جنات کا غلام۔۔۔ چھبیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ چھبیسویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔ چھبیسویں قسط

  

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

پچیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

” ہاں ہاں .... آﺅ....دوسرے کمرے میںچلتے ہیں “ سنیارہ بھٹی اس کے باوجود اپنے اشتیاق کو نہ روک سکا ۔ غازی باباجی کی اجازت سے اسے دوسرے کمرے میںلے گیا .... کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئے تو سنیارہ بھٹی خاموش ہوگیاتھا۔ غازی نے کہااس سے رخصت ہونے کے بعد مجھے اس کی داستان عشق سنائی تو مجھ پر اس مخلوق کی شیطانی حرکات کاایسا پہلووا ردہوا جسے ہمارے ہاں عام سا تصور کیاجاتا ہے مگر اس میںکئی شیطانی گرہیں لگی ہوتی ہیں ۔ غازی اور سنیارہ بھٹی کی عدم موجودگی میں بابا جی سرکار نے تاسف بھرے انداز میںایک جملہ کہاتھا جو مجھے کبھی نہیںبھول سکتا ....انہوںنے کہا تھا ۔ ” اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کی امت کو بہترین امت کادرجہ دیااوراس پر قرآن پاک جیسی کتاب نازل فرمائی .... رشد و ہدایت کے ایسے اسباق دئیے کہ اگر یہ مسلمان سوتے ’جاگتے گھر سے نکلتے ‘ گھر کے اندر آنے ‘ کھانے پینے گویا اپنے معمولات کے دوران آداب قدرت اور ذکر الٰہی کرتے ر ہیںتو یہ بدکار مخلوق ان پراثر نہیں کرسکتی ۔ “

”بے شک....“ میںنے کہا ہم لوگ اسلامی آداب اور طرز حیات کو بھول گئے ہیں۔ اسی لیے تو یہ مخلوق ہماری زندگیوں میںمداخلت کرتی ہے ۔“

”شاہد میاں ....یادرکھنا ! جو نوجوان شیر مادر کا لحاظ کرتا ہے وہ سار ی عمر ایسی حرکت نہیںکرے گا جو اسے ہوس اور غفلت پر آمادہ کرے....لیکن افسوس تمھاری دنیا میںآج کل کے نوجوان شیر مادر کی حرمت سے آگاہ نہیںرہے .... انہیںپاکیزگی کاخیال نہیںرہتا ۔ ذہنی و جسمانی اعتبار سے غلاظت زدہ ہیںان کی یہی حالت اس شیطانی مخلوق کو محبوب ہے ۔ کاش یہ نوجوان جان لیں کہ شیطان نے اپنی اولاد کو انسانوں پر کس کس طرحسے مامور کیا ہوا ہے ....کاش کہ یہ انسان جان لیں.... اے کاش ....بابا جی سرکار تاسف بھر ے لہجے میں کمرے میںگھوم رہے تھے ....میںنے کہا

” سرکار ارشاد .... مجھے بتا دیجئے ۔ میںجانناچاہتاہوںکہ کہ ابلیس کی اولاد ہمارے کن کن معاملات پر مامور ہے .... “

شیطان انسانوں پر کس کس طرح سے سواری ڈالتا ہے اگر انسان اس کا ادراک کرتے تو وہ بشریت کے تقاضے پورے کر سکتا ہے۔ بابا جی کہنے لگے ”ہم جنات انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم انسانوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟“

مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا سوال کروں۔ محض یہ کہا ”جی“

”اس کی بنیادی وجہ انسان کا اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز ہونا ہے“

”مگر کیا .... آپ ہر انسان سے ڈرتے ہیں“ اس بار میں سوال کرنے سے نہ گھبرایا۔

”دراصل انسان نے خود اپنی فضیلت کھو دی ہے۔ اس لئے اب جنات ہر انسان سے نہیں ڈرتے۔ جنات علم و فضل میں یکتا انسانوں سے ہی ڈرتے ہیں“

بابا جی منطق کی ایک بات سمجھاتے ہوئے کہنے لگے ”شیطان بدی کا گماشتہ ہے۔ انسان کو نفس کا غلام بنا کر اس نے انسانوں کو علمی فضیلت کے درجات سے گرا دیا ہے۔ جب سے انسان نے احکامات الہٰی کو چھوڑ کر گمراہی کے راستے اور فسق و فجور کی عادات کا انتخاب کیا ہے وہ کمزور ہو گیا ہے اور یہی بشری کمزوری جنات کو ان پر غالب ہونے میں مدد دیتی ہے“

