دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر51

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر51
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر51

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میری زندگی میں اداکار پران کو بڑی اہمیت حاصل رہی ۔وہ بڑ ا مخلص اورذہین دوست تھا ۔سیٹ سے باہر ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت سی باتیں کرتے اوریہ اچھا لگتا تھا ۔کئی بار ہم دونوں بیک وقت کئی فلموں میں اکٹھے ہوتے ۔اس وقت یہ منظر دیکھنے کے قابل ہوتا جب پران ایک ویلن کے طور پر برے انسان کا روپ دھار کر مجھ سے لڑرہا ہوتا تھا ۔حالانکہ عملی طور پر ہم دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ مخلص تھے ۔میں وہ وقت نہیں بھول سکتا اس نے میری شادی میں شرکت کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہوائی سفر کیا تھا ۔یہ طوفانی دن تھا ،لیکن اس نے شوٹنگ سے پیک کیا اور طوفانوں میں گھرے ہوئے جہاز میں سفر کیا ۔وہ عین بارات کے وقت پہنچ گیا تھا اور بغیر کوئی لفظ ادا کئے وہ مجھ سے بار بار فرط جذبات سے گلے لگتا رہا ۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فلم آزاد میں جب میں نے کامیڈی رول کیا تو یہ پران ہی تھا جس نے کہا کہ یہ کردار سپرہٹ ہوگا ۔واقعی لوگوں نے مجھے اس روپ میں پسند کیا تھا ۔

اب میں آپ کو ایک دلچسپ واقعہ سناتا ہوں ۔یہ نادرہ اورمکری (چھوٹے قد کا ایکٹر) کے ساتھ پیش آیا تھا ۔ان دنوں ہم’’ آن ‘‘( 1952 ) کی شوٹنگ میں بمبئی سے دور تھے ۔یہ محبوب صاحب کی فلم تھی ۔

محبوب صاحب کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اداکاروں اور ٹیکنیشنز کا بہت خیال رکھتے تھے خاص طور پر جب وہ آؤ ٹ دور شوٹنگ پر ہوتے۔ہر کسی کے ہوٹل میں کمرے بک کراتے ۔ایک دن مکری شوٹنگ سے واپس آیا اور اس نے ہوٹل استقبالیہ پر کہا کہ وہ میرا(دلیپ کمار) شئیر کرے گا ۔ا سلئے ہوٹل والوں نے اسکے کمرے میں ضروری سامان نہ رکھا ۔ 

سردیوں کے دن تھے۔میں رات کو لیٹ ہوٹل آیا اورہلکا پھلکا کھانا کھا کر کمرے میں پہنچااور گرم لحاف اوڑھ کر سوگیا ۔اتفاق سے میں نے دروازہ لاک نہیں کیا تھا ۔رات کافی گزر چکی تھی کہ مجھے احساس ہوا کہ کوئی اور میرے کمبل میں گھس رہا ہے۔میں ہڑبڑا کر اٹھ پڑا ۔دیکھا تو یہ مکری تھا جس نے میرا پاجامہ کرتہ پہن رکھا تھا ’’تم اس وقت میرے کمرے میں کیا کررہے ہو‘‘

اس نے لمبی چوڑی وضاحت کی لیکن میں عام طور کسی کے ساتھ اپنا بیڈ شئیر کرنے کا عادی نہیں تھا ۔میں ایک پٹھان تھا اور یہ میرے مزاج کے خلاف تھا ۔

مکری کا کہنا تھا کہ اندھیرے میں میرا کمرہ تلاش کرتے ہوئے ایک ایسے کمرے میں گھس گیا جس کا دروازہ کھلا تھا ۔اس نے کچھ نہیں سوچا اور بیڈ پر لحاف میں گھس گیا لیکن دوسرے ہی لمحے اسکو نسوانی چیخ سنائی دی ۔وہ نادرہ کے کمرے میں گھس گیا تھا ۔نادرہ بری طرح چیخنے لگی،وہ حواس میں نہیں رہی تھی اور بری طرح ہراساں تھی۔مکری نے فوراً اس سے غلط فہمی پر معافی مانگی اور پھر وہان سے بھاگا اور میرے کمرے تک پہنچ گیا ۔

