مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 7

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 7
مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 7

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لیجئے یہ تو کمال ہی ہوگیا ہے ۔ہم تو اس بات کا بڑے فخر سے ذکر کئے جارہے ہیں کہ محمد رفیع کو مہان گلوکار بنانے میں بہت سے معروف موسیقاروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تھا اور انہیں لاہور سے بمبئی پہنچانے میں ماسٹر فیروز نظامی کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔شاید ہم اسی رو میں لکھتے چلے جاتے اور آخر میں مورخ محمد رفیع کی عظمتوں کو قلم بند کرنے بیٹھتا تو ماسٹر فیروز نظامی کو بھی سراہتا ۔اس میں توکوئی شبہ نہیں کہ ماسٹر فیروز نظامی موسیقی کی دنیا میں بڑا نام تھے لیکن ان کو یہ کریڈٹ ہر گز نہیں جاتا کہ محمد رفیع کو انہوں نے بمبئی کی راہ دکھائی تھی ۔

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گزشتہ قسط شائع ہونے کے بعد ہمیں دوبئی سے خالد نامی ایک صاحب کا فون آیا ’’ صاحب آپ بھلا کام کررہے ہیں لیکن آپ نے ماسٹر فیروز نظامی کو محمد رفیع کا راہبر ثابت کردیا ہے ‘‘ 

’’ ارے جناب کیا بات کرتے ہیں ۔ماسٹر صاحب تو بڑی باکمال شخصیت تھے ۔آخر انہوں نے رفیع صاحب پر بڑا احسان ہی تو کیا تھا ‘‘ہم نے جواب میں کہا تو بولے 

’’ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ کس کمال اور پائے کے موسیقار تھے ،البتہ میں یہ جانکاری رکھتا ہوں کہ رفیع صاحب پر ان کا اتنا زیادہ احسان نہیں جتنا آپ نے بیان کردکھایا ہے ‘‘ 

’’ کچھ روشنی آپ ہی ڈال دیجئے صاحب ‘‘ ہم نے کہا ’’آپ کیا جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے ‘‘

’’ ماسٹر جی نے محمد رفیع صاحب کو موسیقی کے بارے کافی گائیڈ کیا تھا لیکن وہ محمد رفیع سے بیر رکھتے تھے ‘‘

’’چھوڑئے جناب کوئی محمد رفیع سے کیا بیر رکھے گا ۔وہ تو بڑے درویش تھے ‘‘ ہم نے کہا 

’’ آپ کو یقین نہیں ہوگا ،کسی دن انکے بھائی صدیق رفیع سے پوچھ لیجئے گا ۔آپ کے لاہور میں ہی رہتے ہیں ‘‘

ہم نے چونک کر حیرت سے پوچھا ’’ کیا واقعی محمد رفیع کے بھائی لاہور میں موجود ہیں ؟‘‘

’’ جی بالکل ،وہ بلال گنج کے اسی مکان میں رہ رہے تھے جہاں کبھی رفیع صاحب نے بچپن گزارا۔آپ ذرا کوشش کرکے انہیں ڈھونڈ نکالیں ۔صدیق رفیع بیس تیس برس دوبئی میں رہ کر گئے ہیں ۔ذرا ان سے تاریخ درست کرالیجئے ۔عام طور پر جو لوگ محمد رفیع صاحب کے بارے کہانیاں بیان کرتے پھرتے اور ان کا کریڈٹ لیتے ہیں کبھی یہی لوگ ان کی جان کے دشمن تھے ۔یقین نہ آئے تو انکے سگے بھائی سے پوچھ لیجئے ‘‘

دوبئی والے خالد صاحب کون تھے ،کیا تھے ۔یہ تومعلوم نہیں لیکن وہ ہمارے لئے فرشتہ ہی ثابت ہوئے ۔کون کافر جانتا تھا کہ ان کے سگے بھائی ادھر لاہور میں رہتے ہیں۔بے خبری کا یہ عالم ۔آج کے تیز دھواں دھارمیڈیا میں کوئی زیادہ دیر تک چھپا کہاں رہ سکتا ہے لیکن محمد رفیع کے ایک بھائی تو کیا انکے دوسرے بھائیوں کی اولاد بھی لاہور کے بلال گنج میں ابھی تک موجود ہوگی ،یہ حیرت کا عالم تھا اور بے خبری کی انتہا ۔

ہم نے اپنے تعلق داری کے ہرکارے دوڑا دئے ،کئی موسیقاروں ،طبلہ نوازوں،گلوکاروں حتیٰ کہ محمد رفیع کے نام کی برکت سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکارانور رفیع سے بھی پچھوایا ،جواب ملا ’’ سنا تھا کہ کہیں رہتے ہیں ،نہ جانے اب کہاں ہیں وہ‘‘ موسیقار طبلہ نواز طافو کے بیٹے گٹارسٹ سجادطافو سے رابطہ کیا کہ وہ تلاش میں مدد دیں لیکن ان کے پاس بھی کوئی امید بھری خبر نہ تھی۔یہ تو حال ہے اس قبیلے کا ۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ صرف ہم ہی بے خبر ہیں لیکن ادھر تو موسیقی سے وابستہ گھرانے بھی محمد رفیع کے بھائی اور انکے آبائی گھر سے لاعلم تھے۔ٹامک ٹوئیاں سب نے ماریں ۔اشہب خیال سب نے دوڑائے لیکن تھک ہار کر جواب دے دیا ۔اب کیا کریں ،کہاں تلاش کریں ۔پھر اچانک خیال آیا کہ کیوں ناں بلال گنج کے کونسلروں سے رابطہ کیا جائے ۔پرانے لوگوں کا حافظہ اتنا بھی خراب نہیں ہوگا ،کوئی نہ کوئی تو اس بارے مدد کرہی دے گا ۔

پس ہم نے کونسلروں سے رابطے شروع کرنے کا ارادہ کیا اور ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ان کونسلروں کے فون نمبر کہاں سے حاصل کریں ،نہ جانے بلال گنج کے اس علاقے کا کونسلر کون ہوگا جو ہماری مراد پوری کردے گا ۔اسی شش وپنج میں تھے کہ روزنامہ پاکستان کی متحرک لیڈی رپورٹر دیبا ہمارے پاس دفتر آئیں اور انہوں نے جب بتایا کہ ٹاون ہالز اور یونین کونسلیں انکی ذمہ داری میں ہیں تو ہم اچانک خوشی سے اچھل پڑے اور فٹ سے اپنا مدعا بیان کردیا کہ وہ ہمیں بلال گنج کے ناظم ،چئیرمین یا کسی کونسلر کا فون نمبر دیں ۔یہ سنتے ہی انہوں نے پرس میں ہاتھ ڈالا ،کاغذ وں کا پلندہ نکالا اورانکی ورق گردانی شروع کردی ۔’’اگر آپ بتادیں کہ بلال گنج کی یونین کونسل کا نمبر کیا ہے تو مجھے چئیرمین یونین کونسل کا نمبر تلاش کرنے میںآسانی ہوجائے گی ‘‘ لمبی فہرستوں پر نظر ڈالتے ہوئے انہوں نے پوچھا اورپھر ساتھ ہی انہیں ایک خیال آیا اور انہوں نے جھٹ سے فون نمبر نکالا اور بولیں ’’ بھاٹی یونین کونسل کے چئیرمین سے پوچھتی ہوں ‘‘ انہوں نے چئیرمین سے بات کرکے مجھے فون تھما دیا تو میں نے انہیں محمد رفیع کے بھائی کو تلاش کرنے کے لئے استدعا کی تو بولے’’ سمجھیں آپ کا کام ہوگیا ۔بس دس منٹ دیں،آپ کو ان کا فون نمبر بھی دیتا ہوں ‘‘ یہ سنتے ہی ہمارے دل کو تسلی ہوگئی کیونکہ لگتا تھا وہ انہیں جانتے ہیں ۔واقعی دس تو نہیں البتہ آدھے گھنٹے بعد انہوں نے صدیق رفیع صاحب کا فون نمبر اور گھر کا پتہ بھی بتادیا ۔

تلاش کا یہ مرحلہ تو طے ہوگیا ،اب ملاقات کے لئے رابطہ کرنا تھا ۔محمد صدیق رفیع کو جب فون کیا تو انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا ۔کئی دن یہی سلسلہ چلتا رہا ،آخر ایک دن سنی گئی۔دوسری جانب سے بزرگانہ آواز سن کر انہیں سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا تو بولے’’ میں تو بیمار ہوں ،ملنا مشکل ہوگا ،آپ تین دن بعد رابطہ کرلیں ‘‘ تین دن بعد فون کیا تو فون بند ،پھر دوسرے دن کال کی تو فون نہیں اٹھایا گیا ۔اور یہ سلسلہ ہفتہ بھر جاری رہا ۔اب جبکہ یہ یقین ہوگیا تھا کہ محمد رفیع کے بھائی حیات ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں تو ان سے ملنا واجب ہوگیا تھا ۔اسکے بغیر داستان رفیع بیان کرنا گناہ ہوتا ۔

اس دن دوپہر بڑی گرم اور حبس سے بھری تھی ۔ہم نے گاڑی آفس چھوڑی اور اس خیال سے رکشہ کرالیا کہ بلال گنج کی تنگ اوررش والی گلیوں میں گاڑی کی بجائے رکشہ پر جانا ہی بہتر ہوگا ۔ہمارا فیصلہ درست ثابت ہوا۔الامان الحفیظ ۔اس قدر ڈھیٹ رش ۔خیر جیسے تیسے کرکے انکا گھر تلاش کیااور انکے گھر پر دستک دی تو دروازہ ایک بزرگ نے کھولا ۔انہوں نے واکر نما ویل چئیر کا سہارا لے رکھا تھا ۔پرانی بنیان اور لاچہ پہنا تھا ۔چہرہ شفاف اور محمد رفیع کی طرح چمکتا ہوا عکس دیکھ کر یقین ہوگیا کہ یہی محمد صدیق رفیع صاحب ہوسکتے ہیں۔

’’ اسلام علیکم ‘‘ ہم نے سلام کے بعد تعارف کرایا تو بڑی آہستہ سے کچھ بولے تو ہم نے کان پاس لے جاکر ان کی بات سنی۔

باہر گلی میں گاڑیوں کا شور تھا ۔وہ خود اونچا بولنے سے قاصر تھے۔وہ اندر ہم باہر ۔سمجھ لیجئے کہ وہ ہم سے ملاقات کے موڈ میں نہیں تھے ۔ہمیں تو شدید دھچکا لگا کہ محمد رفیع جیسے مرنجان مرنج فقیر کا بھائی ہمیں دروازے سے ہی ٹال رہا ہے ۔ہم گرمی سے ہانپ رہے تھے ۔شکر تھا کہ ہم نے راستے سے منرل واٹر کی بوتل لے لی تھی ۔اوپر سے ان کا روکھا پن ۔ہم نے پانی کا گھونٹ لیا اور صحافیانہ چستی کے ساتھ انکو باتوں میں الجھا کر یوں احساس دلایا کہ جیسے ہم ان کے برسوں کے شناسا ہیں۔کیونکہ یہ بات دل میں بیٹھ گئی تھی کہ اگر آج واپس چلے گئے تو شاید پھر کبھی ان سے ملاقات مشکل ہوجائے اور یہ موقع ہاتھ سے کھودینا کسی نالائقی سے کم نہ ہوتا۔

دراصل وہ میڈیا سے ملنے سے انکاری تھے ۔انہیں میڈیا والوں نے کئی بار ڈاج کرایا تھا ۔ خیر یہ قصہ یہاں بیان کرنا مناسب نہیں کہ انہیں میڈیا والوں سے کس نوعیت کی شکایات تھیں ۔جب ہم نے دیکھا کہ وہ کچھ مائل بہ گفتگو ہیں لیکن کسی صحافی کو انٹرویو ہر گز نہیں دیں گے ،ہم انکی دلسوزی کرتے ہوئے مداح کی طرح انکے پاس ایک ٹوٹے سٹول پر بیٹھ گئے اور دھیرے دھیرے سے ان کے ساتھ دروازے میں ہی بیٹھ کر باتیں شروع کردیں۔

محمد صدیق صاحب کی عمر نوّے کے قریب ہوگی ۔محمد رفیع صاحب سے چارسال چھوٹے ہیں ۔یادداشت کافی بہتر ہے ،نظر بھی تیز ہے ۔باہمت دکھائی دے رہے تھے ۔آنکھوں میں مشفقانہ تبسم اور چمک بھی ہے۔ البتہ بات کرتے کرتے وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کیا بات کررہے ہوتے ہیں لیکن جب یاد کرایا جاتاہے توپھر سے پورے حوالہ کے ساتھ باتیں شروع کردیتے ہیں ۔یونہی محمد رفیع کے آبائی گھر کی چوکھٹ پر ایک گھنٹہ بیٹھ کر ایسی نئی باتیں سننے کا موقع ملا جو رفیع کے پرستاروں کے لئے بالکل نئی ہیں ۔مثلاً سب سے حیران کن بات تو یہ تھی کہ محمد رفیع کو کبھی کسی نے پھیکو یا فیکو نہیں کہا تھا ۔ہے ناں عجیب بات ۔اب تک بے شماراردو انگریزی اور ہندی کے رائٹرز نے محمد رفیع کے بارے میں لکھا ہے کہ بچپن میں گھر والے اور دوست احباب انہیں پھیکو کے نام سے پکارتے تھے ۔لیجئے جب پہلی بات ہی جھوٹ نکلی تو محمد رفیع کے بارے باقی قیاس آرائیوں یا واقعات کی حقیقت میں کہاں تک صداقت ہوسکتی تھی ۔۔۔اور واقعی بات بھی ایسی ہے۔محمد رفیع کے سگے اور ان سے چھوٹے بھائی صدیق نے اپنے بھائی پر کی جانے اب تک کی تحقیقات میں سے بہت سی باتوں کو مفروضہ قراردیا ہے۔گویا ان پر لکھی گئی تاریخ کو ازسر نو لکھ کر درست کرنا ہوگا ۔ (جاری ہے ) 

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /مقدر کا سکندر