وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57

  

مہاراجہ نے تالی بجائی اور میراں سے مخاطب ہوا۔

’’میراں ہماری مہان گائیک ہے۔ اس کی آواز ہمارا وجدان ہے۔بھگوان کی سوگند، جب تک یہ نہ گائے اور ہمارے کانوں تک آواز نہ پہنچے ہماری سویر نہیں ہوتی۔ آج ہم نے میراں کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ وہ ہمارے پہلوانوں کو اپنی گائیکی سے محظوظ کرے‘‘۔

میراں نے جھک کر تسلیم کیا اور کہا۔ ’’مہاراج حضور! کنیز اتنی تعریف وستائش کے قابل نہیں۔ حضور ارشاد فرمائیے کیا سناؤں‘‘۔

’’رب اپنی جنابوں دیوے تے بندے کولوں کی منگنا‘‘۔ مہاراجہ نے مسکرا کر میراں کی طرف دیکھا۔

میراں کے لبوں پر بھی تبسم پھیل گیا۔اس نے سازندوں کو اشارہ کیا اور جب ساز ہم آہنگ ہوئے تو محفل میں میراں کی آواز سے سحر طاری ہونے لگا۔ بھولو سرمحفل جھوم اٹھا۔ امام بخش حمیدا پہلوان کے قریب بیٹھا تھا۔ اس نے سرگوشی کی۔

’’یار حمیدے! اپنے اس پٹھے کوذراسنبھالو۔ یہ کیا جھومنے لگا ہے‘‘۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’رہنے دیں بھا جی! میرا پٹھہ تو مولوی بنتا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے یہ میراں کی آواز کا اثر ہے۔ ورنہ یہ ابھی سے داڑھی کہاں رکھ چھوڑنے والا تھا‘‘۔

ساز خاموش ہوتے ہی میراں نے ایک نئی غزل چھیڑ دی۔سازوں کے درمیان ہی وہ بولی۔ ’’اجازت ہو تو آج میں اپنے پہلوانوں کیلئے رات بھر گاؤں‘‘۔

مہاراجہ نے باری باری تمام پہلوانوں کو دیکھا تو گاماں جی نے خلاف معمول علامہ اقبال کی ایک غزل کی فرمائش کر دی۔ میراں نے پہلے تو بڑی حیرت سے گاماں جی کو دیکھا اور پھر غزل سرا ہوئی۔ یہ غزل ختم ہوئی تو امام بخش پہلوان نے تلسی داس کے کلام کی فرمائش کر دی اور پھر تو ساری رات پہلوانوں کی فرمائش جاری رہی اور میراں توانا جذبے کے ساتھ اپنی آواز کا جادو جگاتی رہی۔ سحری کے قریب جا کر محفل کا اختتام ہوا۔

اگلے روز امام بخش امرتسر اور گاماں جی لاہور کیلئے روانہ ہو گئے۔ چند روز ٹھہرنے کے بعد بذریعہ ریل کولہا پور جا پہنچے۔

مہاراجہ کولہاپور کو پہلوانوں کی آمد کی خبر تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سٹیشن پر استقبال کیلئے بھیج دیا۔ کولہاپور بڑی زرخیز ریاست تھی مگر یہ اتنا بڑا شہر نہ تھا۔ آبادی پڑھے لکھے، ملنسار اور پرامن لوگوں پر مشتمل تھی۔ سیٹھ سلیمان اور بابا سوگندی امام بخش پہلوان کیلئے بگھیاں سجا کر لائے تھے۔ بابا سوگندی تو امام بخش کا دیوانہ تھا۔ وہ اولاد امام بخش کو اپنے ساتھ لپٹا لپٹا کر چوم رہا تھا۔ تمام پہلوان بھاری جلوس میں دربار پہنچے تو راستے بھر میں کھڑے لوگ ان پر پھول نچھاور کرتے رہے۔ مہاراجہ کولہاپور نے خلاف معمول اپنی مسند سے اٹھ کر امام بخش پہلوان کا استقبال کیا۔ مہاراجہ نے پہلوانوں کو تھوڑی دیر آرام کیلئے کہا اور شام کو ان کے اعزاز میں دربار لگایا۔ دربار کے اختتام پر بابا سوگندی مچل گیا اور ملتجیانہ انداز میں مہاراجہ سے بولا۔

’’حضور میں امام بخش کا پرانا سیوک ہوں۔ ان کا اتارا میرے گھر ہونا چاہئے‘‘۔

مہاراجہ نے حکم دیا۔ ’’نہیں بابا سوگندی! امام بخش آج محل میں ہی ٹھہریں گے‘‘۔

باباسوگندی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا جھرنا پھوٹ پڑا۔

’’حضور مجھ پر ترس کھائیں اور مجھے امام بخش کا اتارا نصیب ہونے دیں‘‘۔

مہاراجہ کو بابا سوگندی پر رحم آ گیا۔ اس نے پہلوانوں کو بابا سوگندی کے ہاں جانے کی اجازت دے دی۔

بابا سوگندی کے تو جیسے نصیب جاگ پڑے تھے۔ وہ بڑے جلوس میں امام بخش کو اپنی حویلی میں لے گیا۔ اس کی بہو بیٹیاں، پوتیاں، پوتے اور تمام عزیز اس وقت حویلی میں اکٹھے ہو گئے۔ آج یہ پہلی بار ہوا تھا، ورنہ کولہاپور کی خوبصورت عورتیں بے باکی سے مردوں کے سامنے نہیں آتی تھیں مگر اس بار بات اور تھی۔ بابا سوگندی نے گھر کی خواتین کو بلایا اور امام بخش اور اس کے تمام بیٹوں سے آشیرباد لینے اور بھینٹ چڑھانے کا حکم دیا۔سانولی سانولی جواں قد مدھر نینوں والی کولہاپوری عورتیں پہلوانوں کے باری باری چرن چھونے لگیں۔ بابا سوگندی کے تو زمین پر پاؤں نہیں ٹک رہے تھے۔ وہ بار بار عورتوں کو چرن چھونے کی ہدایات کرتا۔ جھجھکتی عورتیں بے باکی سے پہلوانوں کی زیارت کرنے کے ساتھ ان کے گن گاتیں اور الٹے قدموں واپس جاتی رہیں۔ بھولو برادران نے زندگی میں پہلی بار ایسا منظر دیکھا تھا۔

سیٹھ سلیمان اور بابا سوگندی نے ایک خاص مشن کے تحت امام بخش کو کولہاپور بلوایا تھا۔انہوں نے اولاد امام بخش کے آتے ہی اعلان کرا دیا کہ جو پہلوان بھی بھولو برادران سے کشتی لڑنا چاہتا ہے، میدان میں آ جائے۔ اس اعلان کو ابھی ایک ہی روز ہی گزرا تھا کہ مہاراشٹر کا ہاتھی چنگاڑنے لگا۔ شیو گینڈا شبو کہنے لگا۔

’’لاؤ بھولو کو! دیکھتا ہوں کیسے عزت سے واپس جاتا ہے‘‘۔

حمیدا پہلوان نے اس کا چیلنج قبول کر لیا اور اسے میدان میں بلا لیا۔ یہ کشتی کولہاپور میں ہوئی۔ کولہاپور میں کشتی فیصلہ کن ہوتی تھی۔ یہاں کے اکھاڑے بھی اپنی نوعیت کے منفرد تھے۔ یہ اکھاڑے عام سطح سے نیچے اور بڑے وسیع و عریض ہوتے تھے جن میں بیک وقت کئی جوڑ چھوڑ دئیے جاتے تھے۔

شیو گینڈا اور بھولو میدان میں آ گئے۔ یہ کولہاپور میں بھولو کی چیلنج کشتیوں کی پہلی کشتی تھی۔اہل کولہاپور کو ویسے بھی امام بخش سے بڑی عقیدت تھی لہٰذا اب اس کے جانشین بھولو کو دیکھنے کیلئے خلق خدا اکھاڑے میں اتر آئی تھی۔

شیو گنڈا نے آتے ہی بھولو کو جن جپھا میں جکڑ لیا تھا۔ یہ ننگی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ دیوہیکل شیو گنڈا بھولو کو اپنے بازوؤں کے حصار میں آکٹوپس کی طرح جکڑ کر دائیں بائیں جھٹکے دینے لگا۔ بھولو نے اپنی انگلیاں اس کے جانگیے میں نیچے کی طرف سے ڈالیں اور پھر ’’یاعلی ‘‘ کا نعرہ مار کر اسے اوپر کو اٹھایا۔ بھولو نے حیرت انگیز طور پر شیوگنڈا کا لنگر اکھاڑ دیا۔ جونہی شیوگنڈا کے پاؤں اکھاڑے سے ذرا اوپر اٹھے۔ بھولو نے دائیں ٹانگ ماری اور ساتھ ہی سینے کا ریلہ مار کر اپنے سمیت نیچے گرا لیا۔گرتے ہی شیوگنڈا کا حصار ٹوٹ گیا بھولو نے اس کی گردن پر گوڈا رکھا اور اسے چت کر دیا۔

