فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر596

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر596
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر596

  



معروف پاکستانی فلمی کہانی نویس اور ہمارے معزز دوست عزیز میرٹھی اسی زمانے میں بمبئی گئے تھے اور انہوں نے وہاں سینما ہاؤس میں ’’مرزا غالب‘‘ دیکھی تھی۔ وہ بمبئی سے واپس آئے تو اپنے ساتھ بے شمار ان کہی فلمی داستانیں بھی لے کر آئے ۔ ہم اس زمانے میں صحافی تھے۔ بھارتی فلمی رسائل و جرائد پاکستان میں آسانی سے دستیاب تھے بلکہ بھارتی فلموں کی نمائش بھی معمول میں داخل تھی لیکن فلم، مرزا غالب کی پاکستان میں کبھی نمائش نہ ہو سکی۔ شاید کسی تقسیم کار نے انتہائی کامیاب اور بڑے ستاروں کی فلموں کے مقابلے میں ’’مرزا غالب‘‘ کو زیادہ منافع بخش نہ سمجھا ورنہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ’’غالب‘‘ کے بارے میں بنائی ہوئی اس فلم کو بطور خاص پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا۔ ہمارے حصے میں اس کا بھونڈا چربہ ہی آیا تھا جس میں اداکاروں کا انتخاب نا مناسب تھا اور قدیم دہلی کا ماحول قطعی ناپید تھا۔ حالانکہ اس فلم کے مکالمے مایہ ناز ادیب آغا شورش کاشمیری نے تحریر فرمائے تھے۔ آغا شورش بہت بڑے خطیب، ادیب اور صحافی تھے لیکن دہلی کی تہذیب اور ماحول سے ان کی واقفیت کتابوں کی حد تک تھی۔ یہی وجہ یہ کہ غالب کے زمانے کے اردوئے معلی کا اس فلم کے مکالموں میں شائبہ تک نہیں آیا۔ مرزا غالب کے کلیدی شاعرانہ کردار کے لیے جب سدھیر صاحب کے نام کا اعلان کیا گیا تو سب حیران رہ گئے کہ ۔۔۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر595 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پسلی پھڑک اتھی نگہ انتخاب کی

اس کا سبب یہ تھا کہ سدھیر صاحب ایکشن فلموں میں کام کرنے کے سلسلے میں بہت شہرت رکھتے تھے اور فلم بینوں نے انہیں ’’جنگجو ہیرو‘‘ کا خطاب دے دیا تھا۔ ان کی اکثر فلمیں مار دھاڑ سے بھرپور اور خون خرابے سے شرابور ہوا کرتی تھیں ۔ پھر ایک قابل ذکر بات یہ بھی تھی کہ وہ پنجابی فلموں کے سپر اسٹار کی حیثیت سے زیادہ مشہور تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی اور سدھیر صاحب کے شیدائیوں نے جوق در جوق سینما گھروں کا رخ کیا تو انہیں سدھیر صاحب کو انگر کھا اور چوڑ ی دار پاجامے میں ملبوس غزلیں پڑھتے ہوئے دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی۔ پہلا شو ختم ہاور اور تماشائی باہر نکلے تو باہر کھڑے فلم بینوں نے لاہور کی روایت کے مطابق ان سے فلم کی رپورٹ دریافت کی۔

سب نے ہاتھ ہلا کر بہت زور زور سے اعلان کی’’ڈبا فلم ہے۔ لالہ سدھیر کی ایک بھی فائٹ نہیں ہے۔‘‘

پاکستانی ’’مرزا غالب‘‘ کے ساتھ صرف یہی ستم ظریفی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ہدایت کار کے خورشید صاحب تھے جو خالص پنجابی تھے اور اردو شاعری سے تو ان کا دور کا واسطہ بھی نہ تھا (فلمی گانوں کے سوا)فلم ساز بھی پنجابی تھے۔ مکالمہ نگاری کے لیے آغا شورش کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جو نامور ادیب، شاعر اور صحافی تھے مگر قدیم دہلی کی زبان، طور طریقوں اور تہذیبی راجوں سے ناواقف تھے۔ لالہ سدھیر مرزا غالب بنائے گئے تھے جو پنجابی فلموں کے مانے ہوئے سپر اسٹار تھے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ زبان کی اصلاح کے لیے سیٹ پر۔ شاطر غزنوی صاحب ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔ شاعر غزنوی صاحب فلمی مصنف تھے لیکن قدیم دہلی کی اردوئے معلی کے لب و لہجے ، تلفظ اور ادائیگی کے انداز سے وہ بھی واقف نہ تھے۔ پاکستانی مرزا غالب کے برعکس سہراب مودی نے اپی فلم کے لیے حسب معمول بہت چھان بین اور تحقیق کرائی تھی۔ قدیم ماحول اور تہذیب کی تربیت کے لیے پرانی دہلی والوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ان حالات میں پاکستانی ’’مرزا غالب‘‘ کو مرزا غالب کی پیروڈی کہنا زیادہ مناسب تھا۔ جب ہ نے اس فلم پر تبصرہ ل کھتے ہوئے ان چیزوں کی نشان دہی کی تو سب لوگ ناراض ہوگئے۔ آغا شورش کے ساتھ ہم کام کر چکے تھے اور ہمیشہ انہیں قابل احترام سمجھا تھا۔ ہمارا لکھا ہوا تبصرہ دیکھ کر انہوں نے بھی ناخوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا، اب کل کے لڑکے ہمیں زبان سکھائیں گے۔

بہرحال، یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ ذکر عزیز میرٹھی صاحب کا ہو رہا تھا۔ وہ جب بمبئی سے واپس آئے تو ان سے بمبئی کی فلمی دنیا کی روداد سننے کے لیے دوستوں کی محفل منعقد ہوئی۔ مرزا غالب اور سہراب مودی کی تعریف کرتے ہوئے عزیز میرٹھی ساحب کی زبان نہیں تھکتی تھی۔

کہنے لگے ’’آفاقی صاحب۔ سہراب مودی تو غضب کا جادوگر ہے۔ مرزا غالب کی غزلوں کو فلم میں اس طرح پیش کیا اور ایسا خوب صورت ماحول پیدا کر دیا کہ دیکھنے والے دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ میں نے بمبئی کے سینما گھروں میں (جہاں کی زبان مراہٹی ہے اور وہاں بہت اچھی مراہٹی فلمیں بھی بنائی جاتی ہیں) تماشائیوں کو ساکت اور دم بخود بیٹھے دیکھا ۔ خدا جانے غالب کی غزلیں ان کی سمجھ میں آرہی تھیں یا نہیں آرہی تھیں مگر سینما ہال میں ایسا سناٹا تھا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ اردو زبان سے قطعی نابلد ہزاروں افراد غالب کی غزلوں کو سن کر متاثر اور مرعوب ہو رہے تھے۔‘‘

سہراب مودی کے بارے میں ایک قابلذکر بات یہ ہے کہ وہ پارسی تھے۔اردو سے بالکل نابلند تھے۔ نہ اردو لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے لیکنا ردو کا تلفظ اور مکالموں کی ادائیگی بے مثال تھی۔ انتہائی شائستہ زبان بولتے تھے۔ الفاظ کی ادائیگی، فقروں کا اتار چڑھاؤ ایسا کہ اہل زبان بھی سن کر رشک کرتے تھے۔ یہ صلاحیت خداداد بھی تھی اور اس کے لیے سہراب مودی نے خود بھی کاوش کی تھی۔ دراصل اسٹیج کے زمانے میں انہوں نے اداکاری کا آغاز کیا تھا جب ڈراموں میں اردو کا سکہ چلتا تھا۔ آغا حشر کاشمیری جیسے ڈراما نویس اور مکالمہ نگار تھے جو الفاظ سے کھیلنے میں مہارت رکھتے تھے۔ اس زمانے میں سہراب مودی نے اردو زبان سیکھی تھی مگر صرف بولنے کی حد تک ۔ مکالمے انہیں رومن میں لکھ کر دیئے جاتے تھے۔ روز مرہ زندگی میں بھی وہ بہت عمدہ اردو بولتے تھے۔ ہدایت کار و فلم ساز لقمان جب دہلی سے فلم کے شوق میں بھاگ کر بمبئی پہنچے تو چند روز بعد انہیں سہراب مودی صاحب کے پاس ملازمت مل گئی۔ انہوں نے یہ احوال ایک مفصل انٹرویو میں بھی بیان کیا تھا جو ہم ان کی زبانی آپ تک پہنچا چکے ہیں۔ جب لقمان صاحب جیسے دلی والے (نو عمر ہی سہی) سہراب مودی کی اردو کے قائل تھے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں یہ زبان بولنے پر کتنا عبور حاصل تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر597 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