سی سی پی او لاہور کے اختیارات میں کمی، ڈی آئی جی کی مثالی کارکردگی نظر انداز

  سی سی پی او لاہور کے اختیارات میں کمی، ڈی آئی جی کی مثالی کارکردگی نظر انداز
  سی سی پی او لاہور کے اختیارات میں کمی، ڈی آئی جی کی مثالی کارکردگی نظر انداز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 وزیر اعلیٰ پنجاب نے آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور کے ایک کامیاب سیٹ اپ کو ختم کرکے صوبہ بھر میں جرائم کی روک تھام کے لیے ایک نیا محکمہ تشکیل دیا ہے، جو سی ٹی ڈی کی طرز پر کام کرے گا۔ لاہور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے قیام کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آ ئی ہیں۔اس کے مطابق سی سی ڈی ”یونٹ 17“ سنگین نوعیت کے مقدمات کی تفتیش کرے گا، جن میں اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی اور گھروں میں ہونے والی بڑی وارداتیں شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ ڈکیتی کے دوران قتل، کار ڈکیتی، آرگنائزڈ گینگ اور ڈکیتی کے دوران ریپ جیسے سنگین جرائم کی تفتیش بھی اس کے دائرہ کار میں ہوگی۔محکمہ منشیات فروشی، ریپ کیسز، بڑے قبضہ گروہوں اور بین الصوبائی گینگز کے خلاف بھی کارروائی کرے گا، جبکہ دیگر صوبوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے بھی تعاون کیا جائے گا۔سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ جدید ڈیٹا اینالیسز کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں کا جائزہ لے گا اور پولیس آپریشنز کو مزید مؤثر بنائے گا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ یونٹ سی ٹی ڈی کی طرز پر کام کرے گا اور صوبے میں جرائم کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ سی سی ڈی کا ہیڈکوارٹر لاہور میں پولیس قربان لائن میں بنایا جا رہا ہے۔ جس کے لیے باقاعدہ کام شروع ہو چکا ہے محکمہ پولیس کے زیر انتظام سی سی ڈی میں صوبہ بھر سے 4 ہزار کرائم فائٹرز افسران و اہلکار تعینات کئے جا رہے ہیں۔ ڈی آئی جی عہدے کے آفیسر سہیل ٰظفر چٹھہ جوکہ ڈی جی اینٹی کرپشن بھی ہیں انہیں اس اہم شعبے کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ چارج لینے سے انکار کردیا تھا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتایا تھا کہ ان کے پاس کام کا پہلے ہی بہت لوڈ ہے تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایڈیشنل آئی جی ہوتے تو میں نے آپ کو پنجاب کا آئی جی تعینات کردینا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سی سی ڈی کو فی الحال آپ ہی ہیڈ کریں گے۔ واضح رہے کرائم فائٹر ایس ایچ اوز اور دیگر افسران بھی اس شعبہ میں کام کرینگے۔سی سی ڈی کو کیسز کا عدالتوں میں چالان جمع کروانے کا اختیار بھی حاصل ہو گا اور اسے صوبے بھر میں کارروائیاں کرنے کا مکمل اختیار دیا جائیگا۔ پنجاب پولیس حکام نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قانونی طریقہ کار اور اختیارات کے حوالے سے ورکنگ مکمل کر لی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور کے زیادہ تر ڈی ایس پی اور دیگر عملے کو بھی سی سی ڈی رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے اس کے لیے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور کے افسران کے انٹرویوز کرکے ایک لسٹ مرتب کرلی ہے جنہیں وہ اپنی ٹیم کا حصہ بنائیں گے۔اگر ہم لاہور میں کام کرنے والی آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی کارکردگی کا جائذہ لیں توپتہ چلتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے اس کی کارکردگی سے متاثر ہوکر ہی یہ نیا شعبہ قائم کیا ہے۔لاہور پولیس نے اپنی کارکردگی کی جو رپورٹ جاری کی تھی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 5 ارب روپے کی ریکوری سامنے آئی جس میں 3 ارب 91 کروڑ روپے آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ریکور کیے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ ڈی آئی جی عمران کشور کی کارکردگی کے پیش نظر اس شعبے کا انہیں سربراہ بنایا جایا کیونکہ انہوں نے انویسٹی گیشن ونگ میں بھی ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی تھیں اور آرگنائزڈ کرائم یونٹ میں بھی انہوں نے مثالی کام کیا ہے۔ انہوں نے صرف لاہور سے شوٹر مافیا، بدمعاشوں اور بڑے بڑے منشیات کے سمگلر کا خاتمہ کیا ہے انہوں نے چیلنج سمجھے جانے والے مقدمات ٹریس کر کے ملزمان کو ان کے انجام تک پہنچایا ہے یہ وہ پولیس آفیسرز ہیں جن کی محنت اور ان کی ٹیم کی کامیابیوں کی بدولت لاہور میں جرائم کی شرح میں حقیقی کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر انہیں اس شعبے کا سربراہ بنادیا جائے تو وہ لاہور کی طرح صوبہ بھر میں جرائم کی شرح میں حقیقی کمی لانے میں معاون ثابت ہونگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سہیل ظفر چٹھہ انتہائی اچھے اور باوقار پولیس آفیسرز ہیں لیکن اینٹی کرپشن میں جس طرح انہوں اس شعبے کی سر بلندی کے لیے کام کیا ہے۔سی سی ڈی میں انہیں ذمہ داریاں ملنے کے بعد اینٹی کرپشن کی کارکردگی متاثر ہو نے کا امکان ہے۔ ابتدائی ڈھانچے کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کے نیچے دو ڈی آئی جی،ایک آپریشنز اور دوسرا انٹیلی جنس ونگ ہو گا۔ دونوں کے ڈی آئی جی علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔ 10 ایس ایس پی اور ایس پی کی سیٹیں منظور ہوں گی۔ اے اور بی کیٹیگری کے اضلاع میں ایس ایس پی اور ایس پی رینک کے افسر کو ہیڈ لگایا جائے گا جبکہ سی کیٹیگری کے اضلاع میں ڈی ایس پی ہیڈ ہو گا۔ تحصیل کی سطح پر انسپکٹر رینک کا افسر انچارج ہو گا۔ یونٹ کے ہر ضلع میں اپنے الگ تھانے،عمارتیں اور گاڑیاں ہوں گی،یونٹ ڈائریکٹ مقدمات کا اندراج کر کے تفتیش کرے گا،پنجاب حکومت براہ راست فنڈز دے گی۔آرگنائزڈکرائم یونٹ کی وردی بھی نئے ڈائزین میں تیار ہو گی۔ہر ضلع میں نفری 2 سے 3 سو،بڑے اضلاع میں 5سو کے قریب ہو گی۔ یونٹ صرف سنگین جرائم کے ملزموں کو پکڑ کر مقدمات چالان کرے گا۔ یونٹ کچے کے علاقے میں بھی آپریشنز کریگا۔ یاد رہے پنجاب پولیس میں تبادلوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔اطلاعات کے مطابق ابھی مذید پولیس آفیسر بھی تبدیل کیے جائیں گے لیکن یہ پولیس آفیسر کرکٹ چیمپین شپ کے بعد تبدہل ہونے کا امکان ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تبادلوں کے بعد پنجاب حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔عوام اور اداروں میں ایک پروپیگنڈہ زور پکڑتا جارہا تھا کہ موجودہ حکومت اختیارات سے خالی ہے۔ یہ کسی کو تبدیل یا تعینات کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔انہیں تبدیل یا تعیناتی کے لیے اوپر سے این او سی کی ضرورت ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ تاثر کیوں پیدا ہوا کیونکہ جب بھی کوئی نئی حکومت قائم ہوتی ہے۔سب سے پہلے وہ اپنا آئی جی اپنا چیف سیکرٹری اور دیگر اہم عہدوں پر تعیناتیاں عمل میں لاتی ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان اہم عہدوں میں سے کسی کو تبدیل نہیں کیا تھا اور یہ ہی سمجھا جارہا تھا کہ پہلے سے تعینات یہ پولیس آفیسرز سمیت دیگر اہم عہدوں پر تعیناتیاں اس حکومت کا اختیار نہیں ہے۔لیکن وزیر اعلی پنجاب نے یہ ثابت کردیا کہ وہ مکمل اختیار کی مالک ہیں اختیارات کے ساتھ انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کہیں افسران کی سیاست کا شکار تو نہیں ہورہیں کیونکہ لاہور میں اہم شعبے کا خاتمہ پولیس افسران کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ نہیں دیتا۔

مزید :

رائے -کالم -