گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 53

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 53

  

لندن میں باقی تین ہائی کمشنر یہ تھے: آسٹریلیا کے مسٹربروس ، جواب لارڈ بروس ہیں ، کینیڈا کے مسٹرو نسنٹ میسی ، جو بعد میں کینیڈا کے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔ وہ کینیڈا کے ایک ایسے متمول خاندان کے فرد ہیں جس نے ہندوستانیوں کو نہایت پابندی کے ساتھ وظائف سے نوازا ہے۔ میں نے ٹورنیٹو یونیورسٹی میں وہ جمنیزم اور کتب خانہ بھی دیکھا ہے جو اسی خاندان کا عطیہ ہے ۔ تیسرے نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر مسٹر جورڈن تھے۔ مجھے کسی نے بتایا کہ مسٹر جورڈن نے اپنی زندگی کا آغاز ایک پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا اور وہاں سے ترقی کرتے کرتے اس اعلیٰ منصب پر پہنچے ہیں۔ اگریہ بات درست ہے تو وہ نہایت قابلِ احترام ہیں۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 52  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن مجھے گلا سگو میں زائرین کے ایک جہاز کی رسم افتتاح ادا کرنے کیلئے مدعو کیا گیا۔ بمبئی کے مسٹرماسٹرس نے یہ جہاز اپنی کمپنی کے لیے بنوایا تھا تاکہ عازمین حج اس میں بمبئی سے جدہ تک سفر کر سکیں۔ میں نے جہاز کو پانی میں اُتارنے کی رسم شراب کی بوتل کی بجائے ناریل توڑکر ادا کی۔ ہمیں یہ معلوم کرنے کیلئے بہت سی کتابیں چھاننی پڑیں کہ امتناع شراب کے اسلامی احکام کی روشنی میں ایسے مواقع پر مغل بادشاہ آخر کیا کرتے تھے۔ اس رسم کی ادائیگی کے بعد گلا سگو کے لار ڈمیئر نے ہمارے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔ جس میں ایک خاتون نے جو لارڈ میئر کی کونسل کو رُکن اور مجسٹریٹ بھی تھیں۔ مجھ سے سوال کیا کہ ہندوستانی طلبہ آخر اتنی کثیر تعداد میں برطانیہ کیوں آتے ہیں؟ میں نے اس خاتون سے کہا کہ ہمیں اپنے لڑکوں کو برطانیہ میں تعلیم دلانے کی جو سہولت حاصل ہے اس کی ہم بے حد قدر کرتے ہیں اور اگرچہ برطانوی تعلیمی اداروں کی تمام نشستیں انگریز طلبہ سے ہی پر کی جا سکتی ہیں تاہم انگریز لوگ دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے شہریوں کی اعانت و امداد کرنا پسند کرتے ہیں۔ خیر سگالی کے اس مظاہرہ کی ہمارے دلوں میں بڑی قدر ہے اور یہ چیز خود برطانیہ کے لیے بھی مفید ہے۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی طلبہ تقریباً چھ لاکھ پونڈ (اور اب دس لاکھ پونڈ ) کی رقم سال کے سال برطانیہ میں خرچ کرتے ہیں جو ویسے تو بہت معمولی بات ہے تاہم ہر وہ نوجوان جو یہاں سے فارغ التحصیل ہو کر جاتا ہے وہ گویا برطانوی تہذیب کی سفارت انجام دیتا ہے اور اس کے ساتھ یہاں جو خوش خلقی کا سلوک کیا گیا ہے ۔وہ اس کی خوش گواریادیں اپنے ہمراہ لے جاتا ہے۔

میں نے اس موقع پر اپنے ایک رفیق کارسرگوکل چند نارنگ کی مثال پیش کی جنہوں نے جرمنی میں تعلیم پائی تھی چنانچہ جس وقت انہیں اپنی شوگر مل کے لیے مشین کی خریداری درپیش ہوئی تو انہوں نے جرمنی سے مشین خریدنے کے لیے انتہائی کوشش کی۔ ایک دن لاہور میں میں اپنے ایک دوست کی عیادت کو گیا۔ وہاں تین چار ڈاکٹر حلقہ باندھے بیٹھے تھے لیکن جو ڈاکٹر ان کا علاج کر رہا تھا وہ میرے وہاں پہنچنے کے وقت اُٹھ کر جا رہا تھا۔ میں نے ایک نظر اس کے نسخہ پر ڈالی اور دوسرے ڈاکٹروں سے پوچھا کہ اس میں کون سی دوائیں لکھی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ ساری دوائیں امریکہ کی بنی ہوئی ہیں کیونکہ اس ڈاکٹر نے امریکہ میں تعلیم پائی تھی۔ میں نے ان خاتون سے کہا کہ میرا خیال ہے وہ تمام ڈاکٹر جنہوں نے برطانیہ میں تعلیم پائی ہے اپنے نسخوں میں انگریزی دوائیں تجویز کریں گے لیکن بادی النظر میں یہ باتیں بھی معمولی معلوم ہوتی ہیں۔ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ دولتِ مشترکہ کی مختلف اقوام اور برطانیہ کے درمیان تعلق برقرار رہنا چاہیے ۔ خاتون نے میرے خیالات سے اتفاق کیا اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تصویر کا دوسرا رخ میری نگاہ میں نہ تھاجس کا مجھے افسوس ہے۔

نازی لیڈر مسٹر ہیس ایک دن اچانک برطانیہ میں وار ہوئے۔ ان کی آمد کے بارے میں طر ح طرح کی باتیں سننے میں آتی تھیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ خود ہٹلر نے انہیں بھیجا ہے ، اور نہ وہ یہاں کیسے آسکتے تھے۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ہٹلر کے علم کے بغیر یہاں آئے ہیں اور برطانیہ اور جرمنی کے درمیان مفاہمت کے متمنی ہیں۔ لیکن چند دوسرے لوگوں کی رائے میں مسٹر ہیس کو یہ غلط فہمی تھی کہ برطانیہ جنگ ہار رہا ہے اور وہ آسانی سے ہتھیار ڈال دے گا ۔ میرا پنا تاثر یہ تھا کہ موصوف کو جرمنی میں اپنی زندگی کچھ زیادہ محفوظ نظر نہیں آتی تھی اور وہاں سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ برطانیہ میں اگر کسی مقصد کے تحت جائیں گے تو انگریز انہیں ہلاک نہیں کریں گے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ مقدمہ نورمبرگ تک اسی بنا پر ان کی جانب بچی رہی۔

حبشہ کے بادشاہ ہیل سلاسی سے ملاقات کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا۔ان کے ملک پر اٹلی نے قبضہ کر لیا تھا اور وہ اپنے پورے کنبہ کے ساتھ لندن میں پناہ گزین تھے۔ ان دنوں ہم نے شمار کیا تو معلوم ہوا کہ مختلف ملکوں کے نوبادشاہ لندن میں پناہ گزین ہیں۔ بادشاہ ہیل سلاسی کے ساتھ ایک شخص ڈاکٹر مارٹن تھا۔ جس نے میڈیکل سکول امرتسر میں تعلیم پائی تھی۔ وہ ہماری فوج میں کسی معمولی طبی خدمت پر مامور رہنے کے بعد اب انڈیا ہاؤس لندن سے تیس روپیہ ماہانہ پنشن لے رہا تھا۔ وہ مجھ سے ملنے کے بعد اب انڈیا ہاؤس لندن سے تیس روپیہ ماہانہ پنشن لے رہا تھا ۔ وہ مجھ سے ملنے کے لیے آیا اور اسی کی وساطت سے میری بادشاہ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ایک دن میں نے سیو ائے ہوٹل میں شاہ کو کھانے پر مدعو کیا۔ جنرل آئرن سائڈ بھی اس دعوت میں موجود تھے۔ مجھے بعد میں مسکراتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

اطالوی عدیس ابابا پر قبضہ کرنے کے بعد کوئی میٹنگ کر رہے تھے کہ ایک محب وطن نے بم پھینک دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ موقع پر جو بھی ملا اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکٹر مارٹن کے دو بیٹے بھی پکڑے گئے اور کسی سماعت کے بغیر انہیں گولی سے اُڑا دیا گیا۔

میں نے حال ہی میں اخبارات میں یہ دلچسپ خبر پڑھی کہ حبشہ کے شہنشاہ ماسکو کے خیر سگالی دورے پر تشریف لے گئے ہیں۔ بہت سے حکمران حتیٰ کہ بعض بادشاہ بھی اس خیال میں مبتلا پائے گئے ہیں کہ اشترا کی ملکوں سے دوستی کی بنا پر وہ انہیں اپنے بارے میں استثنائی سلوک اختیار کر نے پر آمادہ کرلیں گے اور وہ ملک ان کی رہاستوں میں اشتراکیت کا پروپیگنڈہ نہیں کریں گے۔ یہ حکمران کس قدر غلطی پر ہیں۔ اشتراکی اگر عالمی اشتراکیت کا مؤقف ہے کہ ’’جب بھینس کی موت آئی وہ گوشت خور کے گھر گُھس گئی۔‘‘

سیوائے ہوٹل میرے دفتر سے کچھ دور نہ تھا ۔ ایک دن میں وہاں کھانا کھا رہا تھا کہ پاس کی میز پر کسی موضوع پر گرما گرم بحث ہوتے سنی۔ طعام گاہ کے منتظم اعلیٰ سنتار لی اس وقت مجھ سے بات کر رہی ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ ذرا معلوم تو کریں کہ کس موضوع پر بحث ہو رہی ہے ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ دونوں برطانوی فوجی افسر ہیں اور حال ہی میں جرمنی کے قیدی کیمپ سے رہا ہو کر آئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے یہ شرط لگا رکھی تھی کہ کوئی شخص دو کھانوں پر تیرہ پونڈ خرچ نہیں کر سکتا۔ دوسرے کو یہاں پہنچ کر جب یہ معلوم ہوا کہ حکومت نے ایک کھانے کی قیمت ۵ شلنگ مقرر کر دی ہے تو وہ سنتا لی سے اس بارے میں مشورہ کرنے لگا کہ شرط کس طرح جیتی جائے ۔ اسے یہ اطلاع دی گئی کہ ویسے تو فی کس ۵شلنگ کی مجموعی قیمت وصول کی جائے گی لیکن وہ شیمپئن اور برانڈی کی چند بوتلوں کے بعد کافی اور پھر سگار کے آرڈر بھی دیں تو تیرہ پونڈ پلک جھپکنے میں ختم ہو جائیں گے۔ اعلیٰ درجہ کے ایک سگار کی قیمت اس وقت بھی ۱۷شلنگ ۶پنس تھی۔ میں اسی موڈ میں پیکاڈلی کے مشہورڈیپارٹمنٹ سٹور فورٹنم اینڈ میسن کے قریب سے گزر رہا تھا کہ چند پیش قیمت پھلوں پر نظر پڑی ۔ میں نے جیب ٹٹولی تو معلوم ہوا کہ پھل خریدنے کیلئے خاصی رقم موجود ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس رقم سے آج ذرا عیش کر لیتے ہیں۔ کسے معلوم آئندہ لمحہ کیا ہو گا ۔ بس ایک بم گرنے کی دیر ہے، مٹی کا پتلا مٹی میں مل جائے گا۔

مجھے لندن کے دورانِ قیام میں دوبار سر کاری دورہ پر کینیڈا جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک بار ۱۹۴۱ء میں جب میں پہلی بار اٹاوہ گیا تو وہاں لارڈ ایتھلون کے یہاں قیام کا اتفاق ہوا جو اس وقت گورنر جنرل تھے۔

ایک دن کینیڈا کے ایک دوست ملاقات کے لیے آئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ کینیڈا کی ہوا میں بجلی شامل ہے۔ انہوں نے میرے ڈرائنگ روم کے قالین پر اپنے پاؤں رگڑے اور کہا کہ اپنے پاؤں کی انگلیاں میرے پاؤں کی انگلیوں کے ساتھ مس کریں اور واقعی مجھے بجلی کا خفیف سا جھٹکا محسوس ہوا۔ وہاں کی ہوا نہایت خشک ہے۔(جاری ہے)

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فادرآف گوادر -