فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر579

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر579
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر579

  

ایک سچے فنکار کی طرح حسن لطیف للک کے دل میں ہمیشہ ایک آگ سی بھڑکتی رہتی تھی۔ وہ موسیقی کے شعبے میں بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر افسوس کہ انہیں موقع نہ ملا یہاں تک کہ ان کے بہترین دوستوں نے بھی ان کے من کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوئی تگ و دو نہیں کی۔ مانا کہ وہ دور پاکستان کی فلمی موسیقی کے لیے ایک سنہرا دور تھا۔ فلمی موسیقاروں میں بہت بہت بڑے نام موجود تھے اور تواتر کے ساتھ نئے موسیقار بھی اپنی کارکردگی کے بل پر اس فہرست میں جگہ بنا رہے تھے۔ ماسٹر غلام حیدر، فیروز نظامی، رشید عطرے، خواجہ خورشید انور جیسے نامور اور بلند پایہ موسیقار بمبئی کی فلمی دنیا سے اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ پھر یہاں پاکستان میں بھی ناشاد، ایم اشرف، روبن گھوش، بشیر، صفدر، ماسٹر عبداللہ پھر اسکے بعد دور میں نثار بزمی، سہیل رعنا، سلیم اقبال اور ایسے ہی ہنر مند اور اپنے فن پر عبور رکھنے والے بہت سے موسیقار پاکستان کی فلموں کو اپنی موسیقی کے سروں سے سجا رہے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر578 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حسن لطیف کو ایک بہت مشکل عہد ملا تھا مگر انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کردیا تھا کہ عرصہ دراز تک محرومی کا دکھ سہنے اور اندر ہی اندر جلنے کڑھنے کی وجہ سے اپنے فن کے زنگ آلود ہو جانے کے باوجود وہ کبھی اپنی صلاحیتوں اور تخلیقی تمناؤں سے نا آشنا نہیں ہوئے تھے۔ مسلسل نظر اندازی حساس فنکاروں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے دلوں کو مجروح اور ذہنوں کو بانجھ کر دیتی ہے۔ یہ حسن لطیف کا دل گردہ تھا کہ وہ ان سب صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بعد جب بھی انہیں موقع ملا بہت اچھی موسیقی تخلیق کرتے رہے مگر جیسے جیسے انکی جوانی کے دن گزرتے گئے ان کے حوالے پست ہوتے چلے گئے۔ وہ شخص جو ۱۹۴۸ء سے موسیقی کا ایک سرمایہ اپنے ذہن میں سمیٹے بیٹھا تھا ۔۱۹۷۰ء تک کے طویل عرصے میں جوانی کے ولولوں سے اتنا زیادہ بہرہ مند نہ رہا تھا ۔ تیس پینتیس سال کا عرصہ ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ ان سالوں میں حسن لطیف کو شاید تیس فلموں کی موسیقی بنانے کا موقع بھی نہیں ملا۔ حوصلہ افزائی اور مسلسل ریاض موسیقی کی غذا ہوتی ہے۔ جب موسیقار اس غذا سے محروم ہو جائے تو فاقہ کشی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ حسن لطیف کے ساتھ بھی پیش آیا۔ 

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جو موسیقار ۱۹۶۸ء میں کامیاب تھا اور اس نے 

۱۔ لوگ دیکھیں نہ تماشا میری تنہائی کا

۲۔ نہ شاخ ہی رہی باقی نہ آشیانہ ہے۔

۳۔ اب اور پریشاں نہ ہو مرے دل (فلم ماں بہو بیٹا) اور فلم کرشمہ کے لیے ایسی دھنیں اور نغمات بناتا رہا۔

۱۔ اک مدت سے دل دیوانہ ۔ خوشیوں کا زمانہ بھول گیا

۲۔ نہ دیکئے ادھر ادھر کہ آئیے قریب 

۳۔ آجا آجا زندگی کو ہار دے۔

جیسی خوب صورت اور زندگی سے بھرپور دھنیں بناتا رہا تھا اور فلم ’’میں زندہ ہوں‘‘ کے لیے ایسے نغمات ترتیب دے چکا تھا۔

۱۔ دھیرے دھیرے بیتے دن صدیوں کی رات ہے(مجیب عالم)

۲۔ بولو کون خریدے گا اک مجبور کی آنکھ کا کاجل (نور جہاں)

۳۔ ہری ہری رات آئی رے ساون کی (نور جہاں)

اور جو ۱۹۶۹ء میں ’’ڈاکٹر شیطان‘‘ جیسی موسیقی کی سچویشنز سے عاری فلم کے لیے بھی ایسے نغمات بنا چکا تھا۔

۱۔ نور ہی نور ہے تری ان آنکھوں میں(منیر حسین)

۲۔ گاتا جائے بنجارہ گلی گلی نگر نگر (احمد رشدی)

اگلے ہی سال فراموش کر دیا گیا۔

اس کے بعد انہوں نے ایک پنجابی فلم ’’بلونت کور‘‘ کی موسیقی مرتب کی لیکن ایم سلیم کی یہ فلم بھی ناکام ہوگئی۔ فلمی صنعت والوں نے حسب دستور انہیں فراموش کر دیا تھا۔ حسن لطیف للک کا بھی فلمی صنعت سے دل بھر چکا تھا۔ اس لیے دل برداشتہ ہو کر انہوں نے پھر ریڈیو پاکستان کا رخ کیا۔ ریڈیو کے لیے انہوں نے گیت اور ملی نغمے مرتب کیے مگر وہ ماحول ان کی پسند کا نہ تھا۔ صرف شوق پورا کرنے کی حد تک یہ مصروفیات ان کے لیے غنیمت تھیں۔ خدا جانے مسلسل محرمیوں کا غم یا کہ مسلسل فلمی صنعت کی بے حسی اور بے رخی کس چیز نے انہیں بالکل ہی مایوس کر دیا کہ اچانک ۹ نومبر ۱۹۸۰ء کو وہ ہارٹ فیل کی وجہ سے کراچی میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر ۵۵ سال تھی۔ ان کی وفات کے آٹھ سال بعد خادم محی الدین کی فلم ’’بانو‘‘ کی نمائش ہوئی۔ یہ فلم بہت تاخیر سے ریلیز ہوئی تھی پھر بھی اس کی موسیقی اچھی خاصی تھی۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر580 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -