سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23

  



کچھ تاجروں کی جانب سے بھی محمودغزنوی کے حملے کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ ایک تاجر جوادی(جو بہت جلد بہت امیر ہو گیا اور اس نے تجارت میں بہت نام پیدا کیا،)نے بھی محمود غزنوی کے حملے کو بہت اہم قرار دیا ہے۔ اس تمام حقائق کے باوجود یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ کیا محمود غزنوی کے حملوں کا مقصد شیوا کی اجارہ داری اور اقتدار کا خاتمہ تھا یا پھر وہ مال و دولت سے بھرپور مندر کو مسمار کرنا چاہتے تھے؟ مقامی راجاﺅں کی جانب سے لوٹنے کے واقعات کا تمام تحقیقات میں تسلسل سے ذکر آیا ہے۔ کمارا پالا نے جو مندر کی تزئین و آرائش پر بہت زیادہ رقم خرچ کی تو کیا اس کا مقصد اپنی اجارہ داری کو لازوال کرنا تھا؟کیا محمود غزنوی نے اس لئے مندر کو مسمار کیا تاکہ علاقے میں کمارا پالا کی بجائے ان کی بادشاہت ہو؟

1264ءمیں ایک تاجر کی نے عربی اور سنسکرت زبان استعمال کرتے ہوئے علاقے میں مسجد کی تعمیر کے احوال ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ کہ خوجہ ابراہیم کے صاحبزادے خوجہ نورالدین فیروز ایک مانے ہوئے تاجر تھے۔ جیسا کہ ان کے نام کے پہلے حصّے خوجہ/خواجہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے سومنات کے قریب ایک جگہ مہاجان پالی میں ایک مسجد تعمیر کروائی جو دھرم مستانہ کہلاتی تھی۔ اس کیلئے جگہ مقامی راجہ سری چاوا سے حاصل کی گئی تھی‘جو نانا سمہا کے بیٹے تھے۔ اس کے علاوہ کاٹھیاوار،مالد یوہ، چانکیہ وگلیہ اور ارجنیدوا کے بادشاہ کو بھی اس کے متعلق علم تھا۔ زمین کیلئے جگہ کی منظوری دو مقامی اداروں پنچاکلا اور جماتھا سے لی گئی تھی۔ پنچاکلا ایک مضبوط مقامی کمیٹی تھی‘جس میں کئی صوفی، افسران، تاجر اور مقامی معزز لوگ شامل تھے۔اس کا چیئرمین پروہیتا سومنات کے مندر کے رکھوالوں میں سے تھا۔ کچھ شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پروہیتا نے براہسپاتی سے جگہ لی۔ اس جگہ کے حاصل کرنے والے عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ وہ کوئی بہت بڑا آدمی تھا۔ ان میں ٹھاکر، رانکے، راجا اور تاجر شامل تھے جن کا تعلق مہاجان پالی سے تھا۔ ان میں سے کچھ لوگ سومنات کی حکومت اور مندر کی حفاظت پر بھی معمور تھے۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس معاہدے میں شامل دوسری کمیٹیوں میں جماعت شامل تھی‘جو بحری جہاز کے مالکان، ملاحوں اور مذہبی اساتذہ پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ان میں گھوڑوں کی حفاظت‘دیکھ بھال کرنے والے لوگ اور تیل بدلی کرنے والے کارکن بھی شامل ہوتے تھے۔ان میں سے اکثریت کا نام اپنے علاقے یا ذات کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ کہ یہ سب سلمان ہو گئے تھے، چونکہ جماتھا نے مندر کی تعمیر کیلئے مختص رقم کا بندوبست کرنا تھا اسلئے انہوں نے سب لوگوں کی ذات پات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سومنات اور پٹنا کے مندروں سے متصل جائیداد سے بھی ایک معقول آمدنی متوقع ہوئی جبکہ ایک تیل کی مل اور دو دکانوں کی آمدن بھی مسجد کیلئے مختص کر دی گئی۔ دکانیں اور تیل کی مل مقامی لوگوں سے خریدی گئی تھیں۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسجد کیلئے جگہ کسی فاتح کی بجائے تاجر نے خریدی اور اس کیلئے بھی قانونی چارہ جوئی کے تمام تقاضے پورے کئے گئے‘کیونکہ علاقے کے تمام اشرفیہ اور معزز لوگ اس میں شریک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد کا سومنات کے مندر کے ساتھ متصل علاقوں سے رابطہ موجود تھا۔ اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا محمود غزنوی کے حملوں کے 200 سال بعد مقامی لوگوں نے حملہ آوروں کو اس معاہدے کے بارے میں یاد نہیں کروایا؟کیا ان کی یادداشت بہت محدود تھی یا پھر ان کیلئے وہ چیزیں غیر اہم تھیں؟

کیا مقامی لوگ عرب اور مغربی ایشیائی تاجروں کے درمیان فرق روا رکھتے تھے کیونکہ عربوں کو ترک اور جنوبی ایشیائی لوگوں کو تاجیکا کہا جاتا تھا؟یا پھر اوّل الذکران کے درمیان زیادہ مقبول تھے اور مو¾خرالذکر کی اہمیّت نسبتاً کم تھی؟ ایک بات تو طے ہے کہ وہ آج کل کے مسلمانوں کی طرح سب کے سب مسلمان تھے۔ ہرمز گھوڑوں ی تجارت کے حوالے سے مشہور تھا۔ اسلئے نورالدین کے بیانات اہمیّت کے حامل ہیں۔ کیا تجارتی منافع نے تمام چیزوں کو پس پشت ڈال دیا؟ کیا مندر اور اس کے منتظمین بھی گھوڑوں کی تجارت میں شامل تھے او ر خاصا منافع کما رہے تھے، اگرچہ (وہاں جماعتیں مسلمان تھیں)اور محمود غزنوی کی طرح سب مسلمان تھے۔

15ویں صدی میں اکثر گجرات کے لوگ ترک کے خلاف جنگ کے متعلّق بات کرتے پائے جاتے ہیں۔ سومنات سے ملنے والی ایک اور تحریر جو اگرچہ سنسکرت میں ہے لیکن اس کا آغاز بسم للہ الرحمٰن الرحیم سے ہوتا ہے۔ یہ دہرہ یا بوہرہ کے خاندان کی تفصیل بھی بیان کرتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ بوہرہ بنیادی طور پر عرب تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سومنات شہر پر ترسکاس نے حملہ کیا تھا اور وہرہ فرید جو بوہرہ محمد کے صاحبزادے تھے، نے شہر کے دفاع کی ذمہ داری سنھبالی اور مقامی راجہ بسرا ہمادیوا کی جگہ سنھبالی۔

حالات و واقعات کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ سومنات کے مندر پر حملے کی کوئی آسان وجوہات تلاش کرنا ممکن نہیں لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ آج ہم محمود غزنوی کے حملے کو ہندو مسلم دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں جو آج تک چلی آ رہی ہے؟کے ایم منشی کا کہنا ہے”محمود غزنوی کی جانب سے ان کے مندر کو تباہ کرنے کا واقعہ ایک ہزار سالوں تک ہندو نسل کی فطرت میں رچ بس گیا ہے۔ اب وہ اس قوم کے لئے نہ بھولنے والی تباہی بن چکا ہے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ محمود غزنوی کے سومنات پر حملے کو 1843ءمیں لندن میں ہاو¾س آف کامن میں بھی زیر بحث لایا گیا تھا جن میں سومنات کے مندر کے دو دروازوں کا ذکر آیا ہے۔ لارڈ ایلن برگ نے دروازوں کی واپسی کے لئے مشہور قراردار منظور کی جس میں افغانستان میں برطانوی فوج کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ محمود غزنوی کے مزار سے دروازے اتار کر واپس بھارت لائیں۔ ان کے متعلق خیالات تھا کہ وہ سومنات کے مندر سے لوٹ کر لے جائے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دروازوں کی واپسی کا مقصد برطانیہ کا افغانستان پر تسلط ظاہر کرنا تھا اگرچہ وہ افغانستان میں اس قدر طاقتور نہیں تھے اور انہیں انگریز افغان جنگ میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ افغانی قوم ہندوستانی قوم کی طرح مذہب اور فرقوں میں منقسم نہیں تھی بلکہ انہوں نے مشترکہ طور پر مسلح جدوجہد کرکے انگریزوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔

بھارتی ہندو بھی یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ انگریزوں کے خیر خواہ ہیں اور اس طرح انگریزیوں نے ان کے جذبات کی کمیل کی۔اس قرار داد نے ہاو¾س آف کامن میں طوفان برپا کر دیا پھر یہ واقعہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل عرصے تک رنجش کی وجہ بنا رہا۔اپوزیشن نے یہ نقطہ اٹھایا کہ ایلن برگ ہندوو¾ں کو نواز کر ملک میں مذہبی تعصب پھیلا رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دروازے قومی عظمت کی نشان تھے اور یہ کسی مذہب یا نسل کی بنیاد پر نہیں کیا جا رہا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کی شاہ افغانستان شاہ شجاع سے کی گئی درخواست کا بھی حوالہ پیش کیا گیا۔ اگرچہ ان کے خط کا معائنہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ محمود غزنوی کے حملے کے دوران مندر کے دروازوں کی کہانی کو ایک تصوراتی تخلیق سمجھا جاتا ہے۔

اس حوالے سے جن مو¾رخین کا حوالہ دیا جاتا ہے ان میں گبن‘دو ایرانی شاعر فردوسی‘سعدی اور فرشتہ شامل ہیں۔ فرشتہ وہ واحد شخص تھے جنہوں نے سترہویں صدی میں ہندوستان کی تاریخ کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ فرشتہ کا بیان اپنا ہی دلچسپ ہے جتنا ماضی میں پہلے مو¾رخین کا‘جس کے مطابق وہاں بہت بڑا مندر موجود تھا جب اسے توڑا گیا تو اس کے پیٹ سے ہیرے جواہرات برآمد ہوئے۔

ایلن پر تنقید کرنے والے واقعہ کے اثرات سے خوفزدہ تھے۔ ان کے خیالات میں دروازوں کے اکھاڑنے سے برصغیر میں نسلی‘مذہبی تعصب کی جنگ چھڑ جائے کی اور خاص طور پر مسلمانوں کے جذبات کو بہت ٹھیس پہنچے گی۔ ایلن برگ کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ہندو ایک طویل عرصے سے اپنے آپ کو کمتر نسل تصور کرتے ہیں اس کام کا مقصد ان کے احساس کمتری کو ختم کرنا تھا جو ایک سو سالوں سے ان کے دلوں میں موجود تھا۔ دروازے اکھاڑ کر واپس لائے گئے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دروازے ہندوو¾ں کی بجائے مصر کے تیار کردہ تھے۔ ویسے بھی محمود غزنوی جیسا غیور جیسا سلطان کس طرح ایک ہندو مندر سے اتارے گئے دروازوں کو اپنے مزار پر لگوانا پسند کرتا۔ بعدازاں ان دروازوں کو آگرہ کے قلعے میں رکھ دیا گیا جہاں وہ دیمک کی خوراک بن گئے۔

کے ایم منشی نے سومنات کے مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا اور انہوں نے والٹر سکاٹ سے متاثر ہو کر کئی ناول لکھے لیکن زیادہ گہرا تاثر ہیکن چندرا چاٹر جی کے 1927ءمیں شائع ہونے والے ناول”جئے سومنات“سے پیدا ہوتا ہے۔ منشی کی خواہش تھی کہ ہندوئوں کی اسلام کی آمد سے قبل کا دور واپس لوٹ آئے۔ اس نے کہا کہ سومنات کے مندر کی تباہی مسلمانوں کی برصغیر میں عظمت کی اہم نشانی بنا۔ 1951ءمیں منشی (جو اس وقت مرکزی حکومت کے وزیر تھے)نے سومنات کے مندر کی تعمیر پر کہا”بھارت آج بہت خوش ہے کہ بھارتی حکومت کے تعاون سے سومنات کے مندر کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے۔“نہرو نے اس پر احتجاج کیا کہ بھارتی حکومت سومنات کے مندر کی تعمیر میں حصّہ لے رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ کام نجی سطح پر ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس اقدام سے سیکولر انڈیا کے نعرے کو ٹھیس پہنچتی تھی۔ بھارتی صدر راجندرا پر ساد کی جانب سے اس کا سنگ بنیاد رکھنا انہیں کسی صورت قابل قبول نہیں تھا۔

سومنات کے مندر پر حملے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس حملے سے ایک طرف فتح کا عنصر اجاگر ہوا تو وہ دوسری جانب مزاحمت کا عمل بھی پروان چڑھا۔ ہمیں مختلف مو¾رخین کے واقعات کو اس خاص ماحول اور واقعہ سے منسلک کرکے دیکھنا چاہیے صرف اس صورت میں ہم ایک بہتر نتیجہ پر پہنچ سکیں گے۔ بہرحال حقائق بتاتے ہیں کہ کچھ ہندو گروہوں نے جان بوجھ کر یہ کوشش کی کہ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر ہندو مسلم دشمنی کو پروان چڑھایا جا سکے۔ فارسی مو¾رخین نے شروع میں ایک کامیاب حملے کو بعد میں سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کیا حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ اس لئے میں یہ بات واضح طور پر کہہ سکتی ہوں کہ محمود غزنوی کا سومنات کے مندر پر حملے کسی طور بھی سیاسی مقاصد نہیں تھے اور یہ کسی بھی لحاظ سے ہندو مسلم دشمنی کی بنیاد نہیں تھا البتہ چند ہندو گروہوں نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اپنے مقاصد اور مفادات پورے کرنے کی کوشش کی جو یقیناً درست نہیں۔(جاری ہے )

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...