بابا جی کے ساتھ اس روز خوب نشست رہی۔ انہوں نے سنیارے بھٹی کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی اٹھا دی تھی۔ 80 تولے سونا لینے کے باوجود ان کا تقاضا تھا کہ وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ اس جگہ پر آ جائیں گی۔ بابا جی نے ان کی یہ بات نہیں مانی۔ ساری رات شور شرابہ رہا۔ بالاخر چڑیلیں اس گھر سے رخصت ہو گئیں مگر جاتے جاتے انہوں نے انجیر کے درخت کی سب سے موٹی اور پھلدار شاخ کو توڑ دیا۔ فجر کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد بابا جی کے جنات نے محفل سماع کا اہتمام کیا۔ ریاض شاہ نے بابا جی کی اجازت سے کمرے میں زیرو بلب روشن کر دیا تھا اور سب کو آنکھیں کھولنے کی اجازت بھی دے دی۔ بابا جی ایک کونے میں بڑے صوفے پر بیٹھے تھے۔ ان کے گرد جنات کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ سبھی نے سفید احرام جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔ سروں پر سفید براق پگڑ تھے جو پیشانی سے آگے تک جھکے ہوئے تھے۔ سنیارا بھٹی اور اس کا بیٹا یہ منظر دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ محفل سماع اپنے جوبن پر تھی کہ غازی کی آواز سنائی دی

”سرکار میں تحفے لے آﺅں“

”آ جاﺅ غازی“ باباجی نے اسے اجازت دی۔

ہماری نظروں کے سامنے غازی انسانی شکل میں نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھوں میں ایک بڑا تھال اٹھا رکھا تھا جس میں آب زم زم کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ سرخ پتھروں والی تسبیح اور سنہرے تاروں والی دو ٹوپیاں بھی ساتھ رکھی تھیں۔

”بیٹا .... ان سب میں مبارک تحفے تقسیم کر دو“ باباجی نے ریاض شاہ کو اشارہ کیا تو اس نے آب زم زم گھر کے افراد میں تقسیم کر دیا۔

”بھٹی .... یہ ایک ٹوپی تمہارے لئے ہے“ انہوں نے تھال میں سے ٹوپی اٹھائی تو سنیارا بھٹی تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ اس نے عقیدت و احترام سے بابا جی کا ہاتھ چوم لیا۔ بابا جی کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔ سنیارے بھٹی نے اپنا سر ان کے سامنے جھکا دیا۔ بابا جی نے ٹوپی اس کے سر پر اوڑھا دی اور کہا ”بھٹی اپنی آنکھ اور دل کی حیا کا خیال رکھنا۔“ہمارے اس بیٹے کوکبھی ناراض نہ کرنا۔یہ ہے تو ہم ہیں۔“انہوں نے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا۔

”ضرور رکھوں گا جی۔ میری توبہ۔ اب میری آنکھ کبھی میلی نہیں ہو گی“

”یہ تسبیح تمہاری بیوی کے لئے“ باباجی نے سنیارے بھٹی کی بیوی کو بلا کر تسبیح دی اور اس کے سر پر شفقت بھرا پیار دے کر کہا! تو ہماری بیٹی ہے۔ ہمارا یہ تحفہ تمہیں ہماری یاد دلاتا رہے گا۔ بیٹی! میری ایک بات یاد رکھنا۔ اللہ کا ذکر سب سے افضل ہے۔ اللہ کے حبیب پر درود و سلام بھیجتی رہا کرو۔ سورة الکوثر بکثرت پڑھا کرو۔ اللہ تمہارے مسائل دور فرمائے۔ آمین“ باباجی نے اسے نصیحت فرمائی تو وہ عقیدت و احترام کے ساتھ الٹے قدموں چلتی ہوئی واپس اپنی نشست پر چلی گئی۔

”یہ ٹوپی ہمارے بیٹے کے لئے ہے“ باباجی نے تبسم ریز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ”یہ لو .... یہ تم پہن لو“

”مم میرے لئے“ میں نے چونک کر پوچھا

”کیوں ہم تمہیں تحفہ نہیں دے سکتے“ بابا جی ہنس دئیے۔ میں بھی جھکتا‘ آداب خاطر ملحوظ رکھتا ہوا ان کے پاس گیا۔ ان کا ہاتھ چوما۔ باباجی نے ٹوپی میرے سر پر پہنا کر کہا ”کتنی جچتی ہے تمہارے سر پر۔ سرخ داڑھی‘ سفید چہرہ‘ شفاف آنکھیں‘ میرے بچے .... یہ ٹوپی تمہارے سر پر پہنائی ہے تو لگتا ہے تو اس سرزمین کے باشندے نہیں ہو۔ ایرانی النسل لگتے ہو“

مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ بابا جی کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے ریاض شاہ کی طرف دیکھا تو وہ تبسم ریز انداز میں کہنے لگا ”بابا جی کی بات مشکل لگتی ہے سمجھ نہیں آ رہی۔ سرکار کے کہنے کا مطلب ہے اس ٹوپی کی لاج رکھنا۔ یہ تمہارے سر پر دستار فضیلت کے مترادف ہے۔ اس کو ہر وقت سر پر رکھنا تمہارے سر پر خوب جچتی ہے“

”انشاءاللہ.... میں اسے سر سے نہیں اتاروں گا“

اس اثنا میں غازی کی چہکار سنائی دی

”انگور کھاﺅ گے بھیا“

”انگور .... اور اس موسم میں“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

”اگر کہو تو حاضر کروں“

”اگر مل جائیں تو ضرور کھاﺅں گا“ میں نے جواباً کہا

میرے منہ سے یہ نکلنے کی دیر تھی کہ غازی نے ایک دوسرا بڑا تھال ہمارے سامنے کر دیا۔ انگور کے بھاری رس بھرے اور تروتازہ خوشے دیکھ کر میں ہی کیا سنیارے بھٹی کے اہل خانہ بھی حیران رہ گئے۔ ہم سب نے مل کر انگور کھائے۔ انتہائی شیریں اور لذیذ انگور اور پھر بے موسمی پھل۔ میں نے غازی سے پوچھا

”کہاں سے لائے ہو“

”یمن سے لے کر آیا ہوں“ وہ ہنستے ہوئے بولا .... کچھ اور چاہئے ہو تو لے آﺅں“

”ہاں .... مجھے ایک عقیق یمنی لا دو“

غازی نے میری فرمائش سنی تو ہنسنے لگا ”میں نے سوچا تھا کوئی بڑی فرمائش کرو گے خیر یہ لو“ غازی نے پلک جھپکنے میں عقیق یمنی انگشتری میں سجا ہوا پیش کر دیا۔ ”لو پہن کر دیکھ لو“

میں نے انگشتری دائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہنی تو بالکل فٹ آ گئی۔ ایسے لگا جیسے یہ میرے لئے ہی بنائی گئی تھی۔ میں انگوٹھی اور عقیق کو بار بار دیکھنے لگا

”بہت بہت شکریہ“ میں نے غازی کا شکریہ ادا کیا تو وہ ہاتھ نچا کر بولا ”بس خالی اور سوکھا شکریہ نہیں چلے گا“

اس کی بات سن کر سنیارے بھٹی کی بیوی بولی

”ہاں بھئی اس کو خالی تو نہیں ٹرخانا چاہئے“

”کیا چاہئے تمہیں“ میں نے غازی سے کہا تو وہ میرے کان کے قریب منہ کرکے کہنے لگا ”میں نے فلم دیکھنی ہے“

میری ہنسی چھوٹ گئی۔ ”غازی تم فلم دیکھو گے“

”آہستہ بولو بھیا .... بابا جی سرکار نے سن لیا تو ماریں گے۔“ غازی منمنا کر بولا ”کون سی فلم دیکھنی ہے“ میں نے پوچھا

”جو مرضی دکھا دو“ اس نے کہا

”یہ ناہنجار باز نہیں آئے گا“ بابا جی ہماری سرگوشیوں کی زبان سمجھ کر بولے ”ایسے ہی تمہارا دماغ چاٹ رہا ہے بڑا حرام خور ہے۔ فلم کے بہانے تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا“

”سرکار .... میں“ غازی کچھ کہنے لگا تھا کہ باباجی نے اسے ڈانٹ دیا .... وہ منہ بنا کر پیچھے ہٹ گیا۔

”اچھا بچو اب ہمارے رخصت ہونے کا وقت ہو گیا ہے“ بابا جی نے اجازت طلب کی اور ریاض شاہ سے اپنی مخصوص زبان میں کچھ کہنے لگے۔ ریاض شاہ نے جلدی سے زیرو کا بلب بند کر دیا اندھیرا ہوتے ہی بابا جی کی آواز سنائی دی ”اللہ حافظ میرے بچو“

ہم سب نے کہا ”اللہ حافظ“ چند ثانئے تک اندھیرا رہا۔ پھر ریاض شاہ نے ٹیوب لائٹ روشن کر دی اور زیرلب کچھ پڑھتے ہوئے کمرے کے کونے کونے میں پھونکیں مارنے لگا۔ وہ دوسرے کمرے میں بھی گیا اور چند منٹ بعد واپس آ کر کہنے لگا

”صبح جب دکانیں کھل جائیں تو سب سے پہلے مجھے یہ چیزیں منگوا دیں۔ آپ کے گھر کی غلاظت صاف کرنی ہے“ اس نے سفید چٹ سنیارے بھٹی کی طرف بڑھائی۔

