منحرف ارکان کی نااہلی کیا حمزہ شہباز کی وزارت اعلٰی ختم کر سکتی  ہے؟

منحرف ارکان کی نااہلی کیا حمزہ شہباز کی وزارت اعلٰی ختم کر سکتی  ہے؟

  

تجزیہ:سعید چودھری   

     وزیراعظم نے گورنر پنجاب کے طور پر تقرر کے لئے بلیغ الرحمن کا نام صدر کو بھیج دیاہے جبکہ آئینی طور پر موجودہ گورنر 12مئی کے بعد عہدہ پر برقرار نہیں رہ سکتے،گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے 25منحرف ارکان کی الیکشن کمشن میں نااہلی کا معاملہ حمزہ شہباز شریف کی وزرات اعلیٰ پنجاب سے جڑا ہوا ہے اور اس تناظر میں مختلف سوالات اٹھائے جارہے ہیں یہ کہ اگر منحرف ارکان کو نااہل قراردیاجاتاہے تو پھر حمزہ شہباز ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو دیں گے اور وزیراعلیٰ نہیں رہ سکیں گے،دوسرا یہ کہ اگر صدر نئے گورنر کے تقررکومعاملے کو اپنے آئینی اختیارکے تحت التواء میں ڈال دیتے ہیں تو پھر کیا قائم مقام گورنر کے طور پر سپیکر پرویزالہٰی حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ سکتے ہیں اور اس کے لئے کتنے ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی؟آئینی بحث سے پہلے زمینی حقائق کی روشنی میں اس معاملہ کا جائزہ لیاجائے تو مسلم لیگ (ن) کے ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ان منحرف ارکان کو الیکشن کمشن ڈی سیٹ بھی کردیتا ہے تو ان کے پاس ارکان اسمبلی کی ایک اور کھیپ موجود ہے جو بوقت ضرورت ان کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرسکتی ہے جبکہ منحرف ارکان کی ممکنہ نااہلی کی صورت میں حمزہ شہباز کے پاس 173ووٹ رہ جاتے ہیں اور انہیں مزید 9 ووٹوں کی ضرورت ہوگی،اس تناظر میں مسلم لیگ (ن) فکر مند نہیں ہے۔دوسرا یہ کہ جن منحرف ارکان کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی نے الیکشن کمشن کو بھجوا رکھا ہے اس کی بابت قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ان کے خلاف 18اپریل کو چیئرمین پی ٹی آئی نے ریفرنس بھیجا جبکہ وزیراعلیٰ کا الیکشن 16اپریل کو ہوا،آئین کے آرٹیکل 63(اے)کے تحت ضروری ہے کہ منحرف رکن کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس دیاجائے اور اس کا موقف جانا جائے،زیرنظر کیس میں منحرف ارکان کے جواب کا انتظار کئے بغیر ان کا ریفرنس بھیجا گیا،ضروری آئینی تقاضا پور ا نہ ہونے کے باعث الیکشن کمشن ریفرنس مستردکرسکتاہے،علاوہ ازیں منحرف ارکان کے پاس ایک ٹھوس دلیل یہ بھی ہے کہ جس الیکشن کی بنیاد پر انہیں نااہل قراردینے کا ریفرنس بھیجا گیا ہے پی ٹی آئی اور اس کے گورنر تو اس الیکشن کو ماننے سے ہی انکاری ہیں،ایسی صورت میں ان پر آرٹیکل63(اے) کا اطلاق کیسے ہوسکتاہے،آئینی طور پر الیکشن کمشن کے پاس اس بابت فیصلہ کرنے کے لئے 30دن ہیں یعنی الیکشن کمشن 18مئی تک اس معاملے کو فیصلہ طلب رکھ سکتا ہے،ایسے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں کہ مقررہ مدت کے اندر بوجوہ فیصلہ نہ ہوسکے تو یہ غیر آئینی نہیں ہوگا۔

حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کو خطرے میں قراردینے کی باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں کہ اگر یہ ہوگیا تو وہ ہوگا اور اگر وہ ہوگیا تو یہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔صدر دو ہفتے کے لئے نئے گورنر کے تقررکی سمری روک سکتاہے جس کے بعد وہ سمری دوبارہ غور کے لئے وزیراعظم کو بھجوائیں گے،وزیراعظم اگر دوبارہ وہی سمری بھجواتے ہیں تو صدر 10دن کے اندر اسے منظور کرنے کے پابند ہیں بصورت دیگر سمری خود ہی منظور شدہ تصور کی جائے گی،ایسی صورت میں صدر زیادہ سے زیادہ 25روز تک نئے گورنر کا تقرر التواء میں رکھ سکتے ہیں، 12مئی کو موجودہ گورنر سبکدوشی کے بعد آئینی طور پر سپیکر کو قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنا ہوتا ہے،موجودہ سپیکر چودھری پرویزالہٰی کی مسلم لیگ(ن) سے مخالفت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم پرویز الہٰی کیخلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک زیرالتواء ہے جس پر 14دن کے اندر کارروائی آئینی تقاضا ہے لیکن پرویز الہٰی نے اس بابت اسمبلی کااجلاس ہی طلب نہیں کیا،اب مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہوگی کہ جلد ازجلد یہ اجلاس بلا کر پرویز الہٰی کو فارغ کیا جائے، تاہم یہ بھی ایک آئینی سوال ہے کہ کیاقائم مقام گورنراپنے وزیراعلی کواعتماد کا ووٹ لینے کیلئے کہہ سکتے ہیں؟قائم مقام گورنر کا اختیارصرف روز مرہ کے امور نمٹانے کی حد تک ہی ہے،اگر منحرف ارکان اسمبلی کی نشستیں خالی ہوجاتی ہیں اور گورنر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے نہیں کہتے تو ان کی وزارت اعلیٰ برقراررہے گی،بصورت دیگر انہیں 186ارکان (جو کہ کل رکنیت کا50فیصدسے زائدہے)ظاہر کرنا ہوگی،اگر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو تحریک پیش کرنے والوں کو 186ارکان کی حمایت ظاہر کرنا ہوگی جو کہ ممکن نظر نہیں آرہی۔

اگر صدر نئے گورنر کے تقرر کی فوری منظور دے دیتے ہیں تو پھر حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ 100فیصد محفوظ ہوگی کیونکہ اعتماد کا ووٹ لینے کا تقاضا صرف گورنر ہی کرسکتاہے،اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے۔آئین کی رو سے اگر ارکان اسمبلی کی تعداد 186سے کم رہ جاتی ہے تو بھی وزیراعلیٰ اپنے عہدہ پر برقراررہیں گے،آئین کے آرٹیکل55کے تحت اسمبلی اور سلطنت کاکاروبار چلانے کے لئے ایک چوتھائی ارکان کی ایوان میں موجودگی ضروری ہے یہ تعداد کورم کے حوالے سے مقرر ہے،دوسرے لفظوں میں اگر 93ارکان بھی اسمبلی میں موجود ہوں تو قانون سازی کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں،تمام قوانین اور بجٹ حاضر ارکان کی سادہ اکثریت سے منظور کئے جاسکتے ہیں،علاوہ ازیں آئین کا آرٹیکل224بھی یہی منشا ظاہر کرتا ہے جس کے تحت اگر اسمبلی کی میعاد ختم ہونے میں 120دن سے کم ایام باقی ہوں تو پھر خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی الیکشن نہیں ہوتا،مطلب یہ کہ اگر کسی وجہ سے آدھے سے زیادہ ایوان بھی خالی ہوجائے تو ضمنی الیکشن نہیں ہوگا اور وزیراعلیٰ یا وزیراعظم اپنی مدت کریں گے۔ایسی صورت میں صدر یا گورنر کی طرف سے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو اعتماد کاووٹ لینے کے لئے کہنا بھی آئین کی منشا کے منافی تصور کیاجائے گا۔

سعید چودھری 

مزید :

تجزیہ -