رمضان کی برکتیں اور مہنگائی کا بوجھ!

رمضان کی برکتیں اور مہنگائی کا بوجھ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


محمد محسن اقبال
رمضان المبارک کی بہار اپنے پورے جوبن پر  ہے اور جیسے جیسے یہ مقدس ایام اختتام کی جانب بڑھ  رہے ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان اس بابرکت مہینے میں  عقیدت و احترام کے ساتھ عبادت میں مصروف ہیں۔ یہ مقدس مہینہ، جو رحمت اور مغفرت کا باعث ہے، دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے تزکیہئ نفس، اللہ کی رضا اور ایمان کی تقویت کا ذریعہ بنتا ہے۔ روزہ، نماز اور صدقات کے ذریعے روحانی بلندی کا یہ موقع قرآنِ کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے: ''اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔'' (سورۃ البقرہ 2:183)
نبی اکرم ﷺ نے بھی رمضان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ''جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔'' (صحیح بخاری)
اسلامی ممالک اور غیر مسلم ممالک جہاں مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں، وہاں روزہ داروں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ روزہ رکھنے میں آسانی ہو۔ حکومتیں اور فلاحی ادارے مل کر ضروری اشیاء کم قیمت پر فراہم کرتے ہیں تاکہ ہر طبقے کے لوگ اس عبادت میں کسی دشواری کے بغیر شریک ہو سکیں۔ بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے اور غریبوں میں خیرات بانٹی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ اگرچہ ہر شہر میں رمضان بازار قائم کیے جاتے ہیں، لیکن اشیاء کی ارزانی اور معیار کو یقینی بنانا ایک خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ رمضان کے قریب آتے ہی روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ ہو جاتا ہے۔ بعض تاجر، لالچ میں آ کر، اشیاء خاص طور پر تازہ پھل اور مشروبات ذخیرہ کر لیتے ہیں تاکہ رمضان کے آغاز پر انہیں مہنگے داموں فروخت کر سکیں۔ کھجور، کیلا، سیب اور دیگر بنیادی اشیاء جو افطار کے لیے ناگزیر ہیں، عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اس بے رحمانہ مہنگائی سے صارف بے بس ہو جاتا ہے، اور اس کے کرب میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب والدین اپنے بچوں کی معصوم خواہشات پوری کرنے کے لیے بنیادی خوراک تک خریدنے میں ناکام رہتے ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک ایسا مہینہ جو تقویٰ، شکرگزاری اور غریبوں سے ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے، وہی مہینہ پاکستان میں مالی استحصال کا شکار ہو جاتا ہے۔ جہاں روزہ صبر، شکر اور غریبوں کے دکھ درد کو سمجھنے کا درس دیتا ہے، وہاں ناجائز منافع خوری ان تمام اقدار کے خلاف جاتی ہے۔ دیگر مسلم ممالک میں حکومتیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری نہ ہو۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سخت قوانین نافذ کیے جاتے ہیں، اور خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا میں رمضان کے دوران فلاحی منصوبے وسیع پیمانے پر متعارف کروائے جاتے ہیں، جہاں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے اور بنیادی اشیاء پر نمایاں رعایت دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض غیر مسلم ممالک، خاص طور پر مغربی ممالک میں بھی، رمضان کی مناسبت سے سپر مارکیٹوں میں خصوصی رعایتی مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ مسلمان کم قیمت میں ضروری اشیاء حاصل کر سکیں۔
پاکستانی حکام ہر سال رمضان میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے وعدے کرتے ہیں، مگر حقیقت میں حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹیاں اور صارفین کے تحفظ کے ادارے غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اور تاجر آزادانہ طور پر منافع خوری کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات شہریوں نے احتجاجاً پھلوں کا بائیکاٹ بھی کیا، لیکن ایسے اقدامات کوئی دیرپا نتائج دینے میں ناکام رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قیمت کنٹرول کے اقدامات نافذ کرے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو کڑی سزائیں دے۔ اگر دیگر ممالک، چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم، رمضان کے دوران اپنی منڈیوں کو منظم رکھ سکتے ہیں، تو پاکستان کے لیے بھی ایسا کرنا ناممکن نہیں۔
قیمتوں کے کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ، معیاری خوراک کی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے، رمضان کے دوران غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء کی بھرمار ہو جاتی ہے، جو عوام کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ حکام کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے جو ناقص اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ لیکن رمضان کو صرف معاشی مسائل تک محدود کرنا درست نہ ہوگا؛ یہ ایک ایسا مہینہ ہونا چاہیے جو روحانی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو مل کر اس مقدس مہینے کی اصل روح کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو کہ ایمانداری، سخاوت اور اجتماعی فلاح و بہبود پر مبنی ہے۔
پاکستان میں ایک عجیب رجحان بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے تاجر، خاص طور پر کاروباری افراد، رمضان کے دوران قیمتوں میں بے جا اضافے سے بھرپور منافع کماتے ہیں اور پھر آخری عشرے میں عمرہ کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ رمضان کے آخری ایام مقدس مقامات پر گزارنے کی اپنی جگہ بڑی فضیلت ہے، لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ لوگ جو عوام پر معاشی بوجھ ڈال کر منافع کماتے ہیں، واقعی اس مقدس مہینے کی اصل روح کو سمجھتے ہیں؟ اگر وہی افراد جو بنیادی اشیاء کی رسد پر اختیار رکھتے ہیں، دولت جمع کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں، تو پاکستان میں رمضان کا ماحول کہیں زیادہ باوقار اور بابرکت بن سکتا ہے۔
پاکستان میں رمضان ایک ایسا موقع ہونا چاہیے جو غور و فکر اور اخلاقی اصلاح کی ترغیب دے، نہ کہ لالچ اور استحصال کا باعث بنے۔ اس ملک کے عوام اپنی فیاضی اور خیرات دینے کی غیر معمولی روایت کے لیے مشہور ہیں، لیکن ریاست اور تجارتی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اگر معاشی پالیسیاں رمضان کی اصل روح کے مطابق مرتب کی جائیں، اور انصاف، ہمدردی اور مساوات کے اصولوں کو اپنایا جائے، تو یہ مقدس مہینہ واقعی پاکستانی عوام کے لیے روحانی بلندی اور مادی راحت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
final

مزید :

ایڈیشن 1 -