سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7

  


الپتگین

پانچویں سامانی بادشاہ کا ایسا ہی ایک زرخرید ترک غلام الپتگین تھا۔ جس کو ایک ادنٰی محافظ کے طور پر دربار میں ملازم رکھا گیاتھا۔ وہ اپنی بے پناہ ذاتی صلاحتیوں کی بنا پر ترقی کرتا ہوا پہلے حاجب الحجاب یعنی محافظین کا کمانڈر بن گیا میں اور بعد میں 10فروری 961ءکو خراسان کا گورنر مقرر ہوگیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد نیا سامانی امیر تخت نشین ہوا‘ جس نے اُسے برطرف کر دیا لیکن اُس نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا اور بلخ چلاگیا۔ سامانی امیر نے 12000پر مشتمل ایک فوج بھیجی‘جسے الپتگین نے اپریل 962ءمیں شکست دے دی۔ اس کے بعد اس نے غزنی کی چھوٹی سی ریاست پر چڑھائی کی جس کا سربراہ ابو بکر لائق تھا۔ اس کا نام تو مسلمانوں والا تھالیکن یہ مسلمان نہیں تھا۔ سیاسی طور پر یہ ہندو شاہیوں کاحامی تھا جن کا پایہءتخت کابل تھا اور غالباً یہ شاہِ کابل کا رشتہ دار(بہنوئی یا سالا)بھی تھا۔ اس کا نام انوک بھی آیا ہے۔ ابوبکر اس جنگ میں فرار ہوگیا اور الپتگین کا غزنی پر قبضہ ہوگیا۔ اب وہ امیر الپتگین کہلانے لگا۔ یہاں پھر سامانی بادشاہ نے (دس یا بیس)ہزار فوج سے حملہ کیا لیکن یہ حملہ بھی پسپا کر دیا گیا۔ ا سامانیوں نے اس کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ ادھر ابوبکر لائق ابھی زندہ تھا شاید وہ پنجاب کے ہندو شاہی حکمرانوں کے پاس کابل چلا گیا تھا جن کی حکومت کابل تک پھیلی ہوئی تھی۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 6 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب کی ہندو شاہی سلطنت اور غزنی کے ترک غلاموں کی سلطنت کی سرحدیں آپس میں مل رہی تھیں اس علاقے پر بالادستی کے لئے ہندو شاہیوں اور آزاد شدہ غلام مسلمان ترکوں میں اقتدار کی رسہ کشی کا سامان پیدا ہوچکا تھا۔ اگرچہ سلطنت سازی کی ان جنگوں کی اصل وجہ تو ان علاقوں کی مشترکہ خارجہ تجارت تھی۔ غالباً غزنی پر قبضہ سے بھی پہلے الپتگین نے کابل پر قبضہ کرنے کے لئے ہندو شاہیوں سے 962-3ءمیں جنگ کی تھی جس میں اسے فتح ہوئی تھی۔ یہ نہیں معلوم کہ اس وقت ہندو شاہی بادشاہ کون تھا۔ یقیناً یہ جے پال کا پیشرو ہوگا کیونکہ جے پال 965ءمیں برسر اقتدار آیا۔ الپتگین کی وفات 13ستمبر963ءکو ہوئی تو اس کا بیٹا ابواسحٰق ابراہیم اس کی جگہ ریاست غزنی کا امیر بنا۔ وہ کمزور اور نا اہل حکمران تھا۔ فوجی افسروں کی باہمی لڑائیوں کو کنٹرول نہ کرسکا۔ ان حالات میں ابوبکر لائق کا بیٹا ابو علی لائق ہندو شاہیوں سے مدد لے کر غزنی پر حملہ آور ہوا۔ کیونکہ لائق خاندان ہندو شاہیوں کا رشتہ دار تھا۔ ابو اسحٰق بھاگ کر سامانی سلطنت کے پایہءتخت بخارا چلا گیا۔ وہاں اُس نے سامنیوں سے اپنے مرحوم باپ کی غلطیوں کی معافی مانگی اور ان سے فوجی امداد لے کر غزنی پر حملہ کرکے لائق کو نکال باہر کیا۔ ابواسحٰق۶۲ستمبر۵۶۹ءکو فوت ہوگیا تو فوجی جرنیلوں نے حکومت البتگین کے ایک ترک غلام بلکتگین کے حوالے کی۔ بلکتگین کو سامانی وزیر گائق نے دبانے کی کوشش کی اور بالآخر اس پر حملہ بھی کیا۔ فائق کی کوشش تھی کہ ترکوں کو ہمیشہ کے لئے کچل دیا جائے۔ لیکن بلکتگین نے الٹا اس حملہ آور فوج کو کچل دیا۔ وہ بہت بلند کردار کا مالک تھا اور اپنے ملک میں بہت مقبول تھا۔ اس کی وفات۵۷۹ءمیں ہوئی۔ بلکتگین کی جے پال سے کسی جھڑپ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکتگین کی وفات کے بعد اس کا ایک غلام پری تگین غزنی کا امیر بنا۔

پری تگین بہت ظالم اور غیر مقبول بادشاہ تھا۔ چنانچہ لوگوں نے سابقہ بادشاہ ابو علی لائق ولد ابو بکر لائق کو(جوکہ غیر مسلم غالباًہندو تھا) خط لکھ کر غزنی پر حملے کی دعوت دی۔ ہندو شاہیوں نے اس موقع پر لائق کی بھرپور مدد کی۔ ابو علی لائق کو کابل شاہ نے جو فوج دی۔ اس کی قیادت اس کا بیٹا کر رہا تھا۔ گور بخش سنگھ کا خیال ہے یہ کابل شاہ جے پال کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ اسے حکومت کرتے ہوئے دس سال ہو چکے تھے۔ کابل اس کی سلطنت میں شامل تھا۔ یہ فوجیں کابل سے غزنی کی طرف مارچ کر رہی تھیں کہ غزنی کا ایک انتہائی بہادر اور لائق جرنیل سبکتگین پانچ سو کفن بردوش مجاہدوں کو لے کر راستے میں چرک کے مقام پر اچانک ان پر ٹوٹ پڑا۔ اس اچانک حملے میں ابو علی لائق اور کابل شاہ کا بیٹا دونوں مارے گئے۔ باقی فوج حواس باختہ ہوکر بھاگ گئی۔ اس فتح کے فوراً بعد غزنی کے فوجی جرنیلوں نے پری تگین کو بر طرف کرکے سبکتگین کو اپنا بادشاہ چن لیا۔ یوں الپتگین ڈھائی سال، اسحٰق دو سال، بلکتگین دو سال اور پری تگین ڈیڑھ سال برسر اقتدار رہا۔

سبکتگین

سبکتگین کو غزنی کے جرنیلوں نے 20اپریل977ءمیں پری تگین کی جگہ غزنی کا بادشاہ(امیر) بنایا نیز انہوں نے سبکتگین کی شادی الپتگین کی بیٹی سے کردی۔ سبکتگین نے اپنی زندگی کا آغاز ایک ادنٰی غلام کی حیثیت سے کیا تھا۔ وہ الپتگین کا زرخرید غلام تھا۔ اس کے آباﺅ اجداد نسلاً ایرانی تھے لیکن بعد میں ترکوں میں شادیاں کرکے وہ آدھے ترک ہو گئے تھے۔ سبکتگین کو محض اس کی ذاتی صلاحتیوں کی بنا پر الپتگین نے لشکر کے امیرالامرائ(کمانڈر انچیف) عہدے پر فائز کیا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس نے غزنی کی سلطنت کو چاروں سمتوں میں پھیلانا شروع کیا۔ اسی جدو جہد میں اس نے (994ءمیں) مشرق خراسان میں بست کے قلعے کو فتح کیا اور اس کے بعد اس نے فرشتہ کے بقول قصرار اور محمد ناظم کے بقول خوشدار کو فتح کیا۔ دراصل قصرار اور خوشدار سے مراد موجودہ خضدار(بلوچستان) ہے جس پر اس وقت مسلمانوں کی حکومت تھی۔ اس نے پنجاب کی سرحدی چوکیوں پر بھی حملے کئے۔ بخارا کو فتح کیا ۔ فرشتہ کے بقول 927ھ (977ئ)میں اس نے ہندوستان پہنچ کر چند قلعے فتح کئے۔ اکثر جگہوں پر مسجدیں تعمیر کرائیں اور بہت سامان غنیمت لے کر واپس غزنی پہنچا۔ ہندوستان سے یہاں مراد ہندو شاہی سلطنت ہے۔

سبکتگین کی جے پال سے جنگ

سبکتگین کے ان حملوں کے جواب میں جے پال نے جو اس وقت بھٹنڈہ کے قلعے میں مقیم تھا‘ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ غزنی پر حملہ کیا۔ غزنی اور لمغان کے درمیان میں غورک کے مقام پر جنگ ہوئی۔ جے پال کی فوج طاقت زیادہ تھی لیکن کئی دن تک جنگ ہوتی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ ایک دن اچانک برفباری کا طوفان شروع ہوگیا‘جس میں ہزاروں جانور اور سپائی مر گئے اور ہندو شاہی فوجوں کو شکست ہوگئی۔ انہوں نے تاوانِ جنگ کی پیشکش کرکے صلح کی درخواست کی۔ شہزادہ محمہودغزنوی جس کی عمر چودہ پندرہ سال تھی۔ جنگ جاری رکھنے کے حق میں تھا لیکن امیر سبکتگین نے معاہدے کے حق میں فیصلہ دیا۔ کیونکہ ہندو شاہیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر شکستِ فاش ہونے لگی تو وہ سب مال و دولت کو جلا کر خود بھی جل مریں گے پھر تمہارے ہاتھ راکھ کا ڈھیر‘پتھر لاشیں اور بکھری ہوئی ہڈیاں آئیں گی۔ جنانچہ طے پایا کہ جے پال، سبکتگین کو تاوان کے طور پر دس لاکھ دینار‘ کچھ سرحدی قلعے اور پچاس ہاتھی دے گا۔ سبکتگین نے اس کے چند رشتہ داروں کو بطور یرغمال اپنے پاس رکھ لیا تاکہ وہ معاہدے سے نہ پھر جائے۔ غورک سے جے پال سبکتگین کے چند نمائندوں کو لے کر واپس آیا اور بقول فرشتہ لاہور پہنچا۔ یہ صحیح معلوم نہیں کہ اس کا پایہءتخت تب لاہور تھا یا اوبھنڈپور‘ لیکن شواہد یہی کہتے ہیں کہ اوبھنڈپور ہی تھا۔

بہرحال اس نے اپنے پایہ تخت پہنچ کر سبکتگین کے نمائندوں کو گرفتار کرکے قید کر دیا اور کہا کہ جب تک سبکتگین میرے عزیزوں کو رہا نہیں کرے گا‘ میں اس کے آدمیوں کو قید میں رکھوں گا۔ اس کے نتیجے میں سبکتگین ایک بہت بڑی فوج لے کر غزنی سے پشاور کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں آنے والے ہر مندر کو مسمار کرتا گھروں اور کو آگ لگاتا ہوا وہ آگے بڑھا۔ جے پال نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے دہلی‘کالنجر‘قنوج اور ااجمیر کے راجوں سے فوج مدد طلب کی۔ ان سب کی فوج لے کر(جو ایک لاکھ سواروں اور بقول فرشتہ”ان گنت“ پیادوں پر مشتمل تھی۔) وہ غزنی کی طرف بڑھا۔ جلال آباد سے 19 کلو میٹر جنوب میں دونوں فوجوں کا ٹکراﺅ ہوا۔ اس بار بھی جے پال کی فوج زیادہ تھی لیکن سبکتگین نے گوریلا طریقہ جنگ اپناتے ہوئے پانچ پانچ سو گھڑ سواروں کے کئی دستے بنائے اور کہا کہ سب باری باری حملہ کریں۔ اس طریقے سے وہ جے پال کی فوجوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔ ہندو شاہی فوج کے بیشتر فوجی مارے گئے باقی جو بچے وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ دریائے نیلاب(دریائے سندھ بمقام اٹک)تک ترکوں نے ان کا پیچھا کیا لیکن اوبھنڈپور کو فتح کئے بغیر واپس آگئے۔ یوں لمغان سے یہاں تک کا علاقہ ترکوں کے قبضے میں آگیا۔ اس جنگ میں بہت سامان غنیمت ان کے ساتھ آیا۔ سبکتگین نے اپنے ایک سردار کو مفتوحہ علاقہ کا کورنر مقرر کرکے پشاور میں متعین کیا۔ 991ءمیں سبکتگین نے ملتان کے اسماعیل حکمران شیخ حمید کو حملے کی دھمکی دی۔ اس نے فوراً سبکتگین کی اطاعت قبول کی اور سالانہ خراج دینے کا وعدہ کیا۔ اس زمانے میں لاہور کے راجہ بھرت نے جوکہ جے پال کا باجگذار تھا‘ جے پال کے خلاف گڑبڑ شروع کردی  حالانکہ جے پال نے اسے اندورنی خود مختاری دے رکھی تھی۔ بھرت نے جہلم میں نندنہ اور ٹکیسر کی کانوں پر قبضہ کرنے کے لئے جوج کشی کی۔

جے پال نے اپنے بیٹے آنند پال کو فوج دے کر بھیجا‘جس نے بھرت کو شکست دی اور یوں بھرت خراج دینے پر رضا مند تو ہوگیا لیکن جلد ہی اپنے وعدے سے پھرگیا۔ اب نے حملہ کرکے اسے اقتدار سے ہٹا دیا اور خود گورنر لاہور بن گیا۔ جے پال کی وفات 1001ءتک آنند پال گورنر لاہور رہا۔ آنند پال کی فتح لاہور کے زمانے میں سبکتگین نے کسی بات سے ناراض ہوکر محمودغزنوی کو جیل میں ڈال دیا۔ جے پال نے اسے خط لکھا کہ تمہارے باپ نے تمہیں جیل میں ڈال کر نا شکرے پن کا ثبوت دیا ہے‘اگر تم ہمارے ساتھ مل جاﺅ تو میں اپنے آدمی بھیج کر تمہیں جیل سے چھڑا لوں گا۔ پھر ہم تمہیں اپنے ملک میں لے آئیں گے۔ میں اپنی بیٹی سے تمہاری شادی کر دوں گا۔ دولت اور تمہارے باپ سے بڑی افواج تمہین دوں گا لیکن محمودغزنوی نے جواب میں اسے جو خط لکھا‘ اس میں اسے کتا اور کافر کہا اور لکھا کہ میرا باپ میرا مالک اور میرا قائد ہے۔ اگر وہ مجھے قتل کرنا جاہتا ہے‘وہ تو حاکم ہے۔ تمہارے خط کا جواب یہ ہے۔ کہ جب خدا نے مجھے اس قید سے رہائی دی تو میں اپنی فوج کے ساتھ تمہارے ملک پر حملہ کر دوں گا اور تمہیں گرفتار کروں گا۔ یہ پیشکش دراصل شادی کے ذریعے غزنوی اور ہندو شاہی سلطنتوں کو ایک کرنے کی کوشش کو ٹھکرا دیا۔ جے پال کی وفات کے ساتھ ہی ہندو ہی سلطنت کا پایہءتخت اور اوبھنڈپور سے نندنہ منتقل ہوگیا۔

سبکتگین نے بیس سال حکومت کی۔ آخری دنوں میں اس کا قیام میں بلخ میں تھا جہاں وہ بیمار ہوگیا۔ جب علاج معالجے سے ٹھیک نہ ہوا تو اس نے تبدیلی آب و ہوا کے لئے غزنی کا ارادہ کیا۔ راستے میں ترمذ کے مقام پر پہنچ کر رک گیا۔ اب وہ مزید سفر کے قابل نہ رہا تھا۔ یہیں 55سال کی عمر میں اگست 997ءمیں سبکتگین نے وفات پائی۔ اس کی میت کو غزنی لاکر دفن کیا گیا۔

جاری ہے 

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...