سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 5

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 5
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 5

  


جامع الحکایات میں یہ حکایت ہے کہ منیشاپور میں جب الپتگین کے خدمت میں سبکتگین رہتا تھا تو اس کے پاس ایک گھوڑے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔وہ سارا دن جنگلوں میں پھرتا اور شکار کھیلتا۔ایک دن اس نے دیکھا کہ ہر نی اپنے بچے کے ساتھ چر رہی ہے۔ اُس نے گھوڑا دوڑاکے اُس بچہ کو پکڑ لیا اور خوش خوش لے کر چلا۔ ہرنی نے بھی گھوڑے کا پیچھا کیا اس نے جو مڑکر پیچھے دیکھا کہ ہرنی اپنے بچے کے چھوٹنے سے خوش خوش جنگل میں جاتی تھی اور امیر کو بھی مڑ مڑ کر دیکھتی جاتی تھی۔ اسی رات امیر کو رسولِ خدا کی زیارت ہوئی جنہوں نے یہ فرمایا کہ اے امیر ناصرالدین تونے ایک بیچارے بیکس بے بس پریشان حال جانور پر شفقت کی خدا نے تجھے دیا یہ مرحمت کی کہ اپنے دیوان میں منشورِ سلطنت تیرے نام لکھوایا۔ تجھے چاہیے کہ عام خلق کے ساتھ بھی یہی شیوہ جاری رکھے اور صفتِ شفقت کو کسی حال میں نہ چھوڑے۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 4 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس میں سعادتِ دارین ہے کہ اکثر تاریخوں میں یہ حکایت بھی لکھی ہے کہ امیر ناصرالدین سکتگین نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے گھر میں آتشدان سے ایک درخت ظاہر ہوا اور ایسا بڑھا کہ اُس کے سایہ میں ایک خلقِ خدا بیٹھ سکتی تھی۔ جب امیر جاگا اور خواب کی تعبیر سوچ رہا تھا کہ سلطان محمودعزنوی الاستدا اور مسعودالانتہا ہے۔ اس فرزند کا نام سلطان محمودغزنوی رکھا۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمودغزنوی کا طالع صاحب ملت الاسلام کا طاع کے ساتھ موافق تھا۔ ہمیشہ سے ایشیائی مورخ ان خوابوں فالوں‘طالعوں کو تاریخ کا ایک دلکش جزو سمجھتے ہیں مگر فرنگستانی ان کو بالکل تاریخی پایہءاعتبار سے ساقط جانتے ہیں۔(محمودغزنوی کی ہونہاری)

مثل مشہور ہے کہ’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘ سلطان محمودغزنوی پر یہ مثل صادق آتی تھی۔ وہ لڑکپن ہی نے ہونہار معلوم ہوتا تھا۔ نو عمری میں باپ کے ساتھ مہمات میں جاتا اور وہ آگے قدم بڑھاکر ہاتھ مارتا کہ پرانے تجربہ کار سپہ سالار دیکھتے ہی رہ جاتے۔ ایامِ طفلی میں یہ سبق اس نے خوب سیکھ لیا تھا کہ زابلستان یعنی کوہستان ملک جو غزنی کے گرد ہے اُس کے پہاڑی باشندوں سے ہندوو ں کے راجاو ں کے بڑے لشکروں کو بھگا ک دینا کوئی بات نہیں لڑکپن میں ایک باغِ دلکشا لگوایا۔ اس میں مکانِ روح افزا بنوایا۔ ایک دن وہاں بڑا جشن کیا اور پدر بزرگوار اور امراءنامدار کو بنایا۔ باپ نے باغ اور مکان دیکھ کر پسند فرمایا اور یہ ارشاد کیا کہ ایسے باغ اور مکان تو اور بھی امیر بنوا سکتے ہیں۔ تجھ کو وہ عمارت تعمیر کرنی چاہئے کہ جس کی برابری کوئی دوسرا نہ کر سکے سلطان محمودغزنوی نے پوچھا اے حضرت ایسی عمارت کونسی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ اہلِ علم و فضل کے دلوں کی تعمیر ہے۔ جو کوئی نہال احسان اُن کی زمین دل میں لگائے گا اُس کا ثمر ہمیشہ پائے گا۔ یہ نصیحت کی بات سلطان محمودغزنوی کو ہمیشہ یاد رہی۔

امیر سبکتگین کا جب انتقال ہوا تو محمود کی عمر تیس برس کی تھی۔ اور وہ اس وقت منیشاپور میں تھا۔ امیر اسمعیل اُس کا چھوٹا بھائی باپ کے پاس تھا۔ بعض مو¾رخ کہتے ہیں کہ اُس نے میدان خالی پاکر تاجِ شاہی سرپر رکھا۔ مگر بعض کا یہ قول ہے کہ باپ کی وصیّت کے موافق وہ قبتہ الاسلام بلخ میں تخت پر بیٹھا۔ لحاصل وہی بادشاہ ہوا اور خزانہءشاہی کا مالک ہوا۔ سپاہ کی دلجوئی اور امراءکی خاطر داری میں خزانوں کے منہ کھول دیئے۔ مقصد یہ تھا کہ سب کے دل میں اس کی جگہ ہو اور سلطان محمود غزنوی کی طرف سے اُن کا دل برگشتہ ہو۔ مگر اس دغا باز سپاہ اور امرائِ ناانصاف نے وہ دامن طمع دراز کیا کہ جس کا پر ہونا محال تھا۔ یہ سب حال جب سلطان محمودغزنوی کو منیشاپور میں معلوم ہوا تو اس نے بھائی کے پاس ایک تعزیت نامہ لکھ کر ابوالحسن جموی کے ہاتھ بھیجا‘جس کا مضمون یہ تھا کہ”امیر سبکتگین میرا تمہارا پشت پناہ اس دنیا سے رخصت ہوا مجھے اس دنیا میں کوئی چیز تجھ سے زیادہ عزیز نہیں ہے۔ اگر تیری عمر بڑی ہوتی اور تو زمانہ کا تجربہ کار ہوتا امور سلطنت کی وفائق سے اور ثباتِ ملک و دولت کی قواعد سے ماہر ہوتا تو میری عین آرزو ہوتی کہ تو تخت پر بیٹھے۔ باپ نے جو تجھ کو اپنا جانشین کیا وہ مصلحت تھی۔ اگر تخت خالی رہتا معلوم نہیں کیا فساد برپا ہوتا۔ تو پاس تھا۔ اس لئے تخت پر بٹھا دیا اب انصاف کی نظر سے تامل کر اور شریعتِ غرا کے بمو جب دولت اور ملک کو تقسیم کر دارالسلطنت میرے حوالہ کر بلخ خراسان کا ملک تیرے لئے صاف کئے دیتا ہوں۔“ مگر امیر اسمعیل نے بھائی کا یہ منصفانہ کلام نہ سنا۔ ناچار سلطان محمودغزنوی نے سوائے لڑائی کے کوئی چارہ نہ دیکھا۔

منیشاپور اور غزنی سے دونوں بھائی بارادہ  جنگ چلے۔ ہر چند بعض امیروں نے چاہا کہ اسمعٰیل بھائی کا کہنا مان جائے اور لڑائی نہ ہو۔ مگر یہ بات نہ بن پڑی دونوں بھائیوں میں ایک سخت لڑائی ہوئی تخت سلطان محمودغزنوی کے ہاتھ رہا‘غزنی فتح ہوگیا۔ اسمعٰیل گرفتار ہوا ایک دن سلطان محمودغزنوی نے بھائی سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ اگر تو مجھ کہ اگر تو محھ پر ظفر یاب ہوتا تو تُو میرا کیا حال کرتا! اُس نے جواب دیا کہ کسی قلعہ میں تجھے بند کرتا مگر تیرے لئے آرام و آسائش کا سارا اسباب مہیا کرتا۔ اُس وقت تو اس بات کو سلطان محمودغزنوی نے ٹال دیا مگر پھر اسمعٰیل کو جرجان کے قلعہ میں قید کیا لیکن اس کے لئے ہر قسم کے چین و آرام کا اسباب تیار کردیا‘ پھر اس کی ساری زندگی قید میں ہی بسر ہوئی۔

جاری  ہے  ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ 

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...