شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادہ وشاہیہ کی خدمات۔۔۔قسط نمبر67

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ...
شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادہ وشاہیہ کی خدمات۔۔۔قسط نمبر67

  

حضرت مولوی احمد علی چشتیؒ

آپ نے ایک تذکرہ بنام ”قصر عارفاں“ 1291ھ میں مکمل کیا۔ جس میں آپ نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لے کر اپنے زمانہ تک کے خانوادگان تصوف کے حالات قلم بند کئے ہیں۔ آپ مجدداعظم سیّدنوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیز کے متعلق لکھتے ہیں:

”آپ سلسلہ قادریہ کے فیض یافتہ تھے۔ آپ رحمانی پیر اور نورانی فقیر تھے۔ آپ کی تمام عمر اپنے مریدوں کو تعلیم دینے میں گزری۔ آپ کی ایک نگاہ سے طالب حق منزل پر پہنچ جایا کرتا تھا۔ مگر آپ اپنے مریدوں کو ریاضت شاقہ کا عادی بنا دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی لمبی عمر دی تھی۔ ایک مرتبہ آپ کے چند مریدوں نے آپ کو حج بیت اللہ کرتے دیکھا اور گفتگو کی۔ حالانکہ آپ کو وفات پائے دو سال گزر چکے تھے۔ میں نے خود کئی نوشاہی درویشوں سے ملاقات کی ہے۔ وہ ریاضت کے خوگر تھے۔ ساری ساری رات قیام کرتے تھے۔ حضرت (حاجی ) محمد نوشہ کا مزار لاہور کے مغرب سے نوشہرہ میں ہے۔ پنجاب کی حکومت میں نوشاہی حضرات بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ ہر آبادی کا قاضی نوشاہی ہے۔ لاہور کی دارالسطنت میں ایک نوشاہی بڑے منصب پر فائز رہا ہے۔ “

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 66پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پریچنگ آف اسلام

پروفیسر ڈاکٹر سرتھامسن آرنلڈ نے کیمبرج یونیورسٹی میں فلسفہ اور عیسائیت کی اعلیٰ تعلیم پائی۔ علی گڑھ میں پروفیسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ پریچنگ آف اسلام انہوں نے یہاں ہی حضرت مجدد اعظم قدس سرہ کی وفات سے 242سال بعد مکمل کی۔ 1896ءمیں پہلی بار یہ کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب میں پروفیسر آرنلڈ تھامس مجدد اعظم سیّد نوشہ گنج بخش قادریؒ کی مساعی سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے ہندوﺅں کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”پنجاب میں ایک شخص (حاجی) محمد گزرے ہیں۔ جن کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دو لاکھ ہندوﺅں کو مسلمان کیا ہے۔“

پروفیسر گارسان دتاسی

”خطبات گارسان دتاسی“ فرانس کے مشہور مستشرق پروفیسر موسیوگارساں دتاسی کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ اس کا ترجمہ ڈاکٹر حمید اللہ اور ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے اردو میں کیا ہے۔ یہ شخص بڑا متصلب عیسائی تھا ۔عربی ، فارسی، ترکی اور اردو زبانوں میں کامل دسترس رکھتا تھا۔ 1794ءمیں پیدا ہوا۔ یہ مو¿رخ مجدد اعظم قدس سرہ کی مساعی جمیلہ سے مسلمان ہونے والے ہندوﺅں کے اعداد و شمار کا تذکرہ کتاب کے سولہویں خطبہ میں بیان کرتا ہے:

”اگرچہ اس وقت مذہب اسلام کی پشت پناہی پر فاتح قوم کا تعصب کام نہیں کر رہا ہے لیکن بایں ہمہ اسلام بمقابلہ ہندو دھرم کے زیادہ اشاعت پذیر ہے۔ 11اکتوبر کے ”اخبار عالم“ میں میری نظر سے یہ خبر گزری ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام محمد ہے پنجاب میں دولاکھ ہندوﺅں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا ہے“(جاری ہے)

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادہ وشاہیہ کی خدمات۔۔۔قسط نمبر68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -