”میری 4 ہزار کی برتری تھی لیکن چند گھنٹوں بعد اچانک پی ٹی آئی۔۔۔“ خیبرپختونخواہ میں تین روز سے دھاندلی کیخلاف احتجاج جاری، پی ٹی آئی پر ایسا الزام لگا دیا گیا کہ عمران خان پریشان ہو جائیں گے

”میری 4 ہزار کی برتری تھی لیکن چند گھنٹوں بعد اچانک پی ٹی آئی۔۔۔“ ...
”میری 4 ہزار کی برتری تھی لیکن چند گھنٹوں بعد اچانک پی ٹی آئی۔۔۔“ خیبرپختونخواہ میں تین روز سے دھاندلی کیخلاف احتجاج جاری، پی ٹی آئی پر ایسا الزام لگا دیا گیا کہ عمران خان پریشان ہو جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بٹگرام (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے ضلع بٹ گرام میں صوبائی اسمبلی کے حلقے میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہفتے کو مسلسل تیسرے روز بھی احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔ پاکستان راہ حق پارٹی کے کارکنوں اور دیگر مظاہرین کی جانب سے الیکشن کے دن سے شروع کئے گئے احتجاج کے باعث کچہری چوک پر مرکزی شاہراہ قراقرم بند ہے۔

مظاہرین اور پاکستان راہ حق پارٹی کے کارکنان انتظامیہ کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 29 پولنگ سٹیشنزمیں ہونے والی دھاندلی اور نتائج میں ردوبدل کو قبول نہیں کریں گے۔

انتخابات کو ”آر او سلیکشن“ سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج اور دھرنا مطالبات کے پورے ہونے تک جاری رہے گا اور وہ انصاف کے حصول کیلئے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے۔پاکستان راہ حق پارٹی کے امیدوار عطاءمحمد بھی مظاہرین میں شامل ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں حلقے کے 149 پولنگ سٹیشنز میں سے 128 کے ابتدائی نتائج میں 4 ہزار کی برتری حاصل تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے 2 گھنٹے بعد نتائج کو روک دیا گیا جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار کو کامیاب قرار دیا گیا۔کے پی اسمبلی کے حلقہ پی کے 29 میں مجموعی طور پر 56 ہزار 485 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے عطاءمحمد کو 17 ہزار 142 ووٹ پڑے اور پی ٹی آئی کے تاج محمد کو 20 ہزار 177 ووٹ ملے جبکہ حلقے میں 2 ہزار 201 (3 اعشاریہ 9 فیصد) ووٹ منسوخ ہوئے۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ویڈیو کی شکل میں ہیں جبکہ الیکشن کا عملہ ان کے فون چھیننے کی کوشش کررہا ہے لیکن وہ ناکام ہوا۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) کی جانب سے پولنگ سٹیشنز میں موبائل فون لے کر جانے کی سختی سے ممانعت کی گئی تھی۔

عطاءمحمد کا کہنا تھا کہ میں نے جمعرات کو ہی دوبارہ گنتی کیلئے درخواست کی تھی اور مثبت جواب دیا گیا تھا جس پر احتجاج ملتوی کیا گیا لیکن بعد میں ریٹرننگ افسر نے اسی درخواست کو مسترد کردیا۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 12 سے امیدوار سعید احمد ملکا نے دعویٰ کیا کہ تین پولنگ سٹیشنز کھٹونا، بنارا اور دیدال میں خواتین نے ووٹ نہیں ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ حلقے کے حتمی نتائج میں ان تینوں حلقوں کی خواتین کے ووٹوں کو بھی شامل کیا گیا۔

مزید : قومی /الیکشن /علاقائی /خیبرپختون خواہ /بٹگرام