کیا واقعی جنات کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوجاتااور بچوں کی شادیاں نہیں ہوتیں ؟

کیا واقعی جنات کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوجاتااور بچوں کی شادیاں نہیں ہوتیں ؟
کیا واقعی جنات کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوجاتااور بچوں کی شادیاں نہیں ہوتیں ؟

  

تحریر: پیر ابو نعمان رضوی سیفی 

چند دن پہلے ایک کاروباری شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے ایک سوال کیا ’’ پیر سائیں اس بات میں کتنی حقیقت ہے کہ جنات کاروبار تباہ کردیتے ہیں؟‘‘ اسکا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ پڑھالکھ اور زمانہ شناس شخص ہے ۔پہلے اسکا تعارف حاصل کیا اور اسے چائے پیش کی پھر اس کے سوال کے حوالے سے کہا’’ ضروری نہیں کہ ہر کاروبار کی تباہی کے پیچھے جنات کا ہاتھ ہو ۔اپنی کاروباری کوتاہی ،غفلت اور غیر ذمہ داری بھی ہوسکتی ہے ۔البتہ اب تک میں کئی ایسے واقعات بتاسکتا ہوں کہ کس طرح جنات کو جادو ٹونہ کرنے والوں نے کسی دشمن کا کاروبار تباہ کرنے لئے استعمال کیا ۔یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے ،جنات انسانوں کی زندگیوں کے ہر معاملے میں دخل اندازی کرتے ہیں‘‘ 

’’میں آپ کے سامنے موجود ہوں ۔میرے بارے میں کچھ بتائیں گے کہ میرے کاروبار کے ساتھ کیا ہوا ہے ؟‘‘ اسکے سوال کرنے کا انداز قدرے طنزیہ بھی تھا ،وہ میرا امتحان لے رہا تھا لیکن اپنی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ کسی سے بدگماں ہونا اپنا دین نہیں ،فکری اور سماجی حالات انسان کو ایسا سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔میں نے اس سے کچھ معلومات لیکر اسکا استخارہ کیا اور پھر اسے بتایا کہ وہ اس وقت واقعی کسی سحری اثرات کے زیر اثر ہے اور اسکو بہت مشکل آزمائش سے گذرنا پڑرہا ہے ۔اس نے ابھی کچھ عرصہ میں کوئی ایسا کاروبار کیا ہے جو جگہ یقینی طور پر جنات کا مسکن ہوسکتی ہے ۔ 

میری باتیں سنتے ہی اسکے ابھرو تن گئے ،اس نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا پھر رکا اور سر ہلاتے ہوئے بولا’’ میں نے شاہ عالمی میں ابھی ڈیڑھ ماہ پہلے ایک گودام بنایا ہے جو ایک پرانی حویلی کا کمرہ تھا ۔حویلی بہت پرانی ہے ۔اسکے بارے مشہور ہے کہ یہان کوئی انسان آباد نہیں رہ سکتا ۔اس پر جنات کا قبضہ ہے ۔لیکن میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا اس لئے میں نے اپنی ضرورت کے تحت گودام لیا ہے ۔مگر گیارہ روز پہلے گودام میں آگ لگ گئی ۔شارٹ سرکٹ نہیں ہوا ۔ملازم نے بتایا کہ رات کو پیشاب کے لئے اٹھا تو اس نے دیکھا کہ دو سائے گودام میں گھوم رہے ہیں ،انہیں دیکھ کر اسکا پیشاب خطا ہوگیااور گودام میں ہی اس نے پیشاب کردیا جس پر وہ سائے اسکی جانب بڑھے اور کہا بدبخت تو نے اس جگہ کو پلید کردیا ہے ۔تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔اس کے بعد وہ گودام سے بھاگ گیا ،صبح ڈرتے ڈرتے گودام گیا تو اس میں آگ لگی ہوئی تھی ۔مجھے اسکی کہانی پر یقین نہیں آیا،سوچاکہ لازمی کسی دشمن نے یہ حرکت کی ہوگی یا خود وہ ملازم اس میں انوالو ہوگا ۔میں نے گودام میں جاکر جائزہ لیا اور اسکی کہانی سن کر جنات کو گالیاں دیں اور کہا کہ واقعی اگر یہ بات سچ ہے تو میرے سامنے آو۔ اس گودام میں رکھا مال جل گیا جس سے میرے کاروبار کو شدید نقصان پہنچاہے اور میری مارکیٹ یکایک بیٹھ گئی ہے۔اگلے دن ایک اور واقعہ ہوا۔میری بیٹی کا پچھلے ماہ نکاح ہوا تھا اور رخصتی میں ابھی چھ ماہ باقی تھے مگر اسکو طلاق ہوگئی ہے ۔ایک تو کاروباری صدمہ اوپر سے بیٹی کا غم ۔ میں بوکھلا گیا ہوں ۔سچی بات ہے کہ میرا ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ واقعی جنات انسانوں کو اس قدر اذیت پہنچا سکتے ہیں ۔میرے ایک د وست نے یہ کہانی سن کر مجھے آپ تک پہنچایا ہے ۔کاروباری ہوں اور بیٹی کے غم میں پریشان بھی اس لئے میں اس معاملے کو حل کرنا چاہتا ہوں ۔اب بتائیں میں کیا کروں ‘‘ اسکی باتیں سن کر میں نے اسے تسلی دی اور اسکے گودام میں جاکر حالات کا جائزہ بھی لیا اور پھر کچھ دنوں کی مشقت کے بعد اسکو جنات کی شرارتوں اور انتقام سے محفوظ بھی کردیا مگر یہ بات میرے ذہن سے چپک کر رہ گئی کہ ہم لوگ مشکل اور مصیبت میں تعویذات اور دم درود کی طرف بھی بھاگ اٹھتے ہیں اور اپنی ان غلیظ حرکتوں اور نظریات کو ترک نہیں کرتے جو اللہ کریم کی مخلوق جنات کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔اس تاجر نے پہلے دن ہی جنات کی اس حویلی میں گودام لیکر ان کو چیلنج کیا،انکے وجود کو ٹھکرایا،پھر وہاں ملازم نے پیشاب کیا اور تاجر نے انہیں گالیاں دیکر چیلنج کیا ۔ اگر وہ اپنے باطلانہ خیالات پر کاربند رہنے کی بجائے پہلے دن ہی اس حویلی میں آیت الکریمہ پڑھا لیتا ،دعا کرالیتا ،اور تکبر سے باز رہتا تو امکان تھا جنات اسکے کاروبار کو تباہ نہ کرتے نہ اسکی بیٹی کا نکاح ٹوٹتا۔ایسا طرز عمل ہمارے ہاں عام ہے اور پھر انسانوں کے کاروبار بھی جنات کی مداخلت سے خراب ہوتے اور انکے بچوں کی شادیوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت