پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹیو کلب میں صدر ایفا کی زیر صدارت گورننگ باڈی کا اجلاس

پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹیو کلب میں صدر ایفا کی زیر صدارت گورننگ باڈی کا اجلاس

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹیو کلب میںایڈوائزر ٹو وائس چانسلر اور صدر ایفا کی زیر صدارت ایجوکیشن فار آل (ایفا) کی گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس (ر) شیخ ریاض احمد، سابق چیف منسٹر پنجاب میاں افضل حیات، پارلیمانی سیکریٹری فار انفارمیشن اینڈ کلچر رانا محمد ارشد، لیفٹیننٹ جنرل(ر) نصیر اختر، ائیر مارشل (ر) خورشید انور مرزا، سابق ڈی جی سول ایو یشن اتھارٹی اے وی ایم انور محمد خان، میجر جنرل(ر) خواجہ راحت لطیف، ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ممتاز اختر و ایفا ممبران نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں کرنل (ر) اکرام اللہ خان نے پی سی ون کی منظوری اور چھ ہزار اساتذہ کی تنخواہوں کا مسئلہ حل کرنے پر ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ایفا تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے نام جاری ہونے والے فنڈز کے درست استعمال سے ہی سکولوں میں چار دیواری، واش رومز، فرش، اساتذہ و کتابوں کی کمی کے مسائل دور کئے جا سکتے ہیں۔ کرنل (ر) اکرام اللہ خان نے کہا کہ پنجاب میں بیسک ایجوکیشن سکول کی تعداد 6ہزار اور وفاق میں 13ہزار ہے جنہیں بڑھا کر 14800اور 31ہزار کرنا ہے جس کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔ تبھی حکومت کا سکولوں میں سو فیصد داخلوں کا مشن پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہرڈویژن میںنئے سکول قائم کرنے کے لئے حکومتی نمائندوں سے رہنمائی کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 206ممالک میں پاکستان کا نام لٹریسی ریٹ میں سب سے نیچے ہے جسے اوپر لانا ایفا کے قیام کا مقصد ہے۔ رانا ارشد نے کہا کہ ایفا جیسے کام کر رہی ملک میں ضرور تعلیمی انقلاب آئے گا اور حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوںنے کہا کہ ملک میں تعلیم کے پھیلاﺅ کے لئے ضروری ہے کہ ہر سطح پر لوگوں کو تعلیم کی اہمیت بارے آگاہی فراہم کی جائے۔ ائیر مارشل (ر) خورشید انور مرزا نے چند تعلیمی اصلاحات پیش کرتے ہوئے کہا ملک میں تعلیم عام کرنے کے لئے سیٹیلائیٹ کے ذریعے Distance Learningپروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جانا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ پرائمری کی سطح پر بچوں کی کریکٹر بلڈنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور ان میں سوچنے کی صلاحیت کو اجاگر کر کے رٹہ سسٹم سے نجات کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوںنے کہا مذہبی تعلیم کے لئے قرآن و نماز با معنی سکھائے جانے چاہئے اور پرائمری لیول تک تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ووکیشنل ٹریننگ بھی ہونی چاہیے۔ جنرل (ر) راحت لطیف نے ملک میں تعلیم کے فروغ اور ایفا کے لئے کرنل (ر) اکرام اللہ خان کے کردار کو سراہا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...