کشتی کانٹا دار تھی مگر مہاراشٹر کے شیردل شاہ زور نے گیڈر بن کر دوڑ لگا دی تھی۔اچھا بھلا دنگل فساد کدہ بن گیا تھا۔مہاراجہ کولہاپور رستم مہاراشٹر جوتی پانڈے کی اس حرکت پر تلملا گیا۔ اس نے اپنے ہرکاروں کو ہر طرف دوڑا دیا اور انہیں حکم دیا۔

’’جوتی پانڈے کو کہہ دو جان پیاری ہے تو بھولو سے مقابلہ کیلئے سیدھے سبھاؤ اکھاڑے میں آ جائے ورنہ جوتیاں مار مار کر کھال اتار دوں گا‘‘۔

جوتی پانڈے نام کا ہی شاہ زور نہ تھا۔ وہ طاقت اور فن میں بھی باکمال تھا مگر بھولو پہلوان کی دہشت نے اسے ہراساں اور بدحواس کر دیا تھا۔ شیوگنڈا کو عبرتناک شکست سے دوچار کرنے کے بعد کولہاپوری ٹھیکیداروں نے بابا سوگندی اور سیٹھ سلیمان کو جوتی پانڈے اور بھولو کے مقابلہ پر تیار کیا تھا۔ بھولو خود بھی اس پہلوان سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے بے تاب تھا۔ اس نے جب سے کولہاپور میں قدم رکھا تھا، جوتی پانڈے کی شہرت اور فن کے کافی قصیدے سن چکا تھا۔ بھولو اس کاری گر پہلوان کا نیست مارنے کیلئے جس قدر بے تاب تھا، سیٹھ سلیمان اور بابا سوگندی بھی بھاری رقم کیلئے اسی قدر مچل رہے تھے۔ انہیں امید تھی جوتی پانڈے اور بھولو کا مقابلہ کانٹے دار ہو گا اور اس کو دیکھنے کیلئے دنیا اکٹھی ہو جائے گی۔

بالاخر جوتی پانڈے اور بھولو کی کشتی طے ہو گئی۔ اس معرکہ آرائی کے قصیدے کولہاپور کی دیواروں پر چسپاں کر دئیے گئے۔ ٹکٹ بھی تمام بک چکی تھیں۔ دنگل گاہ تماشائیوں سے بھر چکی تھی۔ بھولو اپنے نئے نویلے قرمزی جانگیے میں ڈنڈ سپاٹے لگاتا اکھاڑے میں داخل ہو چکا تھا۔ ادھر جوتی پانڈے کے نام کا اعلان ہوا تو ہندوؤں کاسورما ہتھے سے اکھڑ گیا۔ بھولو کا اکھاڑے میں یوں تند طوفان کی طرح اتارنا اس سے برداشت نہ ہو سکا، وہ خوفزدہ ہو گیا اور اس نے اپنے خلیفہ کے ذریعے ٹھیکیداروں کو کہلوا دیا۔

’’میں بھولو سے مقابلہ نہیں کروں گا‘‘۔

ٹھیکیداروں کے ماتھے شکنوں سے بھر گئے۔ ’’کیوں پہلوان کیا ہوا۔ تم جانتے نہیں کیا کہہ رہے ہو۔اگر کشتی نہ لڑو گے تو تماشائی ہمیں ہی نہیں تمہیں بھی مار ڈالیں گے‘‘۔

جوتی پانڈے کا جانگیے میں تنا ہوا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ ’’جو بھی ہو گا دیکھا جائیگا‘‘۔ اس نے اپنے خوف کو حلق سے نیچے اتارنے کی کوشش کی۔ بس میرا یہی فیصلہ ہے۔ میں اس سورمے سے نہیں لڑوں گا‘‘۔

’’پہلوان جی یہ زیادتی ہے۔ آخر پتہ بھی تو چلے عین وقت پر کشتی لڑنے سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے۔ کیا پیسے کم ہیں؟‘‘

