شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 81

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 81
شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 81

  

مفسر اسلام و محقق ممتاز دینی سکالر علامہ مفتی انصر القادری نے عالمی مبلغ اسلام پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف نوشاہی قادری کی شخصیت کے ہر پہلوکا عمیق اور مدلل مطالعہ کیا ہے ۔ انہوں نے تصوف و معرفت کوقرآن و سنت کے حوالوں سے اپنی تصنیف احقا ق الحق والصواب میں نہایت جمعیت ومنطق سے سمجھایا ہے۔۔۔مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ عالمی مبلغ اسلام، شیخ المشائخ پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف نوشاہی قادری دامت برکاتہم العالیہ ایک کہنہ مشق شاعر، ادیب، نقاد اور مصنف ہیں۔ اردو، پنجابی، فارسی اور دیگر علاقائی زبانوں میں آپ کا کلام شعر کی صورت میں موجود ہے۔ مذکورہ زبانوں کے علاوہ آپ انگریزی، فارسی اور عربی پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔

کثرت مشاغل اور تبلیغی مصروفیات کی وجہ سے آپ کو تصنیف و تالیف کا موقع بہت کم ملتا ہے۔ اس لئے کہ آپ کا زیادہ وقت دین اسلام کی ترویج و اشاعت، مسلمانوں کی تنظیم و شیرازہ بندی، مساجد مدارس کے قیام، مسلمانوں کی فلاح و بہبود، مسلمانوں کے پیش آمدہ مسائل کے حل کرنے کے علاوہ مریدین کی تربیت میں گزرتا ہے۔

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 80  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

آپ کی تصانیف سے شرح ایساغوجی، پنجابی اکھاں، سفر نامہ حجاز، سوز نوشاہی، فریاد نوشاہی ، بارہ ماہ نوشاہی، زارستان نوشاہی، اسرار نوشاہی، ناقوس نوشاہی، فغان نوشاہی اور احوال و آثار حضرت پیر سیّد ابوالکمال برق نوشاہی زیور طبع سے آراستہ ہو کر مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔

آپ کے کلام کی مقبولیت

اہلسنت کے حلقوں میں آپ کا لکھا ہوا کلام اشعار کی صورت، رباعیات، قطعات، نعت، منقبت اور دیگر شعر کی اصناف میں بہت زیادہ پسند کیاجاتا ہے۔ اکثر مجالس میں آپ کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ خاص طور پر نوشاہی قادری حلقوں میں تو پوری پوری رات آپ کے کلام کی محافل سجتی ہیں اور لوگ اس میں بڑے شوق سے کثرت کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔

خصائص

آپ کی شخصیت سنت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ آپ نہایت حلیم الطبع، بردبار، معاملہ فہم، عجز و انکسار کے پیکر، شرافت و متانت کا مرقع، خاموشی، سنجیدہ مزاجی اور دور اندیشی میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور فیاضی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ پیکر لطف و عطاء ہیں اور مرکز مہر و وفا ہیں۔ شریعت کا ناز ہیں۔ طریقت کا فخر ہیں۔

عالمی مبلغ اسلام کی شخصیت قرآنی آیات کی روشنی میں

پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت کو اگر قرآنی آیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ کے اخلاق و عادات قرآنی آیات کی روشنی میں روانہ سفر ہیں۔ اس لئے کہ آپ درگزر کرنے والے، غصہ کے پینے والے، اعلانیہ اور پوشیدہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے، نیکی کا حکم دینے سے پہلے خود اس کا پیکر بن جانے والے قول و فعل میں یکساں، ظاہر و باطن میں ایک جیسے، نگاہیں نیچی رکھنے والے، آہستہ آہستہ قدم رکھنے والے، تکبر گھمنڈ اور غرور سے بچنے والے، جاہلوں سے دامن بچانے والے، لغو سے احتراز کرنے بیہودہ سے اجتناب کرنے والے، آہستہ اور پرُ وقارلہجے میں کلام کرنے والے، نبی اکرم ﷺ کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں۔ ہر معاملے کو انتہائی غور و فکر سے سمجھ کر نمٹانے والے، وعدے کے وفا کرنے والے حق دار کو اس کا حق پہنچانے والے ، برائی کو بھلائی سے دور کرنے والے ہیں۔

اللہ کے محبوب بندوں کے اوصاف

قرآن مجید میں ہے۔

ترجمہ: ’’وہ لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں غصہ کے پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔‘‘ (آل عمران 134)

عالمی مبلغ اسلام کی زندگی کا مشاہدہ کرنے والے جانتے ہیں کہ پیر صاحب کی زندگی اس قرآنی حکم کی راہنمائی میں بسر ہو رہی ہے۔

-1۔۔۔خوشی اور رنج ہر حال میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اس میں اپنے اور بیگانے کا امتیاز بھی نہیں برتتے۔

-2۔۔۔حوصلہ، بردباری، تحمل مزاجی اور حلیم الطبع ہونے کا یہ حال ہے کہ بڑی سے بڑی زیادتی پر بھی غصے پر مکمل کنٹرول رہتا ہے گویا کہ غصہ کو پی جانا ان کی عادت ثانیہ ہے۔

-3۔۔۔اور لوگوں سے ہمیشہ درگزر فرماتے ہیں بجائے اس کے کہ ناراضگی کا اظہار کریں، ضبط کرتے ہیں۔

پیر سیّد معروف حسین شاہ عارف نوشاہی دامت برکاتہم کی ذات میں اللہ کے محبوب بندوں کے اوصاف پائے جاتے ہیں۔

عبادالرحمٰن کے خصائل

قرآن مجید میں ایک مقام پر اس طرح ہے:

ترجمہ: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔ (الفرقان63)

اس آیۂ کریمہ میں اللہ کے بندوں کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں۔

-1زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ قدم رکھتے ہوئے بڑی نرمی ان میں ٹپکتی ہے۔

-2جاہلوں کے مخاطب کرنے پر سلام کرتے ہوئے کترا جاتے ہیں۔

عالمی مبلغ اسلام کی زندگی کھلی کتاب ہے اور ہر دیکھنے والا پکار اُٹھتا ہے کہ آپ میں رحمٰن کے بندوں کے یہ اوصاف بھی پائے جاتے ہیں۔

معاف کرنے کا وطیرہ

قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ان الفاظ کے ساتھ حکم دیا:

ترجمہ: اے محبوب معاف کرنے کا طریقہ اختیار کرو، بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔ (الاعراف 199)

مندرجہ بالا تین باتوں کا جو حکم اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو فرمایا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں عالمی مبلغ اسلام نے بھی آقائے کونین ﷺ کا اُمتی ہونے کے اعتبار سے اپنانے کی بھرپور سعی کی ہے۔ کیونکہ جب ہم ان کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ باتیں ان میں موجود ہیں۔

-1۔۔۔درگزر کرنے والے ہیں۔ معاف کرنے کے طریقہ اور وطیرے کو اپنانے والے ہیں۔

-2۔۔۔نیکی کا حکم دینے والے ہیں اور نیکی کا حکم دینے میں حالات کے سازگار ہونے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ حالات کو خودساز گار بنا لیتے ہیں۔

-3۔۔۔اور جاہلوں سے احتراز کرتے ہیں۔ اپنا دامن الجھنے نہیں دیتے بلکہ بڑی چابکدستی سے اپنا دامن بچا کے چل دیتے ہیں۔

اوصاف مومنانہ

قرآن مجید میں اہلِ ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں۔وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

ترجمہ: (اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔(المومنون 3تا 5)

مذکورہ آیات میں جو مومنانہ شان بیان کی گئی ہیں۔ وہ اہل ایمان کی شان ہے اور ان میں پائی جانی چاہئے۔ عالمی مبلغ اسلام حضرت پیر صاحب کی زندگی ان مؤمنانہ صفات سے عبارت ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ فرمان ایک مومن پہ کیسا سجتا ہے۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں

اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہے، جو اللہ کی طرف لائے۔قرآن مجید میں ایک مقام پر مبلغین اسلام کی تعریف اس انداز میں فرمائی گئی ہے:

ترجمہ: ’’اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں اور نیکی اور بدی برابر نہ ہو جائیں گے۔ اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اِس میں دشمنی تھی ۔ایسا ہو جائے گا کہ گہرا دوست ہے۔‘‘ (حم السجدۃ33تا35)

مذکورہ آیات میں مبلغین اسلام کو خصوصاً اور عامۃ المسلمین کو عموماً جن باتوں کی طرف راغب کیا گیا ہے وہ یہ ہیں۔

-1اللہ کی طرف بلانے والوں کی بات سب سے اچھی ہے۔

-2اور وہ نیک اعمال کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔

-3 زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔

-4نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔

-5برائی کو بھلائی سے ٹالو۔

-6وہ کہ تیرے اور اس کے درمیان دشمنی ہے تو وہ تیرا گہرا دوست ہو جائے گا۔

ان احکامات و اوصاف کی روشنی میں عالمی مبلغ اسلام حضرت پیر صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات مکمل طور پر واضح ہوتی ہے کہ آپ کی زندگی اس قرآنی حکم کی راہنمائی میں گزر رہی ہے۔

مؤمن کے قول و فعل میں تضاد نہیں

اہل ایمان کو اس بات سے سختی سے روکا گیا ہے کہ وہ ایسی بات نہ کریں جس پر خود عمل پیرا نہیں اور فرمایا کہ یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے۔

ترجمہ: اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔(الصف 2تا3)(جاری ہے)

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 82پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