شہباز شریف طالبان کے ساتھ مفاہمت چاہتے تھے، اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی دستاویزات میں انکشاف

شہباز شریف طالبان کے ساتھ مفاہمت چاہتے تھے، اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی ...
شہباز شریف طالبان کے ساتھ مفاہمت چاہتے تھے، اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی دستاویزات میں انکشاف

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) القاعدہ کے مرحوم سربراہ اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ سے بر آمد ہونے والے ایک خط سے انکشاف ہوا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف پاکستانی طالبان کے ساتھ اس شرط پر مفاہمت کرنے پر تیار تھے کہ پنجاب میں کوئی دہشتگرد حملہ نہ کیا جائے۔یہ انکشاف ’لانگ وار جرنل‘ کی جانب سے حال ہی میں کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ خط القاعدہ کے نائب عطیہ عبدالرحمن کی طرف سے سال 2010ءمیں تحریر کیا گیا تھا جس کو حال ہی میں امریکی عدالت میں ایک دہشتگرد عابد نصیر کے کیس کی سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیا گیا۔خط میں القاعدہ، پاکستانی طالبان،شہباز شریف اور آئی ایس آئی کے تعلقات پر بات کی گئی ہے۔خط کی تحریر کے مطابق القاعدہ کو کاروائیاں جاری رکھنے کیلئے جہاں ایک طرف حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ اداروں کی مدد حاصل تھی وہیں پاکستانی سیاست دان بھی ان کے ساتھ کسی قابل عمل مفاہمتی معاہدے کیلئے سرگرداں تھے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو پیغام بھجوایا تھا کہ اگر وہ صوبہ پنجاب کی حدود میں کوئی کاروائی نہ کریں تو ان کے ساتھ امن معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ پیشکش صرف پنجاب کی صوبائی حکومت تک ہی محدود تھی۔ خط کی ایک حصے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم امن مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں‘۔ خط میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے پیغام پہنچایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پنجاب حکومت طالبان سے بات چیت  اور بہتر تعلقات کے لئے اس صورت میں بالکل تیار ہے اگر اسے یقین دلایا جائے کہ طالبان پنجاب میں کاروائی نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ یہ پیشکش صرف پنجاب کے لئے تھی اور اس میں اسلام آباد اور دیگر ملک شامل نہ تھا۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ تحریک طالبان کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ القاعدہ کو اس سسلسلے میں ہر وقت آگاہ رکھے ۔رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ شہباز شریف ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کو پرویز مشرف کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیتے تھے۔القاعدہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے رہنما چاہتے تھے کہ انہیں پاکستان میں بالکل نہ چھیڑاجائے اور اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر پاکستان اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہے۔عبدالرحمٰن کے خط سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح اسامہ بن لادن اپنے پیغامات پہنچایا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے وہ حقانی نیٹ ورک جسے خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل تھی پر اعتبار کرتا تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حرکت المجاہدین کے رہنما فضل الرحمان خلیل اسامہ کے ساتھ رابطے میں تھا اور ملٹری اسٹیبلیشمنٹ نے القاعدہ کو خط بھیجنے کے لئے خلیل کا استعمال کیا۔اسی خط میں پاکستانی خفیہ ادارے کے کسی ’شجاع شاہ‘ نامی افسر کے بھی القاعدہ سے بات چیت کیلئے رابطوں کا تذکرہ کیا گیا ہے مگر اس ضمن میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی کہ وہ کون تھا یا ادارے میں اس کا عہدہ کیا تھا۔ واضح رہے جب ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ایک خفیہ آپریشن میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا تو امریکی فوجی ان کی رہائش گاہ سے بر آمد ہونے والی تمام تر دستاویزات بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...