فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر595

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر595
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر595

  



ایک دھوبن کا شوہر ملکہ نور جہاں کے کمان سے نکلے ہوئے تیر کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔ ہندوستان کے شہنشاہ کی ملکہ سے انجانے مین سر زد ہونے والا یہ جرم بہرحال ایک جرم تھا اور مدعی کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ رعایا کا ایک انتہائی پست طبقہ ہونے کے باوجود شہنشاہ سے انصاف طلب کرے اور اسکے اس دعوے کو آزمائے کہ وہ صحیح معنوں میں عادل اور منصف ہے مگر جب شہنشاہ نے اس مقدے کا انتہائی غیر جانبداری سے فیصلہ سنایا تو سننے والوں کو اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہندوستان کا عظیم اور قادر مطلق شہنشاہ اپنی رعایا کو انصاف دینے کے معاملے میں اس حد تک چلا جائے گا کہ جان کے بدلے جان لینے کا فیصلہ صادر کرے گا۔

فلم ’’پکار‘‘ میں سہراب مودی نے مغلیہ دور کے بارے میں جس قدر عرق ریزی اور گہری تحقیق سے کام لیا اتنی محنت تو آج کے جدید دور میں بھی کوئی نہیں کرتا۔ معمولی تفصیلات اور جزئیات تو ایک طرف ماحول تک کو پیش کرنے میں کسی قسم کی تحقیق و تلاش کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ سہراب مودی نے ’’پکار‘‘ کے لیے ملبوسات، اسلحہ، ظروف، سامان آرائش اور انداز مخاطب کے بارے میں گہری چھان بین کے بعد جو انداز پیش کیا بعد میں آنے والوں کے لیے بھی وہ مشعل راہ بن گیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر594 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان کی سب سے پہلی مسلم سوشل فلم ایک غیر مسلم پارسی فلم ساز و ہدایت کار سہراب مودی نے بنائی تھی جس کا نام ’’خاندان‘‘ تھا۔ اگر پیسہ ہی کمانا مقصود ہوتا تو ہندو مذہب کی کوئی داستان فلما کر کہیں زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا تھا لیکن سہراب مودی نے مسلم سوشل کہانی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فلم کے ہیرو پریم ادیب تھے اور ولن کے کردار میں پہلی بار صادق علی کو پیش کیا گیا تھا۔ صادق علی نے بعد میں ایسا عروج حاصل کیا کہ باید و شاید۔ وہ ایک زمانے میں ’’پرنس آف منرو‘‘ کہلاتے تھے (منرو اموی ٹون سہراب مودی کے فلم ساز ادارے کا نام تھا) اس فلم میں نسیم بانو نے بہت حقیقی اور خوب صورت انداز میں مسلمان گھرانے کی ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔

جہاں تک صادق علی کا تعلق ہے تقدیر نے (یا خود ان کے اعمال نے) انہیں کچھ عرصے بعد بہت برے حال کو پہنچا دیا۔ ان کا عروج و زوال دیکھ کر ہی اللہ کے اس حکم پر یقین آجاتا ہے کہ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔ صادق علی جو پرنس آف منروا کی حیثیت سے ہندوستانی اسکرین پر حکمرانی کرتے تھے بعد میں کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے تھے۔ صحت نے بھی جواب دے دیا تھا۔ انہوں نے زندگی کے آخری ایام کراچی میں گزارے اور انتہائی عربت آمیز حالات میں وفات پائی۔

