کشف القبور کرنے والے عامل کا ایسا انکشاف کہ انسان کوئی بھی وظیفہ پڑھنے سے پہلے سو بار سوچے گا 

کشف القبور کرنے والے عامل کا ایسا انکشاف کہ انسان کوئی بھی وظیفہ پڑھنے سے ...
کشف القبور کرنے والے عامل کا ایسا انکشاف کہ انسان کوئی بھی وظیفہ پڑھنے سے پہلے سو بار سوچے گا 

  

تحریر: نظام الدولہ 

میں پچھلے بہتر گھنٹوں سے جاگ رہا ہوں ۔ہر لمحہ مجھے موت کی چاپ سنائی دے رہی ہے ،شاید کہ میں بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوجاوں ،اس سے پہلے میں آپ سے کچھ باتیں شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ میری یہ حالت ایسی کیوں ہوئی ہے ۔

میری یہ کہانی ان تما م لوگوں کو پڑھنی چاہئے جو عملیات سیکھ کر چلے کاٹتے ہیں ۔مجھے ہمیشہ سے پراسرار علوم سیکھنے کا شوق رہا ہے ۔جہاں کہیں مجھے یہ لکھا ملا کہ اس دعا اور وظیفہ پڑھنے کے بعد آپ کو فلاں فلاں خصوصیات حاصل ہوجائیں گی،آپ کی تیسری آنکھ کھل جائے گی،کشف کرسکیں گے اور مُردوں سے بھی بات چیت کرلیں گے تو میں یہ وظیفہ کرنے بیٹھ جاتا تھا ۔ایک دن میں لاہور میں ایک معروف دربارپر نوافل پڑھنے کے بعد گھر واپس آرہا تھا کہ مجھے ایک بزرگ دروازے کے پاس بیٹھے ملے ۔میں نے احتراماً انہیں سلام کیا۔اس وقت میرے پاس مٹھائی کا ڈبہ تھا جو میں نے انہیں پیش کیا ۔اتفاق سے یہ کام غیر ارادی طور پر ہوا تھا ۔حالانکہ مٹھائی کا یہ ڈبہ میں گھر لے جانا چاہتا تھا ۔وہ بزرگ میری سعادت مندی دیکھ کر مسکرائے اور مجھے اپنے پاس بیٹھا کر میرا ماتھا دیکھنے لگے ،یوں لگا جیسے کچھ پڑھ رہے ہوں ۔پھر کہنے لگے ’’ تمہیں ایک عمل بتاتا ہوں ،کسی بھی جمعرات کو تم عشاء کے بعد کرنا ‘‘

میں نے وفور شوق سے کہا ’’ میں کروں گا حضور ‘‘ 

’’ تمہیں کشف القبور کا شوق ہے ناں ‘‘ جب انہوں نے یہ پوچھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ بزرگ بہت پہنچ رکھتے ہیں ۔انہوں نے میرا دل پڑھ لیاہے ۔میں نے اقرار میں سر ہلایا اور انہوں نے مجھے یہ عمل بتایا ۔میں نے اگلے دن جب کہ جمعرات تھی یہ عمل پڑھنا شروع کیا ۔انہوں نے جو پرہیز بتائے تھے وہ میں نے کئے اور تین جمعراتوں کے بعد میں اگلی رات بارہ بجے سفید خوشبودار کرتہ پہنا ،سر پر ٹوپی لی ۔ہاتھوں میں اگربتیوں کا پیکٹ تھاما اور باوضو ہرکرقبرستان چلا گیا ۔میں نے ان میں سے ایک ایسی قبر کا انتخاب کیا جس پرکتبہ لگا ہوا تھا ۔یہ ایک مرد کی قبر تھی جس نے پینتالیس سال کی عمر میں حادثاتی وفات پائی تھی ۔

میں قبر کے بائیں جانب اسکے قلبی رخ پر بیٹھ گیا اورعمل پڑھنا شروع کردیا ۔میں نے محسوس کیا کہ عمل کے نتیجہ کے مطابق قبر سے دھواں اٹھنا شروع ہوگیااور ایک ہیولہ سا بن گیا ہے ۔اب میں نے بزرگ کی ہدایات کے مطابق اس ہیولے سے بات چیت شروع کردی ۔وہ اسی قبر کا مردہ تھا جسے میں نے عمل سے اپنے سامنے ظاہر کرلیا تھا ۔

اب میں آپ کو جو بات بتانیجارہا ہوں ،شاید آپ اس پر یقین نہیں کریں گے کیونکہ میں نے کرنے کو تو یہ کام کرلیا ہے مگر اب تک پریشان ہوں ۔کئی راتوں سے سو بھی نہیں پایا اور اس کش مکش میں ہوں کہ اس مردے نے مجھے جو بتایا تھا اور پھر اس نے مجھ سے جو وعدہ لیا تھا میں اس کو پورا کروں یا نہ کروں ۔اگر پورا نہیں کروں گا تو مجھے اس وعدہ خلافی کی بہت بڑی سزا بھگتنا پڑے گی جو مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوگی۔

یہ مردہ جس کو میں کشف القبور سے ملا تھا ،اسکا نام رئیس تھا ۔متوسط درجہ کا آدمی تھا ۔بائیس سال پہلے اس کو اسکے سالے نے زہر دیکر مارا تھا مگر اس نے یہ کہانی گھڑی تھی کہ رئیس نہر میں ڈوب کر مراہے ۔اسکی ہلاکت پر اسکا پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہوا تھا ۔مردے سے اس دوران زیا دہ باتیں نہیں کی جاسکتی تھیں ۔اس لئے مختصراً ا س نے یہی بتایا اور وعدہ لیا کہ میں اسکے بیٹے کو یہ بات لازمی بتاوں اور وہ اسکا بدلہ لے ۔ورنہ وعدہ خلافی کی صورت میں مجھے عذاب ناک موت سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ رئیس نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتایا ۔ظاہر ہے موجودہ حالات میں اس گھر کو تلاش کرنا آسان نہیں تھا لیکن میں پھر بھی اس پتے پر پہنچ گیا اور کسی طرح بوڑھے لوگوں سے پوچھنے میں کامیاب ہوگیا کہ کبھی اس علاقہ میں رئیس نامی ایک شخص رہا کرتا تھا ۔اس کے گھر میں جو شخص رہتا تھا ،وہ اسکا سالا ہی تھا جس نے اسکو قتل کیا تھا ۔جبکہ رئیس کا بیٹا اسکے داماد کی حیثیت میں اسی کے ساتھ رہتا تھا ۔مردے نے جو باتیں بتائی تھیں ،ان کی رو سے تو یہ درست ہی معلوم ہورہا تھا کہ کشف القبور کی مدد سے میں نے جس مردے سے ملاقات کی ہے وہ جینوئن آدمی ہے لیکن اب اگلا مرحلہ یہ شروع ہوگیا کہ میں اسکے بیٹے کو یہ کیسے بتاوں کہ اسکے باپ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔کون اس بات کو مانے گا کہ میں نے کشف القبور سے اسکے باپ سے ملاقات کی ہے اور اس نے مجھے یہ انکشاف کیا ہے ۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ میری بات سن کر الٹا میرے خلاف ہوجائے گا اور بات پولیس تک پہنچ سکتی ہے ۔میں نے اس پر بہت غور کیا اور میرے اندر یہ ہمت نہ ہوئی کہ میں رئیس کی موت کی اصل کہانی اس کے بیٹے کو بیان کرسکوں ۔میں جانتا ہوں کہ یہ صریحاً وعدہ خلافی ہے اور جیسا کہ رئیس نے بتایا تھا کہ اگر میں نے وعدہ پورا نہ کیا تو پہلے میری نیند مجھ سے روٹھ جائے گی اور پھر میں ایسی موت مروں گا کہ مر کر بھی میری روح کو چین نصیب نہیں ہوگا ۔اب جبکہ میں یہ کہانی آپ کو سنا رہا ہوں مجھے جاگتے ہوئے تین دن اور راتیں ہوگئی ہیں ۔یعنی بہتر گھنٹوں سے جاگ رہا ہوں ،کوئی نیند کی دوا بھی کارگر نہیں ہورہی۔ایک بار بھی آنکھ نہیں لگی ،پوار بدن سُن ہوچکا ہے ،تھکاوٹ سے دماغ پھٹ رہا ہے ۔ میں یہ بھی بتا دوں کہ ان بہتر گھنٹوں میں توبہ استغفار کرتا جارہا ہوں کہ مجھ سے کشف القبور کے عمل کے آثار ختم ہوجائیں اور میں اس عمل کی سحری قوتوں سے آزاد ہوجاوں ۔دعا کریں کہ میری یہ تکلیف ختم ہوجائے ،زندہ رہا تو پھر آپ سے لازمی اپنا یہ تجربہ شئیر کروں گا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت