سابقہ پارٹنر نے دوست کے کاروبارکو تباہ کرانے کے لئے کالا علم کرنے والے کی خدمات حاصل کرلیں اور پھر اسکی معصوم سی بہن کے ساتھ ایسا شرمناک کام کردیا کہ انسانیت کانپ کر رہ جائے ۔

سابقہ پارٹنر نے دوست کے کاروبارکو تباہ کرانے کے لئے کالا علم کرنے والے کی ...
سابقہ پارٹنر نے دوست کے کاروبارکو تباہ کرانے کے لئے کالا علم کرنے والے کی خدمات حاصل کرلیں اور پھر اسکی معصوم سی بہن کے ساتھ ایسا شرمناک کام کردیا کہ انسانیت کانپ کر رہ جائے ۔

  

پیر ابونعمان رضوی سیفی:

مخلوق جنات اورشیطان ایک ہی مخلوق کے دونام ہیں ۔جنات انسانوں کے خون میں شامل ہوکر اسکے دماغ پر قبضہ کرلیتے اور متاثرہ فرد کو اپنے مطابق زندگی گزارنے اور احکامات پر عمل کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ایسے لوگ غصیلے ہوجاتے ہیں اور سب سے زیادہ اپنی ہی ذات کا نقصان کرتے ہیں ۔چند ماہ پہلے ایک بچی کا کیس میرے پاس آیا تو اس شیطانی مخلوق کی نئی واردات کا علم بھی ہوا ۔یہ تیرہ چودہ سال کی بچی تھی ۔اس نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی کہ جنات اس پر قبضہ کرلیتے ۔انتہائی ذہین اور سکول میں ٹاپ رہنے والی بچی پر جس جنّ نے قبضہ کیا تھا ،وہ بدبخت بھی مسلمان تھا اور سب سے شرمنا ک بات یہ ہے کہ ایک غیر مسلم عامل نے اُسے بچی پر قابض کیا تھا ۔

جس دن وہ بچی جس کا نام آپ مائرہ سمجھ لیں،میرے پاس لائی گئی ،اسکے بازووں پر کٹ لگے ہوئے تھے،چہرے پر تیز دھار سے کھنچی ہوئی خراشیں تھیں۔چہرہ خوف سے پیلا پڑا ہوا تھا ،آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے ۔پہلے میں نے سمجھا کہ اسکو کوئی نسوانی مرض ہوگا لیکن اسکی والدہ نے بتایا ’’مائرہ آج سے پہلے بالکل نارمل تھی،اسے کوئی نسوانی مسئلہ نہیں تھا مگر اچانک چند ہفتے پہلے جب یہ سکول سے گھر آئی تو میں نے اسے ختم شریف سے آئی ہوئی کھیر کھانے کو دی تو اس نے ایک لقمہ لیتے ہی قے کردی ۔اسکا جی اتنا گھبرایا کہ آنکھیں پلٹ گئیں،آواز بھاری ہوگئی ۔تب معلوم ہوا کہ اس کے اندر کوئی جناتی قوت ہے ۔پہلے تو ہم نے پاس ہی محلے کی مسجد کے امام صاحب سے دم کرایا مگر اسکی حالت مزید بگڑ گئی ۔اگلے روز اسکے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور تیسرے دن جب اسکی دوکان میں آگ لگ گئی تو ہمارے ہاتھ پیرپھول گئے ،اس لئے ہم نے عاملوں اور پیروں فقیروں کی جانب بھاگنا شروع کردیا۔لیکن مرض بڑھتا ہی چلا گیا جوں جوں دوا کی، کے مصداق مائرہ کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ راتوں کو یہ اٹھ اٹھ کر چیخیں مارتی ہے ۔اس کے اندر کوئی چیز ظاہر ہوتی ہے اور وہ دھمکیاں دیتی ہے کہ تم سب کو مارڈالوں گا ۔وہ ہی اسکو زخم لگاتی ہے ،اسکی کمر پر بھی ایسے زخموں کے نشان ہیں کہ اب اس سے سکون سے بستر پر لیٹنا بھی مشکل ہوچکا ہے ‘‘

میں نے انہیں تسلی دی اور پھر جب حاضری لگائی تو علم ہوا کہ واقعی بچی پر ایک جنّ نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔پہلے تو میں اس بات پر حیران ہوا کہ ایک مسلمان جنّ غیر مسلم کے قابو کیسے آگیا ہے ۔ہوسکتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہو کیونکہ جنات جھوٹ بہت بولتے ہیں۔اس نے بتایا کہ وہ صرف نام کا مسلمان ہے ۔کبھی اچھے کام نہیں کرتا تھا اس لئے قابو میں آگیا ۔اب تک غیر مسلم عامل نے اسکو کئی لوگوں پر ناحق چھوڑا تھا ۔

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس عامل کی ان گھر والوں سے براہ راست کوئی دشمنی نہیں تھی تاہم اسکے بھائی کا اپنے پارٹنر سے جھگڑا ہوگیا تو اس نے کاروبار الگ کرلیا جس کا پارٹنر کو شدید رنج ہوا اور اس نے کالا علم کرنے والے عامل کو اچھے بھلے پیسے دیکر برباد کرانا شروع کردیا ۔عامل نے اسے واضح بتایا کہ اسکا پارٹنر زیادہ تر تسبیحات کرتا اور وضو میں رہتا ہے اس لئے اسکو فوری قابو کرنا مشکل ہوگا لہذا اس نے اپنی ایک ایجنٹ عورت کی مدد سے مائرہ کے گھر سے اسکے بالوں کا ایک گچھا حاصل کیا اور پھر عمل باندھ کر اس جنّ کو اس پر مسلط کردیا ۔اللہ کا شکر ہے کہ چند دنوں کے علاج سے مائرہ کی اس جنّ سے جان چھوٹ گئی اور وہ روبہ صحت ہونے لگی ۔اس واقعہ سے احساس ہوا کہ ہم لوگ حسد اور کینہ کے لئے اب ایک دوسرے سے انسانوں کی طرح پیش آنے کی امید چھوڑ دیتے ہیں ۔انتقام اور نفرت کے لئے شیطانی کام کرنے پر اتر آتے ہیں اور کوئی مصالحانہ کام کرنے کی بجائے اپنی قوتیں گندے کاموں میں لگا دیتے اور اپنی دنیا اور آخرت تباہ کرنے پر تل جاتے ہیں۔میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ کسی پر کالا جادو کراتے یا کوئی بھی سحری عمل کراکے کسی بے گناہ پر ظلم کرتے ہیں،یہ قانون قدرت ہے کہ وہ خود بھی ایک دن اسی آگ میں جلتے ہیں ۔جادو ٹونہ کا نظام ایسا ہے کہ ایک دن یہ شکاری کو خود شکار بھی کرتا ہے ۔کالا علم کرنے والے تو اس کا سب سے بدترین نشانہ بنتے ہیں۔ان کی اولادیں برباد ہوجاتی ہیں،دنیا اتنی تنگ ہوجاتی ہے ان پر کہ وہ مرمرکرجیتے ہیں۔اللہ ہم سب کو اس عبرت ناک زندگی سے بچائے ۔

مزید : مافوق الفطرت