا دیا ،میں کمرے میں سوئی ہوئی تھی،ایک دم شور ہونے لگا رونے کی آوازیں آنے لگیں،مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیاہواہے ،ڈاکٹر جاوید اقبال بھی ہمارے ساتھ تھے۔انہوں نے کہا کہ علامہ بیمار نہیں تھے ،مجھے یاد نہیں کہ اس وقت میں نے کیا کیا ،ہمارے تمام رشتہ بھی وہیں موجود تھے ۔علامہ اقبال کی اکلوتی صاحبزادی محترمہ منیرہ بانو نے پہلی بار کسی نیوز چینل کو انٹرویو دیاہے جبکہ وہ اس سے قبل کبھی بھی اس طرح کسی میڈیا چینل پر نہیں آئیں اور وہ سیاست سے بھی دور ہی رہی ہیں،ان کا کہناہے کہ انہیں سیاست میں کوئی دلچپسی نہیں ہے اور وہ اسے پسند بھی نہیں کرتیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’نقطہ نظر ‘میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ بانو کا کہنا تھا کہ علامہ صاحب جب لیٹے ہوتے تھے تو میں ان کے بازو پر سر رکھ کر سو جاتی تھی اورجب میں گہری نیند میں چلی جاتی تھی تو مجھے اٹھا کر دوسرے کمرے میں لیٹا یا کرتے تھے ۔ان کا کہناتھا کہ جب ان کی والد ہ کا انتقال ہوا تو عمر چار برس تھی ،پھر ایک دن میرے والد نے اپنے کمرے میں بلایا ،وہاں بہت بڑی تصویر پڑی تھی ،میں نہیں جانتی تھی کہ یہ کس کی تصویر ہے ۔جس پرمیرے والد نے مجھے بتایا کہ یہ تمہاری ماں کی تصویر ہے ،اس کے بعد وہ تصویر تمام عمر ان کے گھر جاوید منزل میں ہی لگی رہی ۔منیرہ بانو کا کہناتھا کہ والدہ کی وفات کے بعد گورننس مس ڈورس نے ہم دونوں بہن بھائیوں کی دیگھ بھال۔انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کمرے میں اکیلے ہی کھانا کھایا کرتے تھے لیکن جو ہماری گورننس تھیں انہوں نے میرے والد کو قائل کیا کہ وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کریں ،جس کے بعد ہم سب دوپہر اور رات کا کھانا اکھٹے کھایا کرتے تھے ۔علامہ اقبال کی خوراک بہت کم تھی اور ان کیلئے کھانا بھی الگ پکتا تھا جو کہ نمک مرچ کے بغیر ہو کرتاتھا ۔

منیرہ بانو کا کہناتھا کہ وہ والد کے ساتھ لیٹی ہوئیں تھی تو علی بخش اندر آیا اور انہوں نے مجھے کمرے سے چلنے کیلئے کہا ،میں نے پوچھا کیوں تو انہوں نے کہا کہ آپ کے والد کے دوست آئے ہیں جس پر میں نے اصرار کیا کہ میں یہیں رکوں گی تو علامہ صاحب نے بھی کہا کہ اسے یہیں لیٹی رہنے دو ۔جب پنڈ ٹ نہرو اندر آئے تو وہ سادہ لباس میں ملبوس تھے ،وہ کمرے میں داخل ہو کر زمین پر بیٹھ گئے ،میں بہت حیران ہوئی کہ حالانکہ دو کرسیاں بھی موجود ہیں لیکن پھر یہ زمین پر کیوں بیٹھے ہیں ،بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ علامہ اقبال کی عزت میں زمین پر بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب قائد اعظم علامہ اقبال سے ملنے کیلئے آئے تو میں اس وقت وہاں موجود نہیں تھی میرے بھائی جاوید اقبال وہاں موجود تھے ۔ان کا کہناتھا کہ وہ ابتداءمیں اسلامیہ سکول میں داخل ہوئیں ،ایک دن میاں امیر الدین گھر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری لڑکیاں کوین میری میں پڑھتی ہیں جس پر انہوں نے مجھے بھی وہاں داخل کر وا دیا ۔

ان کا کہناتھا کہ علامہ اقبال کی بینائی بہت کمزور ہو چکی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے ہماری گورننس آنٹی ڈورس کو کہا کہ اسے ایسے کپڑے پہناﺅ کہ مجھے دو ر سے نظر آئے کہ یہ آرہی ہے ،جس پر انہوں نے میرے لیے لال رنگ کا سویٹر بنایا جس سے ان کو پتہ چل جاتا تھا کہ میں آرہی ہوں،جب علامہ اقبال کا انتقال ہو گیا تو وہ جاوید منزل میں ہی رہتے تھے ، 18سال کی عمر میں میری شادی ہو گئی اور میں میاں صلاح الدین کی حویلی میں چلی گئی ۔

محترمہ منیرہ بانو کا کہناتھا کہ انہوں نے جاوید منزل میں دو دکانیں کرائے پر دے رکھی تھیں جس میں سے ایک دکاندار ہندوتھا ،پاکستان کے قیام سے قبل ہر طرف جب طوفان برپا تھا ،یہ ہندو ہمارے پاس ہی رہتاتھا اور ہمارے پاس ہی سوتاتھا ،ہندو مسلمانوں کا باتھ روم استعمال نہیں کرتے تھے جس کیلئے وہ باہر نکلا حالانکہ ہمارے نوکروں نے اسے منع بھی کیا لیکن وہ اس کے باوجود بھی باہر چلا گیا تو مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا ،میں گھر کے برآمدے میں کھڑی تھی تو میں یہ منظر دیکھ کر پریشان ہو گئی ،میرے بھائی نے مجھے اندر بھیج دیا کہ میں کوئی چیز نہ دیکھوں لیکن میں نے تو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ۔

ان کا کہناتھا کہ میاں ایم اسلم کی بڑی خواہش تھی میری شادی یہاں ہو،جب میرے سسر پرپوزل کے کر آئے تو میاں اسلم بھی ساتھ تھے ،میری شادی بہت سادگی سے ہوئی ، شادی کے بعد بھائی جاوید بیرون ملک پڑھنے کیلئے چلے گئے ،انہوں نے دو سال پہلے ہی چلے جانا تھا لیکن وہ میرے لیے رکے ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد جب فاطمہ جناح  ملاقات کیلئے جاوید منزل میں آئیں تو وہاں لوگ بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے کوئی خاص بات چیت نہیں ہو سکی ،مس جناح کا سن کر جس نے نہیں بھی آنا تھا وہ بھی وہاں پہنچ گیا ۔محترمہ منیر ہ بانو کا کہناتھا کہ ان کی  نواز شریف سے بھی ملاقات ہوئی تھی ،اس وقت وہ پاور میں نہیں تھے ،انہوں نے ہمیں کھانے پر بلایا تھااور وہ اس وقت ان کی زندگی انتہائی سادہ تھی ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی گورننس واپس چلی گئیں تھی تو وہاں سے انہوں نے پیغام بھیجا کہ یہاں میری صحیح دیکھ بھال نہیں کی جاتی ،وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھیںجس پر میں نے اپنے بیٹے کو بھیجا اور وہ اسے لے کر آیا،اس کے بعد وہ ہمارے ساتھ رہیں میں ان کی دیکھ بھال کرتی تھی لیکن وہ ایک سال کے بعد 1992میں انتقال کر گئیں ۔

مزید : قومی