کیا جنات واقعی بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں ؟یہ واقعہ پڑھ کر آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی کیونکہ ۔۔۔

کیا جنات واقعی بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں ؟یہ واقعہ پڑھ کر آپ کی عقل دنگ رہ جائے ...
کیا جنات واقعی بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں ؟یہ واقعہ پڑھ کر آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی کیونکہ ۔۔۔

  

(پیر ابو نعمان رضوی)

ان دنوں میڈیا میں کراچی کی ایک عورت کا قصہ خوب اچھلا ہے کہ اس نے شور مچایاکہ جنات اسکی بیٹی کو لے گئے ہیں ،حقیقت کھلی تو یہ واقعہ سامنے آیا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی جبکہ وہ بچی خود اس نے کسی کو دی تھی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنات کا کسی انسان کے اغوا میں ہاتھ ہوسکتا ہے ؟ یا محض ہم انہیں بدنام کرنے اور اپنا جرم چھپانے کے لئے اس مخلوق کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔اس پر بات کرنے سے پہلے میں آپ کو مخلوق جنات پر لکھی جانے والی علامہ قاضی بدرالدین شیلی حنفی محدث کی کتاب میں سے ایک واقعہ نقل کرکے ایسے واقعات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں ۔

علامہ قاضی نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی لیلٰی فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کا ایک شخص عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے گیا اور گم ہوگیا۔ اس کی بیوی عمر ابن خطابؓ کے پاس آئی اور اس کے گم ہونے کے بارے میں اطلاع دی۔ آپؓ نے اس کے خاندان والوں سے تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ واقعتاً گم ہوگیا ہے۔ آپؓ نے اس کو حکم فرمایا کہ چار سال تک انتظار کرو ۔وہ چلی گئی اور چار سال کے بعد پھر آئی اورکہا کہ ابھی تک میرا شوہرنہیں آیا۔ آپؓ نے اسکو جواب دیا کہ اب تو دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ اس نے دوسرا نکاح کرلیا۔ اس کے بعد اسکا پہلا شوہر آگیا ۔وہ پھر حضرت عمر ابن خطابؓ کے پاس اپنا مقدمہ لے گیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم عجیب ہو، ایک طویل زمانے تک غائب رہے ہو اور گھر والوں کوموت و حیات کاکچھ علم نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ حضرت میرا غائب رہنا مجبوری کی وجہ سے تھا۔ آپؓ نے دریافت فرمایا کہ مجبوری کیا تھی۔ اس نے کہا کہ میں عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے گیا تھا اور مجھ کو جنات اٹھا کر لے گئے تھے۔ ایک عرصے تک میں ان کے پاس رہا ۔پھر ان میں اور مومن جنات میں جنگ ہوئی اور مومن جنات ان پرغالب آگئے اور ان میں سے کچھ جنات قید کرلئے گئے ۔قید ہونے والوں میں سے میں بھی تھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تیرا دین کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ انہوں نے سن کرکہا کہ تیرا قید کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے تو آزاد ہے۔ تیری مرضی ہے چاہے تو یہیں رہ اور چاہے چلا جا۔ میں نے کہاکہ میں تو جاناچاہتا ہوں۔ پس وہ مجھ کو لے کرچل دئیے۔ رات کو انسانی شکل میں مجھ سے باتیں کرتے چلتے تھے اور دن میں بگولہ بن جاتے تھے اور میں ان کے پیچھے پیچھے رہا کرتا تھا۔

آپؓ نے اس سے دریافت کیا کہ تو کیا کھایا کرتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جس ہڈی پر خدا کا نام لیا جاتا ہے وہ مومن جنات کا کھانا ہے اور جس پر خدا کا نام نہیں لیا جاتا۔ وہ کافر جنات کا کھانا ہے۔ یہ اس وقت کی حالت ہے جب وہ کافر جنات کے قبضے میں تھا۔ آپؓ نے اس سے معلوم کیا کہ اور کیا پیا کرتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ غیر مسکر شراب۔

حضرت عمرؓ ابن خطابؓ نے فرمایا کہ تجھ کو اختیار ہے چاہے اس عورت کو لے لے اور چاہے اسکا مہر رکھ لے۔ حضرت عمرؓ ابن خطابؓ کے زمانے کا ایک اور واقعہ اسی جیسا مذکور ہے۔ اس میں بھی آپ نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔

مذکورہ واقعہ جو اسلامی کتب میں نقل کیا گیا ہے ،ایسے کئی اور واقعات بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق جنات انسانوں کو اٹھاسکتی ہے ۔اس حوالہ سے ایک تازہ ترین کتاب ’’ اولیا اللہ کی بستی کا آفتاب ‘‘ شائع ہے جس کے محقق شاہد نذیر چودھری ہیں۔یہ کتاب پاکستان کے ممتاز قانون دان اور سینیٹر جناب ایس ایم ظفر کے والد گرامی جناب حضرت کشفی شاہ نظامیؒ کی خدمات و مشاہدات پر شائع کی گئی ہے جس میں حضرت کشفی شاہ نظامیؒ کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جنات انہیں اپنی دنیا میں لے جانے کے لئے آئے تھے لیکن حضرت کشفی شاہ نظامی ؒ نے انہیں کہا کہ ابھی ان کے بچے چھوٹے ہیں اس لئے وہ ان کے ساتھ نہیں جاسکتے ۔اسیطرح خود میرے مرشد گرامی قبلہ حضرت پیر محمد عابد رضوی سیفیؒ کو بھی جنات اپنے ساتھ لے جاتے رہے ہیں ،آپ کے یہ بیانات کئی جگہ شائع بھی ہوئے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ جنات اور انسانوں کے باہمی تعلقات میں یہ بات کوئی حیرانی کا باعث نہیں کہ جسطرح جنات انسانوں کے پاس آتے ہیں تو انسان بھی جنات کی بستیوں میں چلے جاتے ہیں اور انہیں بھی اغوا کیا جاسکتا ہے لیکن ہر واقعہ صداقت پر مبنی بھی نہیں ہوسکتا ۔جس بندے کو جنات نے اغوا کیا ہو،اس کا علم کسی بھی برگزیدہ اور کامل انسان کو بذریعہ علم روحانی ہوجاتا ہے کیونکہ ایسے انسان کی باقیات سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔تاہم جو لوگ اپنے جرائم چھپا کر جنات پر ڈال دیتے ہیں ،ان کا پردہ بھی چاک ہوجاتا ہے اور وہ اسکی سزا بھی پاتے ہیں۔البتہ کئی ایسے مردو خواتین بھی نظروں سے گزرے ہیں جو جادواور جنات کے اثرات کی وجہ سے ایسے جرائم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں،ان کی عقل ماوف ہوچکی ہوتی ہے اور جنات وغیرہ انہیں کوئی نہ کوئی جرم کرنے پر مجبور بھی کردیتے ہیں۔البتہ ایسا ہوتو اسکی مکمل تحقیقات کا ہونا بھی ضروری ہے ۔

مزید : مافوق الفطرت