سگریٹ پینے والوں پر تحقیق کے بعد فرانسیسی تحقیق کاروں کا کورونا وائرس کے مریضوں کو ’تمباکو‘ دینے کا فیصلہ، انتہائی حیران کن خبر آگئی

سگریٹ پینے والوں پر تحقیق کے بعد فرانسیسی تحقیق کاروں کا کورونا وائرس کے ...
سگریٹ پینے والوں پر تحقیق کے بعد فرانسیسی تحقیق کاروں کا کورونا وائرس کے مریضوں کو ’تمباکو‘ دینے کا فیصلہ، انتہائی حیران کن خبر آگئی

  

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ابتداءمیں بتایا گیا کہ یہ سگریٹ نوش افراد کے لیے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے تاہم بعد ازاں مختلف ممالک سے جب مریضوں کے اعدادوشمار سامنے آئے تو حیران کن انکشاف ہوا کہ سگریٹ نوش افراد دوسروں کی نسبت کورونا وائرس سے بہت کم متاثر ہوئے اور ان کی حالت تشویشناک ہونے اور ہسپتال پہنچنے کی شرح بھی دوسروں کی نسبت آدھی سے زیادہ کم رہی۔ اس انکشاف کے بعد اب فرانس میں تحقیق کاروں نے تمباکو کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق فرانسیسی سائنسدان کورونا وائرس کے سینکڑوں مریضوں پر اس کے تجربات کریں گے۔ ان مریضوں کو نکوٹین پیچز (Nicotine patches)دیئے جائیں گے اور ان کی صحت پر ان کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے گا۔

مذکورہ تحقیقات کے بعد سائنسدانوں نے دو مفروضے وضع کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ممکنہ طور پر نکوٹین کورونا وائرس کو خلیوں کو متاثر کرنے سے روکتا ہے اور دوسرا یہ کہ یا پھر نکوٹین لوگوں کے مدافعتی نظام کو وائرس کے خلاف حد سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے سے روکتا ہے۔ ان تجربات میں حتمی طور پر معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ نکوٹین کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے کس صورت میں فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس ہی کے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے 65سال تک کی عمر کے جتنے مریضوں کی حالت تشویشناک ہوئی اور وہ ہسپتال تک پہنچے ان میں صرف 4.4فیصد سگریٹ پینے والے تھے، حالانکہ فرانس کی اس عمر کی کل آبادی میں سے 40فیصد لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے سگریٹ پینے والوں کے ہسپتال پہنچنے کی شرح سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کئی گنا کم بنتی ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -