بحران ہی بحران

بحران ہی بحران
بحران ہی بحران

  

خبریں کئی ہیں اور عنوان ایک ہی: نااہلی‘ بد انتظامی‘ بے بسی اور بدعنوانی۔ انہی ”خاصیتوں“ کا شاخسانہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کئی بحران سر اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے پیدا ہونے والے گندم‘ آٹے کے بحران اور چینی کی بالقصد پیدا کی گئی قلت اور بڑھائے گئے نرخوں کا معاملہ ابھی نمٹا نہیں ہے‘ رپورٹیں‘ حتیٰ کہ فرانزک رپورٹ بھی سامنے آ گئی‘ لیکن تاحال ملزمان کا تعین ہونا باقی ہے تاکہ تحقیقات کے ذریعے ان کو مجرم ثابت کیا جا سکے‘ لیکن آٹے کی قلت کا ایک نیا بحران سر اٹھانے کو ہے‘ کیونکہ گزشتہ دنوں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 120 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون کے چیئرمین عبدالرؤف مختار کا کہنا ہے کہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم بہت مہنگی ہو چکی ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے ایسوسی ایشن نے حکومت کی درخواست پر حکومت سے تعاون کرتے ہوئے عوام کی سہولت کیلئے تھیلا آٹا کے پرانے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا لیکن اب پرانے نرخوں پر آٹا کی فروخت ممکن نہیں رہی۔ اب آٹا مہنگا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ روٹی تو سستی نہیں ملے گی چنانچہ جونہی آٹا مہنگا ہوا متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے 5 جون سے نان کی قیمت 15 روپے اور روٹی 10 روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ آٹا اور میدے کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں، پانچ جون تک انتظامیہ آٹے میدہ کی قیمتیں واپس نہیں لیں۔روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھا دی جائیں گی۔ مطلب یہ کہ عام آدمی کے لئے اب روٹی کھانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہو رہا ہے کہ گندم کی نئی فصل بازار میں آچکی ہے اور حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امسال ریکارڈ گندم خرید لی گئی ہے۔ کہاں ہے وہ گندم جو خریدی گئی ہے۔ اگر گندم کا زیادہ تر سٹاک حکومت کے پاس ہے تو پھر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں غیبی ہاتھ کیوں کنٹرول کر رہے ہیں؟ حکومتی رٹ کہاں ہے؟

گندم ہی نہیں پٹرولیم مصنوعات کی قلت بھی سنگین صورتحال اختیار کرتی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ بعض جگہوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قلت 85 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے پر کمپنیوں نے سپلائی انتہائی کم کر دی، جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور شہری اس ایندھن کے حصول کے لئے خوار ہونے لگے۔ یہ مسئلہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ لاہور میں روزانہ پٹرول اور ڈیزل کی طلب 30 لاکھ لٹر روزانہ ہے جبکہ سپلائی صرف 5 لاکھ لٹر روزانہ تک محدود ہو گئی تھی۔ یہ خبر بھی ملی ہے کہ کمپنیاں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی بجائے سٹاک کیے جا رہی ہیں۔ اس ساری صورتحال کو سامنے رکھ کر یا کچھ دوسرے عوامل کی بنیاد پر اوگرا نے ملک میں پٹرولیم بحران کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ ایک خبر یہ بھی سامنے آئی کہ ضلعی انتظامیہ نے پٹرول کی نئی قیمتوں کے اطلاق کی خلاف ورزی اور کم پیمانے والے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں کر کے چار پٹرول پمپس کو سیل کر دیا ہے۔ خیر یہ تو سب دکھاوے کی کارروائیاں ہیں‘ ورنہ تو قانون کا نفاذ ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی پٹرول کم ناپنے اور اوورچارجنگ سے پہلے سو بار سوچے۔

بحران در بحران کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 40 روپے فی لٹر سے زیادہ کی کمی کی گئی ہے‘ لیکن عام استعمال کی چیزوں سے لے کر ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک کسی چیز کے نرخ کم نہیں ہوئے اور مہنگائی کا گراف آج بھی اتنا ہی بلند ہے‘ جتنا دو ماہ پہلے تھا جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کی گئی ہے تو اسی تناسب سے مہنگائی بھی کم ہو جاتی‘ لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے بھی سارے پوری طرح واقف اور آگاہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کوشش ہی نہیں کی گئی۔ جناب وزیر اعظم کسی روز کسی اجلاس یا پریس کانفرنس میں بیٹھے اپنے ساتھیوں کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں اہم کام کیا‘ لیکن چند ہی روزبعد پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے چیزوں کی قیمتیں کم نہ ہونے کا نوٹس لے لیا ہے۔ یہ جو نوٹس لیا جاتا ہے پتاہ نہیں چلتا کہ یہ جاتا کہاں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کبھی ہوتے نہیں دیکھی گئی۔ مہنگائی کا رونا تو اس قوم کا مقدر بن چکا ہے کہ حکمران ہی نکمے ملتے ہیں‘ اب لوگ صاف پانی نہ ملنے کے بحران سے دوچار ہونے والے ہیں کیونکہ خبر ملی ہے کہ کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونا والا بحران صاف پانی کے منصوبوں کو بھی نگل گیا ہے؛ چنانچہ اب اگلے مالی سال میں واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن کے لئے خطیر فنڈز مختص نہیں ہو سکیں گے۔

ایک اور بحران جو حکومت سے سنبھالا نہیں جا رہا‘ مرغی کے گوشت کے نرخ ہیں۔ مرغی کے سرکاری نرخنامے کے مطابق فروخت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ سرکاری نرخنامے کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمت 260 روپے مقرر کر دی گئی لیکن مرغی کا گوشت 350 روپے تک فروخت ہوتا رہا۔ وجہ بالکل واضح ہے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں گوشت کے نرخ انتہائی نیچے آ گئے تھے اور آگے کی صورتحال بھی غیر واضح تھی؛ چنانچہ لوگوں نے مزید چوزے پالنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایک ویڈیو کلپ تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی جس میں چوزوں سے بھری ہوئی ٹرالی کو ایک اندھے کنوئیں میں خالی کیا جا رہا تھا۔ جناب نرخ کنٹرول نہ کریں پولٹری کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دیجئے‘ چند روز میں صورتحال خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔ تو جناب یہ ہے بحرانوں کی زد میں آئی ہوئی حکومت کی صورتحال اور مسائل میں گھرے عوام کے حالات۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سے مسئلے کا حل کیا ہے۔ بس ٹامک ٹوئیاں ماری جا رہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -