آفتابِ شریعت و طریقت کا مولانا عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ

آفتابِ شریعت و طریقت کا مولانا عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ

  

گذشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کے اولیاء میں سے ایک ولی حضرت اقدس مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمہ اللہ عازم اقلیم ابد ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ رحمہ اللہ کی جدائی پر ہر چشم اشک بار، ہر قلب بے قرار، ہر محب مضطر اور ہر مسترشد غمگین و حزین ہے۔ لاکھوں بندگانِ خدا کی زندگیوں کو بدلنے والے بندۂ خدا کی داستانِ حیات کا ایک ایک ورق ایسا ہے کہ جس میں علم و معرفت کا درس ملتا ہے اور شعور و آگہی کی راہیں متعین ہوتی ہیں۔حضرت رحمہ اللہ کے تذکرہ خیر کو شروع کرنے سے پہلے بطور تمہید یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عِلم کاعلَم اس وقت نہیں لہراتا جب تک اس میں موجود عمل کے دستے کو نہ تھاما جائے اور عمل کی بنیاد اخلاص پر ہے۔ علم کی درسگاہ میں جب تک خانقاہ کی خوشبوئیں نہ مہکائی جائیں اس وقت تک طالبین میں علم کی تاثیر سرایت نہیں کرپاتی۔

حضرت ہزاروی رحمہ اللہ کی زندگی میں انقلاب کی شمع اس وقت روشن ہوئی جب آپ نے برکۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کی مجلس میں زانوئے سلوک طے کیے۔ آپ رحمہ اللہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کو برملا بیان فرماتے کہ علم کا افادہ اور استفادہ اس وقت تک مفید نہیں جب تک انسان کسی صحیح العقیدہ متبع سنت شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دے پھر نمناک اور دل گیر ہو کر اپنے مرشد و مربی شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کا تذکرہ خیر فرماتے رہتے۔

یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ نفس سے نفسانیت، علم سے تعلی اور عمل سے خودبینی جنم لیتی ہے اور یہی وہ خطرناک روحانی بیماریاں ہیں جو بڑے سے بڑے صاحبِ علم وتقویٰ کو بارگاہِ ایزدی میں راندۂ درگاہ بنادیتی ہیں۔آپ رحمہ اللہ نے زمانہ شباب میں اس زہر کا تریاق اپنے مرشد سے حاصل کیا، آپ ان روحانی بیماریوں سے خود بھی محفوظ رہے اور دوسروں کو بھی ان سے بچانے کی فکر و کوشش میں لگے رہے۔

یہ نعمتیں صحبتِ شیخ کی بدولت میسر آتی ہیں، آپ رحمہ اللہ اپنے شیخ کی طویل عرصہ تک کی خدمت میں لگے رہے، اسی بے لوث خدمت اور اعتقادی صحبت کا نتیجہ”ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد“ کی صورت میں رونما ہوا اور آپ ”مخدوم الصلحاء“کے مقام تک جا پہنچے”صحبتِ شیخ“ کی برکت سے آپ کی زندگی میں ایک جامعیت پیدا ہوئی اور آپ ”ہمہ جہت شخصیت“ کے طور پر سامنے آئے۔

آپ جامعہ دارالعلوم زکریاترنول اسلام آباد کے آخرِ عمر تک مہتمم رہے جامعہ کی ظاہری و باطنی تعمیرو ترقی آپ کے حسن اہتمام کی کھلی دلیل ہے۔آپ نے کچھ عرصہ تک تدریس کے فرائض بھی انجام دیے، عام فہم انداز میں کتاب کے مضامین کا حل آپ کے حلقہ درس کی نمایاں خصوصیت تھی۔

آپ رحمہ اللہ میدان تصوف و سلوک کے روح رواں تھے، سفر و حضر کی بے پناہ مشاغل و مصروفیات کے باوجود بھی معمولات ] تہجد، تلاوت، ذکر اللہ، اشراق، چاشت، اوابین، قیام اللیل اور درود پاک کی کثرت[ میں فرق نہ آنے دیتے اور الحمدللہ آج بھی مجالس ذکراللہ اور درود پاک کی کثرت حضرت رحمہ اللہ کے سلسلے اور خانقاہ کامبارک معمول ہے۔ملک و بیرون ملک میں ہزاروں سالکین و مریدین آپ کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں،سینکڑوں خلفاء و مجازین آپ کے روحانی و باطنی فیض کو عام کر رہے ہیں۔ الحمدللہ!حضرت رحمہ اللہ نے مجھ پر بے حد اعتماد، شفقت اور محبت فرماتے ہوئے اپنے سلسلہ کی خلافت عطا فرمائی جسے میں اپنی صلاحیت کے بجائے ان کے ”حُسن ظن“ سے منسوب کرتاہوں۔

آپ رحمہ اللہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے انتہائی فعال رکن رہے، آپ کی مدبرانہ کاوشوں اور مشوروں کے بدولت وفاق المدارس نے مختصر عرصہ میں ترقی کی کئی منازل طے کیں اور آئندہ بھی آپ کے فیصلوں سے رہنمائی لی جاتی رہے گی۔

آپ رحمہ اللہ کی سیاسی وابستگی جمعیت علماء اسلام سے رہی جماعتی طور پر آپ اسلام آباد میں جمعیت کے سرپرست کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور ہر فورم پر اس جماعت کی توانا اور مؤثر آواز بنے رہے۔

وطن عزیز میں جب کبھی عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسالت وصحابہ و اہل بیت، ائمہ مجتہدین اور اسلام کی مقتدر شخصیات کے حوالے سے بات آئی تو آپ کی جرأت مندانہ للکار نے حالات کا رخ صحیح سمت موڑا۔ آپ کے وعظ وبیان میں تکلف، تصنع اور بناوٹ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی بلکہ اخلاص، تواضع اور درددل دکھائی دیتا تھا۔ محبت خداوندی اور عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی ذات میں دیوانگی کے طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔المختصر! دین اسلام کے متعدد محاذوں پرحضرت رحمہ اللہ کا کردار قائدانہ رہا ہے۔آپ نے عوام و خواص کی شرعی واخلاقی اور سماجی رہنمائی جیسے اہم دینی و قومی فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے۔

آپ رحمہ اللہ نے ساری زندگی شریعت و طریقت کے تلازم کے ساتھ بسر کی نہ تو نِرے عالم کہ جو سلوک واحسان، تزکیہ و تصفیہ، تصوف و طریقت اور معرفت و ایقان سے بے خبر ہو اور نہ ہی نِرے صوفی کہ علم و آگہی سے غافل بلکہ آپ شریعت و طریقت کا آفتابِ جہاں تاب بن کر روشنیاں بکھیرتے رہے، آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لائق تحسین اور ہم جیسوں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔

واقفانِ حال بتلاتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ نے آخری وقت سنت کے موافق مسواک کیا،اپنے قریبی احباب کو چند نصیحتیں اور وصیتیں فرمائیں اور ذکراللہ میں مسلسل مصروف رہے اور اسی حال میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ یوں میخانہِ شریعت و طریقت کا یہ ساقی بالآخر یکم ذی القعدہ 1441ھ بمطابق 23 جون 2020ء بروز منگل بوقت اشراق منزل مقصود پا کر افق کے اس پار چلا گیا، جہاں سے کوئی واپس لوٹ کر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام حسنات کو قبول فرما کر سیئات سے درگزر فرمائے۔

ایں دعا از من وجملہ جہاں آمین باد

آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

مزید :

ایڈیشن 1 -