’’کیا یہ لڑکی واقعی گستاخ ہے؟ ‘‘ اپنے باپ اور بھائیوں کو گالیاں دینے اور تھپڑ مارنے والی لاہور ی لڑکی کا ایسا پراسرارمعاملہ کہ جان کر آپ کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے 

’’کیا یہ لڑکی واقعی گستاخ ہے؟ ‘‘ اپنے باپ اور بھائیوں کو گالیاں دینے اور ...
’’کیا یہ لڑکی واقعی گستاخ ہے؟ ‘‘ اپنے باپ اور بھائیوں کو گالیاں دینے اور تھپڑ مارنے والی لاہور ی لڑکی کا ایسا پراسرارمعاملہ کہ جان کر آپ کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے 

  

تحریر: پیر ابو نعمان رضوی سیفی 

ہمارے سماج میں عام طور پربیٹوں کو والدین کا گستاخ سمجھا جاتا ہے ،کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ بیٹیاں بھی گستاخ ہوسکتی ہیں ۔وہ جب ایسی گستاخیوں پر اتر آتی ہیں تو ماں باپ کی نیندیں اڑجاتی ہیں۔اس رات میں گلبرگ میں ایک سائل کے ہاں موجود تھا کہ مجھے والٹن کے علاقہ سے ایک جاننے والے کا فون آیا اور انہوں نے ایک خاتون سے بات کرائی جو رو رو کر بتارہی تھی کہ ان کی بیٹی پر جنات آگئے ہیں۔وہ اسکے علاوہ اپنے والداور بھائیوں کو گندی غلیظ گالیاں دینے لگ پڑی ہیں اور تھپڑ بھی مارنے سے گریز نہیں کرتی ۔

میں بڑا پریشان ہوا کہ یقینی طور پر کوئی بھی بیٹی ایسی ہمت نہیں کرتی ،لازمی کوئی ایسی وجہ بنی ہوگی کہ وہ لڑکی اپنے حواس سے کھو بیٹھی ہے ۔میں نے انہیں کل کا وقت دیا تو ایک گھنٹہ بعد اسی خاتون کا فون آگیا ’’ پیر صاحب خدا کے لئے آپ ابھی آجائیں کیونکہ بیٹی نے کہرام مچا دیا ہے ‘‘ میں اس وقت بہت مصروف تھا،عذر کرنا چاہاتو وہ بولیں’’ میں جب آپ سے بات کرکے گھر گئی تو اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا ہے ،کتیا تو چوی چھپے پیروں کو فون کرتی پھرتی ہے ،آج تو میں تیری ساری اکڑ مان ختم کردوں گی ‘‘

خاتون نے حقیقت میں گھر والوں سے چھپ کر مجھے فون کیا تھا ،یہ بات سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا کہ یہ کیس انتہائی مشکل ہوسکتا ہے ،اس لئے کچھ کرنا ہی ہوگا ۔لہذا میں انہیں اپنی جامعہ پر آنے کا کہہ دیا ۔اس وقت رات کے ساڑھے بارہ بج چکے تھے ۔میں جب جامعہ پہنچا تو وہ لوگ مجھ سے پہلے پہنچ چکے تھے ۔پانچ مردوں کے ساتھ ایک نحیف سی لڑکی اور اسکی ماں تھی۔یہ مرد کیا تھے خود دہشت کی علامت تھے ۔اونچے لانبے قد اور گھنی نوکدار مونچھوں والے گھبرو جوان ۔مگر ایک لڑکی نے انکی درگت بنا کر رکھ دی تھی ۔

وہ پانچ بھائیوں کی بہن تھی ۔بھائی سبھی جوان تھے لیکن اس وقت بہن کے سامنے بھیگی بلی بنے بیٹھے تھے ۔اسکے باوجود ان کی ہمت تھی کہ وہ اسے کسی طرح جامعہ لے آنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔میں نے استخارہ کیا اور پھر اس کی حاضری کی تو چارجنات اس میں حاضر ہوگئے،ان میں دو عورتیں تھیں اور دو مرد ۔معلوم ہوا کہ وہ والٹن کے گندے نالے کے پاس پکھیوں میں رہتے تھے ۔ نسلاً ہندو تھے ۔انہیں یہ لڑکی پسند آگئی اوروہ اس پر قابض ہوگئے ۔اس نالے کی منحوسیات یہ ہیں کہ اسقدر غلاظت کی وجہ سے غیر مسلم جنات یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ کسی زمانے میں ہندووں کا شمشان گھاٹ بھی یہاں ہوتا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد اسکے آثار ختم ہوگئے لیکن یہ جگہ لاہور کی ان پرانی آسیبی جگہوں میں سے ہے جسے ’’پکی‘‘ کہا جاتا ہے۔

والٹن کی اس قدیمی آبادی میں پہلے بھی کئی ایسے انہونے پر اسرار واقعات ہوچکے ہیں۔ایک بار مجھے کسی نے بتایا تھا کہ گراونڈ میں کھیلتے بچوں کو جنات کا ایک بچہ فٹ بال کھیلتا دکھائی دیا تھا ،جس بچے نے دیکھا وہ بے ہوش ہوگیا اور کئی دن بخار میں رہا ۔

میں نے حاضری لگانے کے بعد انہیں لڑکی کی جان چھوڑنے کا وعدہ لیا اور انہیں مسلمان کرکے لاہور بدر کردیا ۔جنات کی زبانی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے علاقے سے گذرنے والے گندے نالوں پر آسیبی بستیاں آباد ہیں اور وہ اپنی شیطانی قوتیں وہیں سے حاصل کرتی ہیں کہ مسلمان ان گندے نالوں کی وجہ سے روحانی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں۔گندی بو اور تعفن کے باعث ان گھروں میں برکت نہیں ہوتی اور نہ اب وہ پہلے سا رواج رہا ہے کہ مسلمان گھروں میں آیت الکریمہ پڑھایا کریں ۔مسلمانوں کو کسی صورت گندے نالوں کے کنارے آبادیاں قائم نہیں کرنی چاہئیں ۔حکومت کو چاہئے کہ ایسے گندے نالوں کا سدباب کرے ۔ جو جسمانی اور روحانی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت