کرکٹر سے شادی کرنے والی وہ لڑکی جس نے انتہائی پراسراراور شرمناک طریقہ اختیار کیا تھا 

کرکٹر سے شادی کرنے والی وہ لڑکی جس نے انتہائی پراسراراور شرمناک طریقہ اختیار ...
کرکٹر سے شادی کرنے والی وہ لڑکی جس نے انتہائی پراسراراور شرمناک طریقہ اختیار کیا تھا 

  

مافوق الفطرت کہانیوں کا یہ سلسلہ بہت اچھا جارہا ہے۔میں اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں کہ ہر انسان کے ساتھ ایسی کہانیاں جڑی ہوتی ہیں۔چاہے جتنا بھی انکو جھٹلایا جائے ،کوئی ان انہونیوں کو نہیں ٹال سکتا جو ایک انسان کے دماغ سے جنم لیتی ہیں اور اس کے دل پر قبضہ کرلیتی ہیں۔اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان بھی جادو ٹونے کی لت میں پڑکر گناہ کمالیتا ہے۔

میں لاہور کے ایک معروف کالج میں پڑھتی تھی۔بڑا ماڈرن کالج تھا۔یہاں لڑکیوں کا ہی راج تھا۔ٹیچرز بے چاری تو بھول کر بھی کسی سٹوڈنٹ کو ڈانٹ نہیں سکتی تھیں کیونکہ ایسے واقعات یہاں ہوچکے تھے کہ بعد میں ان ٹیچرز کو ان سٹوڈنٹس کے والدین سے بے عزت ہونا پڑا ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں کالج کے ہاسٹل میں رہتی تھی۔سونے پر سہاگہ تھا کہ ایک تو کالج کا کھلا ماحول ،اس پر کالج کے ہاسٹل میں تو سب بے مہار لڑکیاں تھیں۔

ہم سب ہلا گلہ کرنے والی لڑکیوں کا ایک گروپ تھا۔اسکی لیڈر اتفاق سے میں ہی تھا۔کالج میں پنگے بازی کرنا ہمارا شوق تھا۔ہماری کالج کی کرکٹ ٹیم کا جب دوسرے کالجوں سے میچ ہوتا تو ہم سب ٹیم کے ساتھ جاتیں اور دوسری ٹیموں کا ناک میں دم کردیتیں جس سے ہم سب کی نظروں میں آجاتے،ہماری شوخیاں بدتمیزی اور طوفانی تھیں۔ 

ایک بار ہماری کرکٹ ٹیم کی چند لڑکیوں کو کوچنگ کی ضرورت پیش آئی تو انہیں قذافی اسٹیڈیم بھیجا گیا ۔ہم لوگ بھی انکے ساتھ چلے گئے کیونکہ اب اس ٹیم میں میرے گروہ کی دو لڑکیاں بھی شامل تھیں۔میں کوچنگ سنٹر اس لئے بھی جانا چاہتی تھی تاکہ کرکٹرس سے مل سکوں ،مجھے کرکٹر خاص طور پر فاسٹ باولر بہت اچھے لگتے تھے،یہ ایگریسو اور تیز مسالہ ہوتے ہیں۔ 

ایک شام ہم نے دیکھا کہ چند نوجوان کرکٹر ہماری ٹیم کی لڑکیوں کی کوچنگ کررہے ہیں۔ان میں سے ایک نوجوان کو دیکھ کر میں تو جیسے ہڑبڑا سی گئی،اونچا لانبا قد،چوڑا سینہ ،لمبے بال جو اسکے کاندھوں کو چھورہے تھے،سرخ رنگ ،آنکھوں میں مقناطیسی کشش ۔معلوم ہوا وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہا ہے اور بہت جلد قومی ٹیم میں شامل ہوجائے گا ۔میں نے اس سے فون نمبر لیا اور پھر یہ بات تو بتانے والی نہیں کہ ہم دونوں بہت جلد ایک دوسرے سے مانوس ہوگئے ۔وہ کیمپنگ کے لئے آیا تھا اور ہوٹل میں رہتا تھا ۔میں اسکے پاس چلی جاتی ۔میں اسکے ساتھ حدیں پار کرگئی اور اس پر مجھے کوئی شرمندگی بھی نہیں تھی۔لیکن ایک دن جب میں ہوٹل گئی تو اسکے کمرے میں ایک اور لڑکی موجود تھی۔اسے دیکھ کر تو مجھے تپ چڑھ گئی۔وہ بھی میری طرح بگڑی اولاد تھی اور اس کی دیوانی ہوچلی تھی۔مجھے بہت غصہ تھا کہ اس نے میرا بوائے فرینڈ چھین لیا ہے ۔اسے نہیں چھوڑوں گی۔

میں نے اس کرکٹر سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اسکو اپنے ساتھ رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔میں نے اگلے دن اس سے بات کی تو وہ ناراض ہوا اور بولا ’’ میں ابھی شادی نہیں کرسکتا۔میرا فیوچر ابھی شروع نہیں ہوا اور میں اس پر فوکس رکھنا چاہتا ہوں‘‘ وہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔بڑے بڑے کواب دیکھ رہا تھا۔ 

میں نے اسے کافی آفرز کرائیں ،سمجھایا کہ کرکٹ کھیلتے رہو ،کسی سے شادی کا ذکر نہیں کروں گی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہواتو ایک بار دل میں خیال آیا اسے ماردوں یا مروادوں لیکن اس کا انجام میں جانتی تھی۔اس شام میں لیپ ٹاپ پہ سرچنگ کررہی تھی کہ اتفاق سے کسی عامل کا اشتہار میری نظروں سے گزرا۔ایسا کچھ میں نے ڈراموں اور فلموں میں بھی دیکھا تھا کہ جادو ٹونے سے لوگوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔پس میں نے اس عامل سے رابطہ کیا۔وہ پوش علاقے میں رہتا تھا ۔میں اسکے پاس گئی،اسکو بھاری فیس دی اور دوٹوک کہا’’ مجھے ہر صورت اس سے شادی کرنی ہے ،اگر وہ نہ مانا تو پھر اسکو کرکٹ کھیلنے کا بھی کوئی حق نہیں۔میں اسکو اس قابل نہیں چھوڑنا چاہتی کہ وہ کسی اور کا ہوجائے‘‘