”گھر تو ہمارا صاف ہے شاہ صاحب“ وہ بولا

”میں اس صفائی کی بات نہیں کر رہا۔ ان بدروحوں نے ایک عرصہ تک اس گھر میں ڈیرے ڈالے رکھے تھے۔ ان کی گندگی کو یہاں سے صاف کرنا ہے اس لئے کنیر کے پھول‘ دیسی گھی‘ لوبان‘ جائپھل‘ گوگل‘ مصری ........ اور سونے چاندے کا دو تولے کا تعویذ اور زعفران چاہئے۔ جب تک تعویذ اور نقش بنا کر گھر میں دھونی نہیں دیں گے ان کے سحری اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے“

”یہ سامان کتنے کا ہو گا“ سنیارے بھٹی نے پوچھا ”اور یہ کنیر کے پھول کہاں سے ملیں گے۔ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ سارا سامان یہاں سے مل جائے گا“

”پندرہ بیس ہزار کا سامان ہو گا۔ آپ خود نہیں لا سکتے تو پیسے مجھے دے دیں۔ میں غازی سے کہہ کر منگوا لوں گا“ ریاض شاہ نے کہا۔ ”میں اب کچھ دیر آرام کروں گا۔ دوپہر تک یہ سامان آ گیا تو میں دھونی اور عمل کرکے چلا جاﺅں گا۔ دوبارہ میرا آنا مشکل ہو گا“

میں نے محسوس کیا کہ باباجی کے رخصت ہوتے ہی ریاض شاہ کا لہجہ خاصا روکھا ہو گیا تھا۔ سنیارا بھٹی اپنے بیٹے اور بیوی کا منہ تکنے لگا۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گیا تھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ پہلے باباجی کے کہنے پر اس نے 80 تولے سونا دیا۔ لاکھوں روپے ہوا برد ہو گئے تھے اور اب یہ بیس ہزار کا سامان منگوا رہے ہیں

”مجھے بستر دے دیں۔ مجھے اب آرام کرنا ہے۔ پیسوں کا بندوبست ہو جائے تو مجھے بتا دیجئے گا“ ریاض شاہ کا چہرہ تھکان سے بھرا ہو تھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور لہجہ بھرا گیا تھا۔ لگتا تھا اسے فوری آرام مہیا نہ کیا گیا تو اس کی حالت بگڑ جائے گی۔

سنیارے بھٹی کی بیوی نے انہیں ساتھ والے کمرے میں نیا بستر بچھا کر دیا۔ ریاض شاہ نے مجھے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ خود بستر پر دراز ہو گیا اور مجھے کہنے لگا ”یار.... میرے سر پر ذرا مالش کر دو“ میں اس کی کیفیت سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے تھیلے سے تیل کی شیشی نکالی ۔میں اس کے گھنے اور گھنگریالے بالوں میں تیل انڈیل کر مالش کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ سو گیا۔ مجھے ابھی تک نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ سنیارا بھٹی اپنا سر تھام کر بیٹھا ہوا تھا۔

”مجھے بتاﺅ میں کیا کروں۔ میں تو برباد ہو جاﺅں گا“

”اللہ کا شکر کرو جی.... آپ پیسہ خرچ کرکے برباد نہیں ہو رہے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کا صدقہ اتار رہے ہو“ اس کی بیوی اسے سمجھا رہی تھی

”تیرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تو مجھے برباد کرکے سکون لے گی۔ تو جانتی ہے 80 تولے سونا کتنے کا تھا اور اب یہ بیس ہزار۔ میں تو کہتا ہوں یہ سارا ڈھونگ تھا۔ باباجی اللہ کے نیک بزرگ جن ہیں تو انہوں نے اتنا زیادہ پیسہ کیوں خرچ کرا دیا۔ اللہ والے ایسا نہیں کرتے بھلی مانس تو نہیں سمجھ سکتی“

”توبہ توبہ کریں جی .... لگتا ہے آپ پر ابھی تک ان چڑیلوں کا نشہ طاری ہے۔ ایسی گمراہوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ توبہ کریں۔ بابا جی کی شان میں گستاخی نہ کریں۔ انہوں نے جو کیا حق سچ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے سونا چاندی لے کر کیا کرنا تھا“

”میں کب کہتا ہوں انہوں نے سونا لیا ہو گا۔ مجھے یقین ہے یہ سارا سونا اور رقم ریاض شاہ“ سنیارے بھٹی کے منہ پر دل کی بات آنے لگی تو اس کی بیوی نے جلدی سے اس کا منہ بند کر دیا۔

”خدا کے لئے ایسی بات نہ کریں۔ شاہ صاحب نے سنا تو ناراض ہوں گے۔ آپ کو یاد ہے باباجی سرکار نے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رابطہ ریاض شاہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اسے اپنا بیٹا کہتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں رات بھر کتنی خوفناک چڑیلیں اور جنات ہمارے سامنے آتے جاتے رہے ہیں۔ اگر شاہ صاحب ناراض ہو گئے تو یہ ساری چیزیں واپس آ جائیں گی اور پھر .... اللہ نہ کرے۔ بس آپ جلدی سے بندوبست کر دیں“

سنیارا بھٹی زچ ہو گیا تھا۔ مجھے دیکھا تو خاموش ہو گیا۔ میں نے اسے تجویز دی ”بھٹی صاحب سونے چاندی کا تعوید تو آپ خود بنا سکتے ہیں۔ باقی جتنی رقم ہے وہ ریاض شاہ کو دے دیں وہ خود بندوبست کر لیں گے“ اس نے مجھے تو کچھ نہ کہا .... دوپہر تک اس نے سونے چاندی کا تعویذ بنا دیا تھا اور باقی رقم جو تقریباً دس ہزار بنتی تھی اس نے مجھے دینے کی کوشش کی اور کہا ”یہ شاہ صاحب کو دے دینا“

میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا ”آپ خود انہیں دیں .... میں ایسے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگا سکتا“

”آپ ان کے ساتھی نہیں ہیں“

”میں بابا جی کا مرید ہوں“ میں نے مختصر جواب دیا۔ انہوں نے میرے متعلق جاننے کی کوشش کی مگر میں نے اپنے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔

دوپہر کے وقت شاہ صاحب بیدار ہو گئے۔ سنیارے نے انہیں دس ہزار اور سونے چاندی کا تعویذ دے دیا۔ شاہ صاحب نے اسی وقت غازی کو طلب کیا اور اسے پیسے دے کر کہا کہ وہ عملیاتی اشیا لا دے۔ غازی دس منٹ بعد واپس آ گیا اور سارا سامان تھما کر چلا گیا۔ شاہ صاحب نے تمام اشیا کو ایک خاص ترتیب سے رکھا۔ سونے چاندی کے تعویذ پر عبارت لکھی اور دیسی گھی کا چراغ جلا کر ساری اشیا نہ جانے کس کس طریقے سے سلگاتے رہے۔ لوبان‘ جائپھل اور خوشبودار اشیا کی دھونی پورے گھر میں نہایت مسکن اور سحرانگیز مہک پھیل گئی۔

دھونی ختم ہو چکی تو ریاض شاہ نے کاغذ پر عجیب سے رسم الخط میں کچھ لکھا اور ان کے کمرے کے دروازے کی چوگھاٹ کے اوپر کیل کی مدد سے انہیں ٹھونک دیا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ریاض شاہ نے ان سے اجازت لی اور ہم لوگ واپس ملکوال کی طرف چل دئیے ۔ راستے میں میں نے ان سے وہی سوال پوچھ لیا جو سنیارے بھٹی کے خدشات کی صورت میں سامنے آیا تھا۔”کیا یہ سارا خرچہ کرانا ضروری تھا اب“

”بہت ضروری تھا۔ میں ایک عامل ہوں۔ تم اچھی طرح سمجھتے ہو“

”اتنے مہنگے تعویذ دھاگے کیوں کرتے ہیں“ میں نے پوچھا

”جادو ٹونہ اور جنات کے سحری اثرات کو ختم کرنے کے لئے یہ عمل کرنا ضروری ہوتا ہے .... بعض اوقات تو اس سے بھی مہنگے عمل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر میں تمہیں یہ بتا دوں تو تم زیادہ پریشان ہو جاﺅ گے۔ میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ آج سے تیس پنتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی صاحب نے یہ کیس کیا تھا۔ تم سنو گے تو کبھی یقین نہیں کرو گے“ اس وقت نہر کی پٹری پر اتر گئے تھے۔ وہاں سے ہم نے تانگہ لے لیا تھا اور گاﺅں کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر مکھن سائیں کا ڈیرہ تھا۔ میری ساری توجہ اس واقعہ کو سننے کے لئے مرکوز تھی۔ ریاض شاہ کہنے لگا ”میں نے بتایا ہے کہ آج سے تیس پنتیس سال پہلے پسرور شہر میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پسرور میں ایک گوالے کے گھر پر جنات نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے سارے جانور انسانوں کے ہاتھ سے پانی پینے سے گریز کرنے لگے تھے۔ کیا تم اس بات پر یقین کر سکتے ہو کہ کوئی جانور اپنے کھروں سے پانی کے نلکے کی ہتھی چلا کر پانی نکالنے لگ جائے“

”ناقابل یقین بات ہے“ میں نے کہا

”لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس گھر کے سارے جانور نلکا خود چلا کر پانی نکالتے اور پیتے تھے۔ ان لوگوں نے دنیا بھر کے عاملوں اور پیروں سے رابطہ کیا تھا مگر کوئی بھی اس گھر سے جنات کو نہیں نکال سکا تھا۔ وہ لوگ میرے بھائی تک پہنچے اور باباجی سرکار کے ساتھ پسرور چلے گئے۔ باباجی نے اس گھر کے جانوروں پر مسلط جنات کو مار مار کر بھگا دیا تھا اور آخر میں شیر کی کھال‘ کستوری اور زعفران کی مدد سے ایک تعویذ بنا کر اس گھر میں گاڑ دیا تھا۔ اس زمانے میں شیر کی کھال اور کستوری حاصل کرنا بہت مہنگا سودا تھا لیکن بابا جی سرکار کی ہدایت پر یہ سارا سامان حاصل کر لیا گیا اور پھر جب یہ عمل کرکے تعویذ بنایا گیا تو اس گھر پر پھر کبھی جنات نازل نہیں ہوئے“میرے لئے یہ واقعہ بہت بھاری تھا اور اسے ہضم کرنا ناممکن تھا۔ لیکن میں نے اب حجت کرنا چھوڑ دی تھی اس لئے یہ سوچ کر تسلیم کر لیا کہ اگر میرے سامنے جنات اور بدروحوں کا ظہور ہو رہا ہے تو ایسا انہونا واقعہ بھی اس سرزمین پر رونما ہوا ہو گا کیونکہ جنات سے کچھ بھید نہیں ہے۔ ممکن ہے پسرور شہر کے رہنے والے پرانے لوگوں کو اس واقعہ کا علم ہو کہ وہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے شہر میں جب یہ شہر ایک بڑے قصبہ کی شکل میں تھا وہاں کے کسی شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔

ہم جب مکھن سائیں کے ڈیرے کے پاس سے گزر رہے تھے کہ کوچوان نے تانگہ روک لیا اور پھر تیزی سے نیچے اتر کر وہ نہر کی پٹری کے پاس رکھے ایک بڑے سے مٹکے کے پاس گیا۔ مٹکے کے منہ پر مٹی سے لیپ کیا ہوا تھا اور چونے سے اس کے اوپر لکھا ہوا تھا ”نذرانہ سرکار مکھن سائیں آستانہ“ کوچوان نے مٹکے کے منہ میں کئے گئے ایک چھوٹے سے سوراخ میں دو روپے ڈالے اور کانوں کی لوﺅں کو چھوتا ہوا منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا تانگے پر آ بیٹھا۔ ریاض شاہ نے میری طرف دیکھا اور کوچوان کی اس پر حرکت پر خفیف سے انداز میں مسکرا کر کہنے لگا ”ایسے ہوتے ہیں عقیدت مند“

کوچوان نے سنا تو کہنے لگا ”جناب لگتا ہے آپ پردیسی ہیں اسی لئے تو آپ نے نذرانہ نہیں ڈالا ورنہ یہاں کے لوگ جب تک روپیہ دو روپیہ نہیں ڈال دیتے انہیں سکون نہیں آتا۔ آپ نہیں جانتے ہر جمعرات کو اس غلہ سے حاصل ہونے والی رقم سے نیاز تیار ہوتی ہے۔ لوگ دور دور سے نیاز حاصل کرنے آتے ہیں“

”کیا خیال ہے .... مکھن سائیں سے مل نہ لیا جائے“ ریاض شاہ نے مجھ سے پوچھنے لگا۔

”کوئی حرج نہیں .... لیکن آپ انہیں جانتے ہیں“

”وہ بھی مجھے جانتا ہے“ ریاض شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ ہم نے تانگے والے سے کہا کہ وہ ہمیں مکھن سائیں کے آستانے پر لے جائے۔ پہلے تو اس نے حیرانی سے ہمیں دیکھا پھر اس نے تانگے کا رخ آستانے کی طرف کر دیا۔ ابھی ہم راستے کے سرکنڈوں سے آگے بڑھے ہی تھے کہ مجھے مکھن سائیں کا مخصوص نعرہ مستانہ سنائی دیا۔ ایسے لگا جیسے وہ ہمارے بہت قریب ہو۔ لیکن وہ ہمیں دکھائی نہیں دیا۔ ہم آستانے پر پہنچے تو اس وقت مکھن سائیں کے مریدوں کا ہجوم وہاں اکٹھا تھا۔ ہم تانگے سے اترے اور ان کی طرف بڑھے تو معلوم ہوا کہ مکھن سائیں قبر میں ہیں اور جب تک ان کا چلہ پورا نہیں ہو جاتا وہ قبر سے باہر نہیں نکلیں گے۔

”پھر تو ہمیں واپس چلنا چاہئے“ میں نے ریاض شاہ سے کہا تو وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے

”جب مکھن سائیں نے ہمیں خود بلایا ہے تو ہمیں اس طرح جانے نہیں دے گا“ میں ریاض شاہ کا منہ دیکھنے لگا۔

ہم دونوں مکھن سائیں کے مریدوں سے ہٹ کر ایک چبوترے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران مکھن سائیں کی کٹیا کے اندر سے ایک لڑکی ننگے سر نہایت خستہ حالت میں روتی چلاتی ہوئی باہر آئی۔ اس کے پیچھے ایک بوڑھی عورت اور بوڑھا مرد تھا۔ لڑکی کی حالت نہایت دگرگوں تھی لباس اگرچہ صاف تھا مگر جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ ”اسے پکڑو دیوانی ہو گئی ہے“ بوڑھی عورت دہائی دینے لگی۔ لڑکی کسی چھلاوے کی طرح بھاگ رہی تھی۔ سارے ملنگ مرید لڑکی کو پکڑنے کے لئے اس کی طرف لپکے مگر وہ ان کے ہاتھ سے مچھلی کی طرح پھسل پھسل جا رہی تھی لیکن کچھ دیر بعد وہ اسے پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک ہٹے کٹے ملنگ نے لڑکی کو اٹھا کر نہایت بے دردی سے قبر کے پاس پھینک دیا تھا۔ لڑکی اذیت ناک انداز میں چیخی ۔ وہ مرغ بسمل کی طرح قبر کی مٹی میں تڑپ رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا اور میں ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگا۔ ریاض شاہ نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر وہ چبوترے سے نیچے اتر کر لڑکی کی طرف بڑھا

”پیچھے ہٹ جاﺅ“ ریاض شاہ کڑکدار اور پرجلال انداز میں ملنگوں اور بوڑھی عورت سے مخاطب ہوا تو وہ سب اس کا منہ تکنے لگے۔

ہٹا کٹا ملنگ ریاض شاہ کی آواز سن کر طیش میں آ گیا۔ چھ فٹ قامت‘ کسرتی بدن‘ چوڑی چھاتی نیم عریاں سیاہ بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ نتھنے اور دہانہ چوڑا‘ پیشانی ابھری ہوئی‘ بال لمبے اور تیل میں چپڑے ہوئے تھے۔ وہ ملنگ نہیں کوئی چھٹا ہوا بدمعاش لگتا تھا۔

ر یاض شاہ اس کی طرف بڑھا تو وہ آستین چڑھاتا ہوا آگے بڑھ آیا۔ اس کی موٹی موٹی کلائیوں پر کہنیوں تک کانسی اور پتھر کے کڑے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں بھی جواہرات کی بھاری انگوٹھیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا نشہ تھا اور ان میں سرخ ڈورے صاف نظر آ رہے تھے ایسا غضب ناک اور جلالی صورت ملنگ ایک تصوراتی انسان ہی ہو سکتا تھا۔ آنکھوں میں کھینچ کر سرمہ ڈالا ہوا تھا۔ وضع قطع سے لگتا تھا کہ وہ اپنے روپ بہروپ کو سنوارنے کے لئے خاصا وقت صرف کرتا ہو گا۔

”کون ہو تم“وہ جلالی لہجے میں ریاض شاہ سے مخاطب ہوا ”ہمارے آستانے پر ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو، تمہیں جرات کیسے ہو گئی“

ریاض شاہ چہرے مہرے سے ایک عام سا شخص ہی لگتا تھا اس وقت اس نے یمنی عمامہ سے سر ڈھانپ رکھا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ شخص مذہبی اور متقی ہو سکتا ہے لیکن ملنگ پر اس کی شخصیت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کے تیور بتاتے تھے کہ وہ ریاض شاہ کے ساتھ مار کٹائی سے گریز نہیں کرے گا ۔

ادھر لڑکی ملنگ کی آواز سن کر ایسی دہشت زدہ ہوئی کہ خود اپنے آپ سے لپٹ گئی ۔ اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔ وہ ملنگ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تیکھے انداز میں بولا ”اوئے شرم نہیں آتی ۔ ایک معصوم سی لڑکی کو مارتے ہو۔ انسان ہو یا درندے“ ریاض شاہ کی بات سن کر خود مجھے ایک لمحہ کے لئے حیرت ہوئی۔ ایک مظلوم لڑکی کی خاطر وہ لڑائی کرنے پر اتر آیا تھا۔ میری نظر میں تو وہ بھی درندہ تھا۔ ناجانے اس نے کتنی لڑکیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا تھا۔ آج اس کی زبانی ایسے الفاظ سن کر مجھے حیرت ہوئی لیکن حیرت سے زیادہ اب خوشی ہو رہی تھی کہ بہرحال وہ جیسا بھی تھا بہرحال ایک لڑکی کی عزت و ناموس کی خاطر ان ملنگوں سے لڑنے پر آمادہ تھا۔

ملنگ ریاض شاہ کی بات سن کر تپ گیا اس نے منہ کی بجائے ہاتھوں سے بات شروع کر دی اور اپنا بھاری بھرکم ہاتھ ریاض شاہ کے گریبان پر جما دیا تو اس کے کہنیوں تک کڑے کھنکھنانے لگے۔ ایک عجیب سا جلترنگ پیداہوا تھا۔

”تجھے بتاتا ہوں میں انسان ہوں یا درندہ، بڑا آیا شرم دلانے والا۔ تیری ماسی کی دھی لگتی ہے۔ ماما لگتا ہے تو اس کا“ اس نے ریاض شاہ کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیا تو وہ لڑکھڑا گیا۔

”گریبان چھوڑ دے میرا ورنہ تیرا حشر نشر کر دوں گا“ ریاض شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے گریبان چھڑانے کی بے سود کوشش کی۔

”بات تو ایسے کر رہا تھا جیسے کچا کھا جائے گا۔ لے۔ ہمت ہے تو گریبان چھڑا کر دیکھ“ یہ کہہ کر ملنگ نے استہزائیہ انداز میں اپنے ملنگ ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ ”اوئے کوئی مائی کا لعل ہے جو اچھو خاں ملنگ کی پکڑ توڑ سکے“

”اچھو خاں ملنگ۔۔۔۔۔۔“ نام سنتے ہی میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ اگر وہ واقعی اچھو خاں ہی تھا تو اس کا ڈیل ڈول اس پر ہی جچتا تھا۔ برسوں پہلے اس نام کا ایک ڈکیٹ ہو گزرا تھا ۔انتہائی سفاک اور طاقتور۔ سنا تھا کہ وہ کسی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ وہ علاقہ بدر ہو گیا تھا لیکن آج برسوں بعد وہ مکھن سائیں کے ڈیرے پر نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور ایک ملنگ کے روپ میں۔۔۔۔۔ اس کے چہرے کی سفاکی اور درندگی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اچھو ڈکیت ہی ہو سکتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ ریاض شاہ اس کی اصلیت سے آگاہ نہیں ہو گا۔

”اگر تو اچھو خاں ڈکیت ہے تو یہ جان لے کہ اب تیری موت آنے والی ہے۔ میرا گریبان پکڑ کر تو نے بہت بڑی غلطی کی ہے“ ریاض شاہ میری توقع کے برعکس اسے جانتا تھا اور میرے لئے حیرت کی دوسری بات تھی

”ہاں .... میں اچھو خاں ڈکیت ہی تھا لیکن اب مکھن سرکار کا ملنگ ہوں“ اس نے کہا ”ایک ملنگ اور ڈکیت میں فرق دیکھ لیا تو نے۔ اگر تو نے اچھو خاں ڈکیت کو للکارا ہوتا تو میری بندوق کی گولی تیری بات کا جواب دیتی لیکن کیا کرے اب اچھو خاں .... ملنگ جو ہو چکا ہے۔ مجبوری نے روک رکھا ہے“

”تو ملنگ نہیں اب بھی ڈکیت ہی لگتا ہے“ ریاض شاہ نے کسی گھبراہٹ کے بغیر کہا ”ملنگ ایسے ہوتے ہیں ۔۔ تو سانڈ ہے۔۔۔۔ اب بھی لوگوں کو لوٹتا ہے۔ بے رحمی سے پیش آتا ہے۔ اس بے چاری نے تیرا کیا بگاڑا تھا جو اسے یوں اٹھا اٹھا کر نیچے مارا ہے .... تو وحشی تھا اچھو .... اب بھی تو وحشی ہے“

”اوئے زبان بند کر .... رب سوہنے کی قسم تیری زبان کاٹ ڈالوں گا“ اچھو خاں دھاڑتے ہوئے بولا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ریاض شاہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ اس کی پیشانی کی لکیریں تن گئیں اور نتھنے پھولنے لگے۔ اس سے قبل کہ ملنگ کچھ اور کہتا ریاض شاہ نے گریبان پر قابض ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا کہ وہ کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکراتا ہوا قلابازیاں کھاتا ہوا کئی فٹ دور جا گرا۔ اس لمحہ برگد کے درخت پر جیسے طوفان آ گیا۔ شاخیں تیزی سے لہرانے لگیں ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بگولا برگد کے درخت میں گھس گیا ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دے گا۔ آستانے کے ملنگ یہ منظر دیکھ کر تتر بتر ہو گئے اور برگد کے نیچے سے ہٹ کر دور کھڑے ہو گئے۔

ستائیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام