تحریک انصاف کے وعدے؟

تحریک انصاف کے وعدے؟
تحریک انصاف کے وعدے؟

  

پاکستان تحریک انصاف کی جب سے حکومت آئی ہے اُس وقت سے پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال کافی تشویشناک ہے۔ دن بدن روزمرہ کی چیزیں عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ بیروزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت بجائے مثبت اقدامات  کے اپوزیشن کو اور اپوزیشن حکومت کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا بھی کہنا ہے کہ وزراء کام کرنے کی بجائے کوہسار مارکیٹ میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ پھر بہتری کیسے آئے گی، جب وزرأ اپنے محکموں پر توجہ دینے کی بجائے ایک آدھا بیان اپوزیشن کے خلاف دیکر اپنا فرض پورا کردیتے ہوں۔عمران خان صاحب تب تک نیا پاکستان نہیں بنا سکتے جب تک اہل لوگوں کو اُن محکموں میں تعینات نہیں کریں گے۔عمران خان صاحب نے کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن کرپشن کم نہیں ہوئی، آج بھی اداروں میں مٹھی گرم کرکے تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔ تمام ادارے کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔عام آدمی پیسوں کے بغیر کوئی بھی کام سرکاری اداروں سے نہیں نکلواسکتا۔عمران خان صاحب جب تک قابل اور ایماندار آفیسرز تعینات نہیں کریں گے تب تک ان کا اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔

روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہو گااور ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرنا ہوں گی، جن سے لوگوں میں خوف پیدا ہو اور مہنگائی کنٹرول میں رہے۔مہنگائی کی وجہ سے لوگ دن بدن حکومت سے مایوس ہوتے جارہے ہیں یہ بات عمران خان صاحب اور اُن کی پارٹی کے لئے بڑی تشویش ناک ہے،کیونکہ عمران خان صاحب کی پارٹی کو غریب لوگوں نے صرف مہنگائی کے خاتمے اور کرپشن کے خلاف نعرے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا، اگر عمران خان صاحب نے اب بھی اقدامات نہ کئے تو صورتحال بے قابو ہوتی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان صاحب کو اب ایکشن لینا ہوگا جو نااہل وزراء محکموں پر بوجھ ہیں اُن کو فارغ کرکے نئے اور قابل وزراء تعینات کریں تاکہ اداروں میں بہتری آسکے۔ 

پاکستانی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف رپورٹ پبلک کی ہے جس میں حکومتی وزراء کے نام بھی پائے گئے ہیں۔جہانگیر ترین جیسی نامور شخصیت بھی اس میں ملوث ہے لیکن حکومت نے اِن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، حالانکہ موجودہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد جانبدرانہ فیصلے نہیں کرے گی لیکن جہانگیر ترین کا ملک سے باہر جانا جانبدرانہ فیصلے کی پیش گوئی کرتا ہے۔اِس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی پارٹی کے لئے قانون الگ ہے اور اپوزیشن کے لئے الگ۔ خواجہ سعد رفیق کیس کے متعلق عدالتی ریمارکس بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خان صاحب کی حکومت اور نیب مِلی بھگت سے اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور اُن کے بھائی صوبائی وزیر جوان ہاشم بخت بھی اس سکینڈل میں ملوث تھے وہ اب تک وزیر ہیں۔جس ملک میں ”امیر کے لئے قانون الگ اور غریب کے لئے الگ قانون ہو وہاں کبھی انصاف قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ معاشرہ کبھی ترقی کر سکتا ہے“۔ یہ الفاظ عمران خان کے تھے کیا اب وزیراعظم عمران خان اپنے کئے ہوئے وعدوں اور جلسوں میں کی ہوئی تقریروں سے منحرف ہو رہے ہیں؟

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی میں اضافہ روکنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی، فلاح و بہبود، استحکام اور خوشحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔امید کی جا سکتی ہے کہ جس طرح تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی بہترین حکمتِ عملی کی بدولت کورونا وبا پر چند ماہ میں قابو پایا، اسی طرح مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے گی تاکہ قوم سکھ کا سانس لے سکے۔

مزید :

رائے -کالم -