حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 3

حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 3
حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 3

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں صحیح معنوں میں سیدنا خالدؓ کو اپنی تلوار کے جوہر دکھانے کا موقع ملا،اور آپؓ نے بہت خونریز جنگیں لڑیں۔سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فتنہ ارتداد کو دبانے کے لیے آپؓ کو منتخب کیا۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد بہت سے قبائل ایسے تھے کہ جو مرتد ہوگئے تھے۔ بہت سے قبائل ایسے تھے کہ جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان تمام کی سرکوبی کے لیے جس سپہ سالار کا انتخاب کیا گیا، وہ سیدنا خالدؓ ہی تھے۔

مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا تھا۔سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے اس فتنے کو ختم کرنے کیلئے بھی سیدناخالدؓ کو ہی منتخب کیا۔موجودہ ریاض کے شہر کے نزدیک یمامہ کے مقام پر ایک خونریز جنگ کے بعد سیدنا خالدؓ نے مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا۔یہ جنگ اتنی شدید تھی کہ سات سو سے زائد صحابہ کرامؓ اس میں شہید ہوئے۔اتنی بڑی تعداد میں قرآن کے حفاظ اس جنگ میں شہید ہوئے کہ اس کے بعد ہی قرآن کو تحریر ی شکل میں جمع کرنے کا حکم خلیفہ کی طرف سے جاری کیا گیاتھا۔

حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سیدنا خالدؓ نے انتہائی دلیری اور شجاعت کے ساتھ ان مہمات کو سر کیا۔ حضورﷺ نے سیدنا خالدؓ پر جو نگاہ کرم فرمائی تھی، اور اس کے بعد جو کامیابیاں ان کو میدان جنگ میں حاصل ہوئی تھیں، اس سے سیدنا خالدؓ کو اتنا اعتماد ہوگیا تھا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت ان کے آگے ٹھہر نہ سکتی تھی۔ ان کے یقین کا ا ندازہ اس بات سے کیجیے کہ جب انہوں نے ایران کے بادشاہ کو خط لکھا اور بہت اعتماد سے اسکو کہا کہ اسلام قبول کرلویا سرنگوں ہوکر جزیہ دو ،ورنہ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ کیا چیز تمہارے پاس آنے والی ہے! اور کیا چیز تم سے ٹکرائے گی! جو لوگ میں تمہاری طرف لے کر آرہا ہوں ، وہ موت کو اتنا ہی عزیز رکھتے ہیں کہ جتنا تم اپنی زندگی کو۔ 

اسی طرح ایک بازنطینی سپہ سالار کہ جس نے خود کو ایک بہت بڑے اورمضبوط قلعے میں بند کرلیا تھا، کے نام خط میں آپؓ نے لکھا کہ اگر تم بادلوں میں بھی چھپ جاؤ تو اللہ ہمیں باد لوں میں پہنچا دے گا یا تمہیں ہماری سطح پر لے آئے گا،تاکہ ہم میدان جنگ میں تمہارا صفایا کرسکیں۔ یہ تھا ان کا غیر معمولی اعتماد!

میدان جنگ میں سیدنا خالد بن ولیدؓ کو انکے نعرے سے پہچانا جاتا تھا۔ انکا جنگی نعرہ یہ تھا :’’میں غیرت مند جنگجو ہوں! میں اللہ کی تلوار ہوں! میں خالد بن ولیدؓ ہوں‘‘۔ ان کا یہ اعتماد اور نام ہی دشمن پر دہشت طاری کردیتا۔ 

ایک دفعہ ان کے پاس ایک رومی جاسوس قاصد کی شکل میں آیا اورایک جھوٹا منصوبہ پیش کرکے آپکو پھنسانے کی کوشش کی۔ خالد بن ولیدؓ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صرف اتنا پوچھا کہ کیا تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔؟ اس شخص کی روح ہی فنا ہوگئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب مرتدین کی سرکوبی ہوگئی تو اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ کی نگاہ ایران اور عراق کی طرف بھی گئی۔ آپؓ نے اس مہم کے لیے بھی سیدنا خالدؓ کو ہی منتخب کیا۔ مسلمانوں کو یہ بشارت حضورﷺ کی طرف سے پہلے ہی مل چکی تھی کہ مسلمان ایرانی اور رومی سلطنتوں پر قبضہ کرلیں گے۔آپ کو سراقہؓ والی حدیث یاد ہوگی کہ جب حضورﷺ ،حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمراہ مکے سے ہجرت کرکے مدینے کی جانب روانہ ہوئے، تو سراقہؓ نے گھوڑے پران کا تعاقب کیا تھا۔ اس وقت سراقہؓ کو حضورﷺ نے بشارت دی تھی کہ ایک وقت آئے گا کہ کسریٰ کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں ہونگے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ اس بات کے شاہد تھے۔ حضورﷺ کی اس حدیث مبارکہ کی تکمیل کا آغاز سیدنا خالدؓ کی اسی مہم کے نتیجے میں ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ہم خالدؓ کی جنگی اور حربی حکمت عملی پر بات کریں،کچھ روشنی حضرت خالدؓ کی نفسیات پر بھی ڈالتے چلیں۔ حضرت خالدؓ کو جتنا اعتماد اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی روحانی تائید پر تھا،اتنا تو انکواپنی جنگی حکمت عملی پر بھی نہ تھا۔ حضرت خالدؓ نے حضورﷺ کے کچھ بال مبارک اپنی ٹوپی میں سی لیے تھے اور وہ اپنے آہنی خود کے نیچے وہی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔جنگ یرموک میں ایک موقع پر وہ ٹوپی آپؓ کے سر سے گر گئی، تو آپؓ جنگ کے دوران لاشوں کے بیچ اس کو ڈھونڈتے رہے ، مگر رومی فوج کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا۔حضرت خالدؓ نے مسلمانوں کا ایک دستہ تیار کیا اور دوبارہ حملہ کرکے رومیوں کو پسپا کیا، اور اپنی ٹوپی دوبارہ حاصل کی۔ جنگ کے بعد لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ آپؓ نے ایک ٹوپی کی خاطر کئی مسلمانوں کی جانیں ضائع کروادیں، تو سیدنا خالدؓنے فرمایا کہ یہ ٹوپی نہیں بلکہ میری طاقت کا سرچشمہ ہے، کیونکہ اس میں رسولﷺکے بال مبارک پروئے ہوئے ہیں۔

ایک اور واقعہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت خالدؓ کی ایرانی سپہ سالار سے بات چیت ہورہی تھی ۔اس نے کہا کہ آپ ہم سے کیوں لڑتے ہیں، ہماری تلواروں میں تو ایسا زہر لگا ہوا ہے کہ جو جسم کو چھو بھی جائے تو اسے گلاَ کر خراب کردے گا۔ سیدنا خالدؓ نے وہ زہر کی شیشی لی اوربسم اللہ الذی لا یضر۔۔۔ والی دعاپڑھ کر اسے پی گئے اور آپؓ کو کچھ بھی نہ ہوا، کیونکہ آپؓ کو کامل یقین تھا کہ جو کام اللہ نے آپؓ سے لینا ہے وہ ہر حال میں لیا جائے گا۔ اللہ کی تلوار کافروں کے ہاتھوں نہیں ٹوٹے گی۔ پھر آپؓ کے ساتھ رسولﷺکے بال مبارک کی برکت بھی تھی کہ جنہیں آپؓ ہر وقت اپنے وجود کے ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے۔(جاری ہے )

حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی... قسط 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت خالد بن ولیدؓ