’’پیسوں کی بات نہیں۔ بس میرا من بھولو سے کشتی لڑنے کو نہیں چاہ رہا‘‘۔

ٹھیکیداروں نے جوتی پانڈے کے عذرلنگ پر قہقہ مارا اور اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا۔ ’’پہلوان جی تم من کی بات کے دھیان میں لگے ہو۔ بڑی حیرانی ہے رستم ہو کر عورتوں جیسی باتیں کرنے لگے ہو۔ پہلوان جی یوں میدان سے بھاگنا مردوں کا شیوہ نہیں ہے‘‘۔

ایک ٹھیکیدار نے پوچھا۔ ’’پہلوان جی کہیں آپ بھولو سے مل تو نہیں گئے۔ کیا ان کا پیسہ کھا لیا ہے‘‘۔

جوتی پانڈے نے جھٹ سے کہا۔ ’’بھگوان کی سوگند ایسی بات نہیں‘‘۔

’’تو پھر کیا بات ہے۔ پہلوان جی تمہیں دکھائی نہیں دے رہا، کشتی کا اعلان ہو چکا ہے اور تم ابھی تک انکار پر ڈٹے ہوئے ہو‘‘۔ ایک ٹھیکیدار نے گرم ہو کر کہا۔ ’’پہلوان جی شرم کرو۔ کولہاپور کے غیور لوگوں کی کیوں ناک کٹوا رہے ہو۔اگر تم نے انہیں رسوا کیا تو تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

مگر ہزاروں جتن کے باوجود جوتی پانڈے انکار پر ڈٹا رہا۔ وہ سحرزدگی کے عالم میں بھولو سے کترا رہا تھا۔

بھولو پہلوان اکھاڑے کی مٹی ہاتھ میں لے کر اپنے ہاتھ مل رہا تھا۔ منصف بھی پاس کھڑے تھے۔ جوتی پانڈے اعلان کے باوجود اکھاڑے میں نہیں آ رہا تھا۔تماشائی بھی حیران تھے۔ یونہی بیس منٹ گزر گئے۔ اعلان کرنیوالے اس دوران تماشائیوں کو بہلاتے رہے کہ بس رستم جوتی پانڈے آنیوالا ہے مگر انتظار تو ہجر کی رات کی طرح طویل ہو گیا تھا۔ بالاخر تماشائیوں کو بھنک پڑ ہی گئی کہ جوتی پانڈے میدان سے بھاگ گیا ہے۔ بس پھر کیا تھا تماشائی بپھر گئے۔ پہلے ان کا شور اٹھا پھر تندوتیز اور مصالحہ دار گالیوں کی بارش جوتی پانڈے پر برسنے لگی۔ اس نے دم دبائی اور بڑی مشکل سے دنگل گاہ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ تماشائیوں نے اب کرسیوں کو توڑنا شروع کر دیا اور اٹھا اٹھا کر اکھاڑے میں پھینکنے لگے۔ کئی غیرت مند کولہاپوری نوجوان آگے بڑھے اور جوتی پانڈے کو مارنے کیلئے تلاش شروع کر دی اور کچھ نے سائبانوں کو آگ لگا دی۔ پرامن دنگل گاہ فساد کی نذر ہو گئی۔ پولیس کو امن قائم کرنے کیلئے گولی چلانا پڑی۔ ایسے میں پہلوانوں کی حفاظت بڑی مشکل سے کی گئی اور انہیں محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔

بپھرے تماشائیوں نے جوتی پانڈے کی کولہاپور کے گلی محلوں میں تلاش شروع کر دی۔ مہاراجہ کو خبر ہوئی تو وہ تماشائیوں سے بھی زیادہ بپھر گیا۔ عوام نے جوتی پانڈے کو ہر صورت میں بھولو کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

مہاراجہ نے انہیں یقین دلایا کہ ایسا ہی ہو گا اور اگلے روز جوتی پانڈے اکھاڑہ میں پیش ہو گا۔

جوتی پانڈے کو مہاراجہ کا حکم سنا دیا گیا۔ وہ شرمندہ تھا اور خجالت کے مارے اب اکھاڑے میں جانا نہیں چاہتا تھا۔ مگر حکم حاکم تھا لہٰذا اگلے روز دنگل دوبارہ سج گیا۔

مقابلہ تو دوبارہ طے ہو گیا تھا مگر اب ایک اور مسئلہ آن پڑا تھا۔ جوتی پانڈے کے فرار سے ٹھیکیداروں کو کافی نقصان ہو گیا تھا۔اس روز صرف بھولو اور جوتی پانڈے کی ہی کشتی فساد کی نذر نہیں ہوئی تھی بلکہ دیگر تمام کشتیاں بھی معطل کی گئی تھیں۔ حسب روایت دنگل کے روز تمام پہلوانوں کو معاوضے بھی دئیے جا چکے تھے۔ اب دوبارہ دنگل سجنے کی صورت میں ٹھیکیداروں کو دوبارہ رقم ادا کرنی تھی اور یہ ان کیلئے ممکن نہ تھا۔ ادھر مہاراجہ کے حکم کے تحت دنگل ہر صورت میں ہونا تھا۔ ٹھیکیداروں نے اس کا ایک ہی حل ڈھونڈا اور وہ بابا سوگندی کے پاس پہنچے اور عرضداشت پیش کی۔

’’بابا جی، مہاراجہ حضور نے دنگل دوبارہ سجانے کا حکم جاری کیا ہے مگر بھولو پہلوان دوسرے معاوضے کے بغیر اب اکھاڑے میں نہیں آئے گا۔ ستم تو یہ ہے کہ ہم دوہرا معاوضہ دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہی معاملہ دوسرے پہلوانوں کے ساتھ بھی ہے۔ آپ کے امام بخش پہلوان جی سے بڑے گہرے تعلقات ہیں۔ اگر آپ ان سے یہ کہہ دیں کہ بھولو جی پہلے والے معاوضہ میں ہی کشتی لڑیں تو ہماری ساکھ بچ سکتی ہے‘‘۔

بابا سوگندی جو پہلے ہی ان ٹھیکیداروں سے نالاں تھا، ہتھے سے اکھڑ گیا اور اکڑ کر بولا۔ ’’اور اٹھاؤ جوتی کے نخرے۔ اس پانڈے کی اولاد نے تو مروا کے رکھ دیا ہے۔ اس میں قصور ہے تو سارا اس کا یا پھر تمہارا۔ اگر تم ہمت کرتے اور اسے گریبان سے پکڑ کر اکھاڑے میں لے آتے تو یوں بھک منگوں کی طرح اب جھولیاں نہ پھیلاتے پھرتے۔ بھولو تو وعدہ کے مطابق میدان میں تھا۔ اس کا معاوضہ حلال ہو گیا۔ اب دوبارہ کہو گے تو دوبارہ معاوضہ ادا کرنا پڑے گا‘‘۔

ٹھیکیدار بابا سوگندی عطر فروش کا ٹکا سا جواب سن کر دلبراشتہ ہو گئے اور کہا۔ ’’تو پھر آپ کی طرف سے انکار ہی سمجھیں بابا جی! ہم نے سوچا تھا کہ کولہاپور کی عزت بچانے میں آپ مدد کریں گے مگر آپ نے بڑا مایوس کیا ہے‘‘۔

بابا سوگندی نے کہا۔ ’’ہاں میری طرف سے انکار ہی سمجھو۔ اگر حوصلہ ہے تو جا کر حمیدا پہلوان جی سے بات کر لو۔ اگر وہ راضی ہو جائیں تو ٹھیک ہے‘‘۔

ٹھیکیدار ایک امید لے کر حمیدا پہلوان اور امام بخش پہلوان کے پاس پہنچے اور گڑگڑائے۔ حمیدا پہلوان نے سوچا اور پھر کہا۔ ’’بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ دوبارہ معاوضہ لینے والی بات ذرا دل کو لگتی نہیں ہے۔ تم تیاری کرو۔ بھولو سابقہ پر ہی کشتی لڑے گا‘‘۔

دنگل دوبارہ سج گیا۔ جوتی پانڈے منتر پھونکتا اکھاڑے میں آیا۔ بھولو نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بڑے معنی خیز انداز میں مسکرایا۔ جوتی پانڈے بھولو کی اس دکھائی کو برداشت نہ سکا اور سراسیمہ نظر آنے لگا۔ اس دوران منصف کشتی کی اجازت دے چکا تھا۔ بھولو آہستہ سے قدم بڑھاتا جوتی پانڈے کی طرف بڑھا مگر وہ اپنی جگہ ساکت و جامد کھڑا تھا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

طاقت کے طوفاں -