سہراب مودی نے اس فلم میں بھی مسلم معاشرے کو صحیح انداز میں پیش کیا تھا جس سے ہندوستان کی غیر مسلم آبادی واقف نہ تھی۔ ملبوسات، رکھ رکھاؤ اور مسلم روایات کے اعتبار سے یہ ایک قابل تقلید فلم تھی۔ اس فلم میں پہلی مرتبہ ہندوستانی اسکرین پر کلمہ طیبہ پڑھوایا گیا تھا۔ روانگی سے قبل امام ضامن باندھا گیا۔ یہ معمولی سی جزءئیات بھی سہراب مودی کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو سکیں۔ اس فلم کو حکیم فرخ نے لکھا تھا جو اسٹیج کے معروف ڈراما نویس تھے لیکن انتخاب تو بہرحال سہراب مودی ہی کا تھا اور خیال بھی انہی کا تھا۔اس فلم میں خان بہادر صاحب کا مرکزی کردار سہراب مودی نے بذات خود ادا کیا تھا۔

’’خاندان‘‘ کی نمائش پر بھارت کے مسلمان دیوانہ وار ٹوٹ پڑے۔ فلم بھی ابہت اچھی تھی اور ہندو فلم بینوں کے لیے بھی اس میں ایک ندرت تھی۔ اس لیے انہوں نے بھی سنیما گھروں کے سامنے لمبی قطاریں لگا دیں۔ اس فلم کے ذریعے سہراب مودی نے نہ صرف ہدایت کار اور فلم ساز کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا لیا بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دل بھی جیت لیے۔

پھر یہ بھی خیال کیجئے کہ اردو کے عظیم ترین شاعر مرزا غالب کے بارے میں فلم بنانے کا اعزاز بھی سہراب مودی کو حاصل ہے۔ غالب جیسے مشکل پسند اردو کے شاعر کے بارے میں کبھی کسی مسلمان فلم ساز اور ہدایت کار نے بھی فلم بنانے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن سہراب مودی نے ’’مرزا غالب‘‘ بنا کر انوکھا تجربہ کیا۔ اس کہانی کو بھی ہم فرضی نہیں کہہ سکتے کیونکہ تاریخی شواہد اور واقعات کی روشنی میں مرزا غالب کی زندگی کا یہ پہلو سامنے آتا رہا ہے۔ سہراب مودی کا کمال فن یہ تھا کہ انہوں نے غالب کی غزلوں کو ہی فلم کے نغمات کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی اس قدر آسان ، عام فہم اور دل میں اتر جانے والے طرزیں بنوائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ غالب کی غزلیں گاتا ہوا نظر آنے لگا۔

ثریا کی آواز کے جادو نے ان کے اثر کو دوبالا کر دیا تھا۔ اس فلم میں سہراب مودی نے مرزا غالب کی عظمت کا پوری طرح خیال رکھا تھا حالانکہ بہت عرصے بعد بھارت اور پاکستان میں اسی موضوع پر بنائے جانے والے ڈراموں میں مرزا غالب کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ جب پاکستان میں ’’مرزا غالب‘‘ کا چربہ بنایا گیا تو اس میں حقائق اور اس زمانے کے ادب و آداب کو فراموش کر دیا گیا۔ پاکستان میں مرزا غالب کی غزلیں ملکہ ترنم نور جہاں نے گائی تھیں۔ گائیکی اور آواز کے حسن میں تو کچھ کلام نہیں لیکن تاثر اور سادگی کے اعتبار سے سہراب مودی بازی لے گئے تھے پھر بدقسمتی سے پاکستانی ’’مرزا غالب‘‘ میں دہلی کی تہذیب اور مرزا غالب کے کردار کو بھی صحیح طور پر پیش نہیں کیا گیا حالانکہ بعد میں بنائی جانے والی نقل کو اصل سے بدرجہا بہتر ہونا چاہئے تھا۔ جب ان امور پر نظر ڈالیں تو سہراب مودی کی ہنری مندی اور عظمت کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بات بجائے خود منفرد اور قابل داد ہے کہ پہلی (اور شاید آخری بار) برصغیر کے کسی فلم ساز نے ایک معروف اور عظیم اردو شاعر کے بارے میں فلم بنانے کا ارادہ کیا اور اس کہانی کو کسی فلم کی کہانی میں فرضی کرداروں کے ساتھ پیش کرنے کی جگہ کود اس کے نام سے یہ فلم بنائی۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر596 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