شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 60

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط ...
شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 60

  

مناظرے

حضرت قطب الارشاد قدس سرہٗ العزیز مشہور مناظرِ اسلام تھے سیالکوٹ میں ایک مرزائی غلام رسول نامی عالم سے ختم نبوت کے موضوع پر مناظرہ کیا اور اسے شکست دی۔ اسی طرح حیات مسیح کے موضوع پر مولوی محمد حنیف قمر سائیکل سیاح قادیانی سے مناظرہ کر کے اسے شرمندہ کیا۔بھڑی ضلع گوجرانوالہ میں علی محمد نامی مربی جماعت احمدیہ سے حیات مسیح کے موضوع پر کامیاب مناظرہ کیا۔ عیسائیوں کے ایک پادری مسٹر ولیم جان کے ساتھ جلالپورجٹاں مشن ہسپتال ضلع گجرات میں کامیاب مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ کی روئیداد کا بیان آپ کی کتاب’’شلیوخ ہسپتال میں چند روز‘‘ میں ہے۔ ارتضاد حسین زیدی بہائی، محفوظ الحق علمی بہائی اور عبد الرؤف بہائی چیف کنڑولر ریلوے کراچی سے بہائی مذہب کے بطلان پر مناظرہ کر کے فریق مخالف کو ساکت و صامت کیا۔سیّد منور حسین شیعہ سے مسئلہ سیادت پر چکسواری میں ہزاروں افراد کی موجوگی میں کامیاب مناظرہ کیا۔ میر سیّد مختار حسین زیدی سے باغ فدک، مسئلہ خلافت اور تنازعہ قرطاس کے موضوع پر مناظرہ کیا اور دلائل سے اپنا مؤقف ثابت کیا۔ہالینڈ کے تبلیغی دوروں میں قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوئی۔ بالخصوص ڈین ہیگ کے ایک جلسہ عام میں بہت سے قادیانی تائب ہوئے۔

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 59 پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں

دینی اداروں کی سرپرستی

حضرت قطب الارشاد قدس سرہٗ العزیز اپنی زندگی میں دینی اداروں کی سرپرستی فرماتے رہے۔ بالخصوص ورلڈ اسلامک مشن، اسلامک مشنری کالج اور جمعیت تبلیغ الاسلام بریڈفورڈ جو آپ کے برادر اصغر اور سلسلہ نوشاہیہ بحر العلومیہ کے مرکزی صاحب سجادہ حضرت پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف نوشاہی دامت برکاتہ القدسیہ کی نگرانی میں قائم ہوئے کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ جامعہ تبلیغ الاسلام دولت نگر گجرات اور جامعہ اسلامیہ چکسواری میر پور آزاد کشمیر آپ کی سرپرستی ہی میں قائم ہوئے۔یہ ادارے مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔

شوق مطالعہ اور کتب خانہ

حضرت قطب الارشاد قدس سرہٗ العزیز کو مطالعہ کا بیحد شوق تھا۔دن رات کتب بینی میں مستغرق رہتے ۔برطانیہ کے قیام کے دوران میں اکثررات کو دیر تک آپ کی خدمت میں رہا کرتا تھا آپ شدید علالت کے دوران بھی کئی کئی گھنٹے کتب دینیہ کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔آپ کے کتب خانہ میں عربی، فارسی، اردو اور پنجابی میں معیاری مطبوعہ کتب اور نادر مخطوطوں کانایاب ذخیرہ موجود ہے۔

قلمی خدمات

حضرت قطب الارشاد قدس سرہٗ العزیز بچپن ہی سے بڑے ہونہار اور ذہین تھے ۔ آپ پنجابی، اردو، فارسی اور عربی میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو قدرت نے بے مثال قوتِ حافظہ عطا فرمائی تھی۔ سات سال کی عمر میں پنجابی زبان میں شعر لکھنے شروع کیے۔ آپ نے زیادہ تر پنجابی زبان میں اشعار لکھے لیکن آپ کا اردو عربی اور فارسی میں بھی کلام موجود ہے۔آپ شعر و سخن کی مختلف اصناف کے قادر الکلام شاعر تھے اورانتہائی مشکل مضمون کوآسان زبان میں بیان کر دیا کرتے تھے۔ آپ نے مختلف موضوعات پربہت سی کتب تحریر کی ہیں۔ علم فقہ ، علم تصوف ، تردید و تنقید ، علم الانساب ، تذکرے ، مناقب و فضائل، مکتوبات اور تاریخ گوئی، سلسلہ نوشاہیہ کی تعلیمات اور مشائخ سلسلہ کے حالات پر مشتمل نثر اور نظم میں متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ مجدداعظم قدس سرہٗ کے سوانح پر آپ کی درج ذیل کتب شائع ہوچکی ہیں:

1۔نوشہ پیرؒ 2۔ سلسلہ نوشاہیہ کاتعارف، 3۔ تذکرہ محدث اعظمؒ ،4 ۔نوشہ گنج بخش قادری ؒ ، 5: گلدستہ نوشاہی ،6: شجرہ شریف نوشاہی ، 7:مکتوبات برقیہ، منظوم پنجابی، 8:لوامع البراکات فی تحقیق السادات، 9 :زمزمۂ نوشاہی، منظوم پنجابی، 10 : تحائف نوشاہیہ، منظوم پنجابی 11: تذکرہ نوشاہی شعراء، 12 :نعت نوشاہی،13۔ زرد رنگ کی شرعی حیثیت، 14۔سلک مروارید ۔ اس کے علاوہ مجدد اعظم قدس سرہٗ کے سوانح و افکار پرمتعدد رسائل اور سی حرفی اشعار کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔(جاری ہے)

قسط نمبر 61 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -