وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 19 ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 19 ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 19 ویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

فواد کے والد حسب معمول رات کو آٹھ بجے آفس سے آئے، ایمن کے ساتھ کھانا کھایا اور اپنا Lap Topلے کر بیٹھ گئے اور نیٹ پر اپنے Sharesچیک کرنے لگے۔

ایمن کچھ پیکٹس لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ وقار احمد نے لیپ ٹاپ پر نظر جمائے ہی ایمن سے بات کی’’کیا بات ہے، آج کل تمہاری این جی او کی کوئی مصروفیت نظر نہیں آرہی کیا عورتوں کے مسائل ختم ہوگئے ہیں۔‘‘

ایمن سرسری سے لہجے میں بولی’’میرا اپنا دل نہیں لگتا اب ان کاموں میں عجیب سا ادھورا پن آگیا ہے۔ میرے اندر۔۔۔میری اپنی فرسٹریشن ختم ہوگی تو ہی دوسروں کے مسائل حل کروں گی۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 18 ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وقار احمد نے لیپ ٹاپ چھوڑ کر ایمن کی طرف دیکھا’’یی کون سے پیکٹس لے کے بیٹھی ہو، کیا ہے ان میں؟ ‘‘

ایمن پیکٹس کو ہاتھوں سے چھونے لگی’’ان میں فواد کے نئے سوٹ ہیں۔ جب میں فواد کے لیے وینا کا ہاتھ مانگنے اپنے بھائی کے گھر گئی تھی تو میں نے پہلے ہی فواد کی منگنی کے لیے نئے سوٹ لے لیے تھے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بھائی جان انکار کر دیں گے۔ پتہ نہیں بھائی جان نے مجھ سے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے وینا کا رشتہ عارفین سے طے کر دیا ہے عارفین بھی تو ان کی بہن کا ہی بیٹا ہے۔ حیثیت میں بھی ہم دونوں بہنوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے پھر ایسا کیوں؟‘‘

وقار احمد اٹھ کر ایمن کے قریب بیٹھ گئے۔’’کیسی باتیں کر رہی ہو۔ صرف حیثیت اور تعلق ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ بیٹی کے معاملے میں بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘

ایمن سر جھکائے رونے لگی۔ ’’میرا فواد یہاں ہوتا تو میں جیسے تیسے بھائی کو منا ہی لیتی۔ میں بھی اپنے بیٹے کے ارمان پورے کرتی۔ کس قدر بضد تھا وہ وینا کے رشتے کے لیے اور آج وینا اور کی ہوگئی ہے ۔ اگلے جمعہ وینا اور عارفین کی منگنی ہے۔‘‘

وقار احمد نے اس کے آنسو پونچھے۔’’تم اس طرح پریشان مت ہو، خدا کو یہی مظور ہوگا۔میں ابھی مایوس نہیں ہوا۔ ان شاء اللہ ہمارا فواد ضرور واپس آئے گا اور ہم اس کے لیے وینا بھی اچھی لڑکی ڈھونڈیں گے۔‘‘

ایمن نے وقار احمد کے شانے پر سر رکھ لیا۔ اس کی بھیگی آنکھوں میں خواب تلملاتے رہے۔ کہ ایک دن اس کا بیٹا واپس آئے گا اور وہ اپنے سارے ارمان پورے کرے گی۔ وینا اپنی ہونی والی ساس یعنی پھپھو کے ساتھ منگنی کے لیے شاپنگ میں مصروف تھی۔ اسکی والدہ نے عذرا کی بات رد نہ کی کہ وہ اپنی ہونے والی بہو کو خود شاپنگ کرائے گی۔

عذرا اور وینا نے پہلے بوتیک سے منگنی کا جوڑا لیا اور اس کے بعد وہ دونوں جیولر کے پاس چلی گئیں۔ وینا کو کافی دیر لگی اپنے لیے سیٹ پسند کرنے میں۔ اس نے سونے کا سیٹ اپنے گلے سے لگا کر دیکھا۔

’’یہ کیسا لگ رہا ہے آنٹی! مجھے تو یہی اچھا لگا ہے‘‘ عذرا نے مسکراتے ہوئے وینا کی طرف دیکھا۔

’’ہاں۔۔۔پیارا لگ رہا ہے یہی پیک کروا لیتے ہیں۔‘‘

وینا بہت خوش تھی۔ فوادکو اس نے ایک کزن سے زیادہ کبھی کچھ نہیں جانا۔ عارفین سے بھی شادی کا فیصلہ اس کے والدین کا تھا اور وہ اس فیصلے پر خوش تھی۔ عارفین اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منیجر تھا۔ ان دونوں وہ دو ہفتے کے لیے گھر آیا تھا۔ منگنی کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ عذرا اور وینا کے گھروں میں منگنی کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی تھیں۔

تیاریاں میں ایک ہفتہ کیسے گزرا پتہ ہی نہ چلا۔ منگنی کا دن آن پہنچا۔ رات کا فنکشن تھا۔ ایمن کے بھائی اعجاز اور بھابی صائمہ کے خوشی کے مارے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ مہمانوں کو آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ وینا بھی بیوٹی پارلر سے تیار ہو کے آگئی مگر ابھی تک اس کے سسرال والے نہیں پہنچے تھے۔

ایمن اور وقار احمد بھی ابھی تک اپنے گھر میں ہی تھے’’بیگم جلدی کرو، ہم لیٹ ہوگئے ہیں۔‘‘ وقار احمد گاڑی کی چابی گھماتا ہوا گیرج کی طرف بڑھا۔ ایمن تیار ہوکے اپنے بیڈ روم سے نکلی تو اسنے اپنے بیڈ روم کی لائٹ آف کر دیا ور بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے کچن کی طرف بڑھی جہاں ملازم کام میں مصروف تھا۔

وہ ملازم کو سمجھانے لگی’’بابا! گھرکا خیال رکھنا۔ رات کا فنکشن ہے ہمیں دیر ہو سکتی ہے۔‘‘

’’جی بی بی جی آپ بے فکر رہیں۔‘‘ ملازم نے کہا اسی دوران ایمن کے بیڈ روم کا دروازہ کے کھلنے کی آواز آئی۔

ایمن نے فوراً کمرے کی طرف دیکھا۔ کمرے کی لائٹ آن ہوئی۔ ایم نے تعجب سے اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی بیڈ روم کی چابی کی طرف دیکھا۔

’’چابی تومیرے پاس ہے تو اندر کوئی کس طرح جا سکتا ہے۔‘‘ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے خدشہ ہو اکہ کوئی چور اندر گھس گیا ہے۔ وہ دوڑتی ہوئی وقار کے پاس گئی۔ اس کی سانس پھول گئی۔’’وہ۔۔۔وہ۔۔۔‘‘

’’کیا ہوا؟‘‘ وقار احمد نے پوچھا۔

’’اندر ہمارے بیڈ روم میں کوئی ہے۔‘‘

’’ملازم ہوگا۔‘‘

’’نہیں وہ تو کچن میں ہے۔‘‘ ایمن گھبرائی ہوئی بولی۔

’’میں دیکھتاہوں۔‘‘ وقار احمد نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ ایمن نے اسے روک لیا۔ ’’تم نہ دیکھو، پولیس کو فون کرو۔‘‘

’’Relaxمجھے دیکھنے تو دو۔‘‘ وقار احمد بیڈ روم تک گیا۔ بیڈ روم کا دروازہ باہر سے لاک تھا اور کمرے کی لائٹس بھی آف تھیں۔

وقارا حمد نے سوالیہ نظروں سے ایمن کی طرف دیکھا تو ایمن بلا تامل بولی۔’’میں نے لائٹ آف کرکے دروازہ لاک کر دیا تھا۔ مگر جب میں ملازم سے بات کر رہی تھی تو اسی دوران کسی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور لائٹ آن کی۔ میں دوڑتی ہوئی آپ کے پاس چلی گئی۔‘‘

وقار احمد چڑ کر بولا’’کیسی احمقوں جیسی بات کر رہی ہو۔ چابی تمہارے پاس ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ دروازہ کسی نے کھولا تھا۔‘‘

ملازم وقار احمد کے قریب آیا’’صاحب جی! بیگم صاحبہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں نے بھی دیکھا ہے۔‘‘

’’چابی دو۔‘‘ وقار احمد نے ایمن سے چابی لی اور دروازہ کھول کر کمرے کی لائٹ آن کی ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے پڑی تھی۔ ایمن کی تسلی کے لیے اس نے نقدی اور زیور چیک کیا۔ سب کچھ پورا تھا۔

اس نے تحمل سے ایمن کو سمجھایا’’کمرے سے کوئی چیز نہیں غائب ہوئی اور اگر کوئی شخص کمرے سے بھاگتا تو مجھے دکھائی دے دیتا، تم نے کسی کو کمرے کے آس پاس یا کمرے سے نکلتے دیکھا ہے؟‘‘

’’نہیں۔۔۔‘‘ ایمن کھوئی کھوئی سو بولی۔

’’پھر بھی ایک دفعہ میں اور ملازم سارا گھر چیک کر لیتے ہیں۔‘‘ وقار احمد یہ کہہ کر ملازم کے ساتھ چھت پر چلا گیا اس نے چھت سے سڑک پر دور دور تک نظر دوڑائی۔ اسے ایسی کوئی نشانی نہ ملی جس سے پتہ چلے کہ گھرمیں کوئی آیا تھا۔

وقار احمد اور ایمن ملازم کو گھر میں چھوڑ کر وینا کی منگنی میں چلے گئے۔

وینا اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کی منگنی کی تقریب میں اس کے والدین نے کوئی کسر نہ چھوڑی منگنی کا انعقاد میرج ہال میں کیا گیا تھا۔

میرج ہال خوبصورت انداز میں ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ ہال کی آرائش و زیبائش میں تازہ پھولوں کااستعمال کیا گیا تھا اس لیے فضا تازہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 20 ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