اس نے واقعی نہایت غلط حرکت کی تھی ۔میں نے بھی اسکو کمرے سے نکال دیا ۔اگلے دن طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔محبوب صاحب کا پارہ چڑھا ہوا تھا ،مکری کی حرکت کے باعث ان کا گھر داو پر لگ گیا تھا کیونکہ مسز محبوب خان کو شک ہوا کہ یہ کچھ گڑ بڑ ہے۔انہوں نے مجھ سے سوال کیا ’’ نادرہ نے کمرے کا دروازہ بند کیوں نہیں کیا تھا ،کیا دروازہ محبوب کے لئے کھلا رکھا گیا تھا ‘‘ 

مسز محبوب خان کو یقین تھا کہ محبوب صاحب نئی نویلی اداکارہ کو بھی اپنے دل میں جگہ دے رہے ہیں اور اس نے دروازہ ان کے لئے ہی کھولا ہوگا ۔وہ میرے ساتھ شکوہ کرتی رہیں اور روئیں بھی کافی کہ ان کا شوہر ان سے بے وفائی کررہا ہے ۔یہ بات نظر انداز کئے جانی والی نہیں تھی۔محبوب صاحب مکری پر سخت گرم تھے ۔میں نے مسز محبوب کی غلط فہمی دور کرنے اور ان کا گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لئے بے پناہ کوشش کی ۔یہ سب مکری کی وجہ سے ہوا تھا ۔میں نے اگلے روز اسے کہہ دیا کہ وہ میرا پیچھا نہ کرتا رہا کرے کیونکہ مجھے اپنی پرائیویسی میں مداخلت پسند نہیں تھی۔ان دنوں جب ہم فلم کوہ نور بنا رہے تھے ،اس موقع پر میں نے ایک اور سخت بات کی کہ مکری جب پی رہا ہو اور نشے میں ہو تو میرے پاس ہر گز نہ آیا کرے ۔میں نے سیٹ پر بھی لڑکوں سے کہہ دیا کہ شوٹنگ کے دوران اسے ہر گز ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ دیا کریں ۔تھوڑی بیت پینے سے اسکو کچھ نہیں ہوتا تھا لیکن جب اوورڈوز ہوتا تو کھسک جاتا۔وہ حواس باختہ ہوجاتا تھا اور پھر ایسی حرکتیں ہی کرتا تھا جس کا اظہار وہ نادرہ کے معاملہ میں کرچکا تھا ۔لیکن اسکو اپنی عادتوں پر قابو نہیں تھا ۔

ایک دن کوہ نور کے سیٹ پر میں سنی کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھا کہ مکری ہاتھ میں بوتل تھامے آگیا اور غصے سے بولا کہ دیکھیں اسکے ساتھ یونٹ بوائز نے کیا کیا ،اسکے لئے اورنج جوس لایا گیا جسے اس نے نہیں پیا اور پھر اپنی بوتل کا وہ خود بندوبست کرکے اترا رہا تھا کہ اب اسکو کسی کی محتاجی اور مدد نہیں چاہئے ۔

بولا ’’ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں خود اپنی مدد نہیں کرسکتا ،میرا نام مکری ہے جو تمہارا دوست ہے اور تم نے لڑکوں سے کہا کہ مکری شراب مانگے تو اسکو اورنج جوس دینا ہے ‘‘ اس وقت وہ پئے ہوئے تھااور اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ شوٹنگ میں حصہ لے سکتا ۔مجھے اس نے کنفیوژ کردیا ۔میں نے فوری پیک اپ کا کہہ دیا کیونکہ میں اس وقت یکسوئی کھو بیٹھا تھا ۔ میں نے اسے ساتھ لیا اور سٹوڈیو میں چھوڑنے کے بعد چلا گیا تو مکری کو اندزہ ہوگیا کہ میں اس سے ناراض ہوگیا ہوں اور اس پر حق بجانب بھی ہوں ۔چند دنوں بعد جب ہم ملے تو اس نے معذرت کی اور وعدہ کیا کہ آئیندہ ایسا نہیں ہوگا ۔

’’کوہ نور ‘‘ میں ایکٹنگ کے لئے میں ستار بجانا سیکھا تھا اور یہ خوشگوار وقت میں بھول نہیں سکتا ۔کوہ نور اچھا موڑ تھا زندگی کا۔اس میں میرے ساتھ میناکماری تھی۔اس کے ساتھ رومانوی سین کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا ۔(جاری ہے )

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /میں ہوں دلیپ کمار