عامل نے تین دن کا وقت لیا اور کوئی عمل شروع کیا۔اس نے مجھے ایک سفوف دیا کہ اس پر دم کیا گیا ہے،اسے کولڈ ڈرنک میں ملا کر کرکٹر کو پلانا ہوگا ۔ساتھ اس نے ایک تعویذ بھی دیا کہ یہ تعویذ اسکے سرہانے میں چھپانا ہے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں تھے۔میرے پوچھنے پر عامل نے تسلی کرائی’’ آج تک ہماری کاٹ سے کوئی نہیں بچا،یہ بھی نہیں بچ پائے گا‘‘

میں نے دوسرے دن اس سے رابطہ کیا اور اسے باور کرادیا کہ میں نے اپنے فیصلے پر غور کیا ہے ،ہم ایک اچھے دوست بن کر رہ سکتے ہیں۔وہ بہت خوش ہوا۔اس دن میں اسکے لئے ایک قیمتی تحفہ لیکر گئی۔میں نے اسکے تکئے میں تعویذ بھی چھپادیا اور اسکو سفوف بھی پلادیا ۔

اگلے دن ہی عامل کی بات سچ ثابت ہوئی۔

کرکٹر کا مجھے فون آیا اور اس نے اداسی کا بہانہ بلا کر مجھے بلایا اور کہا’’ رات میں نے بڑا ڈراونا خواب دیکھا ہے ‘‘ اس نے بتایا کہ خواب میں ایک بھیانک چہرے والے آدمی نے اسکا گلا دبادیا تھا لیکن میں نے آکر اسکو ہٹایا تو اسکی جان چھوٹ گئی۔پہلی بار اس نے مجھے دل سے چاہا۔اگلے دن میں نے عامل کا شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ عمل ادھورا نہیں چھوڑنا ۔میں نے اسکو مزید پیسے دئے تو اس نے کہا اب مجھے کرکٹر کی شرٹ لیکر آنی ہوگی۔اگلی رات میں بہانے سے اسکی شرٹ یہ کہہ کر مانگ لائی کہ اسکی نشانی کے طور پر میں یہ شرٹ رکھنا چاہتی ہوں۔

اسکا رویہ یکایک میرے ساتھ بدل گیا ۔زیادہ سے زیادہ وقت میرے ساتھ گزرانے کی ڈیمانڈ کرنے لگا ۔میں نے شرٹ عامل کے سپرد کی ،نہ جانے اس نے کیا کچھ کیا ہوگا ۔کہ کرکٹر میرے لئے دیوانہ ہوگیا ۔وہ اب میرے ساتھ شادی پر تیار تھا اور میں نے اس سے کچھ وقت مانگ لیا تاکہ والدین سے کہہ کر اسکو ارینجڈ میرج میں بدلا جاسکے لیکن اسکی دیوانگی کسی نشئی کی طرح بڑھ گئی۔اس نے کیمپ جانا چھوڑ دیا اور میرے ساتھ ہی رہنے پر بضد ہوگیا۔میں کالج میں چھٹیوں کا کہہ کر تین دن اسکے ساتھ رہی اور وہ تین روز تک کیمپ نہیں گیا تواسکے غیر ذمہ دارانہ رویہ پر اسکی کلاس لی گئی جس کے جواب میں اس نے بدتمیزی کردی ۔اس کا کہنا تھا کہ ایک فاسٹ باولر کو قید کرکے نہیں بٹھایا جاسکتا ۔کرکٹر کا گلیمر ختم ہوجاتا ہے۔جس دن وہ کوچ سے لڑ کر آیا ،اس نے مجھے کہا ’’ میں کرکٹ چھوڑ سکتا ہوں مگر تمہیں نہیں‘‘ اس نے واقعی ایسا کردکھایا لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی۔میں کرکٹر سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن جب وہ کرکٹر ہی نہیں کھیلے گا تو میں اسکے ساتھ کیسے رہ سکتی تھی۔ادھر اسکا مجھ میں جنون بہت زیادہ بڑھ گیا،اس نے ہوٹل میں شراب بھی پینی شروع کردی ۔

اتفاق سے مجھے گھر سے بلاوا آگیا ۔ماما ڈیڈ کو میری سرگرمیوں کی بھنک پڑگئی اور انہوں نے کینیڈا میں میری پھوپھو کے ہاں رشتہ طے کردیا ۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ میں واپس کالج نہ جاسکی اور نہ اس کرکٹر کی کالوں کا جواب دے سکی جو میری یاد میں تڑپ رہا تھا ۔میں تو ایک ماہ میں ہی شادی کرکے ٹورنٹو پہنچ گئی اور وہ بے چارا جو دل میں بڑے جذبے لیکر گھر سے نکلا تھا ،گم راستوں کی دھول میں کہیں گم ہوگیا۔ایک بار فیس بک پر اسکے حوالے سے کسی نے کوئی بات چھیڑی تو معلوم ہوا وہ بہت بڑا باولر بن جاتا لیکن اس پر کسی نے جادو کرادیا تھا ،بڑا علاج کرایا گیا ،لیکن جب تک وہ جادو کے اثرات سے نکلا ،اسکا کیرئر ختم ہوچکا تھا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت