ڈگر،اگر،مگر،نگر،فجر،اجر

پیدائشی طور پر تھے گھوڑے وال،تھے کسی کا خواب و خیال، وقت نے بدل لی تھی چال،لاحق ہوا تھا ایسا ملال، کھڑے کر دیئے تھے جس نے سوال،عجیب تھا ان کا حال، گزر رہے تھے ماہ و سال، مگرخو اب و خیال ہو چکا تھا وصال، زندگی بن چکی تھی جنجال۔حالات اس نہج پر آپہنچے تھے گھوڑوں نے بھی انہیں گھوڑے وال ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ایک نے تو حد کر دی۔انہیں دیکھتے ہی ناچنے لگتا گانے لگتا۔”کاہے کا تو گھوڑے وال،سنبھالے گئے نا تجھ سے سسرال،کاہے کا تو گھوڑے وال“۔انہیں حسرت تھی کہ ان کی زندگی میں ایک شب ایسی بھی آئے جب وہ گدھے نہ سہی گھوڑے بیچ کر سوئیں، سب گھوڑے نہ سہی وہ منحوس گھوڑا،جوناچتا ہے، گاتاہے، ان کا دل جلاتا ہے، اس کو ہی بیچ ڈالیں۔ مفت ہی کسی کو دے دیں مگر عاشقی میں جراتِ راجپوتاں بھی گئی تھی اور نیند بھی۔نیند آنے کا سوچتے ہی لگتا تھا کہ ”ایں خیال است و محال است و جنوں“۔وہ وقت یاد آتا تھا جب زندگی بھرپور تھی، ڈاکٹر صاحبہ وجہ سرور تھیں،آنکھوں کا نور تھیں، اب مگر وہ دن بیت چکے تھے اور وہ ہو چکے تھے کنگال،حالات نے سب کس بل دیئے تھے نکال،اگرچہ اب بھی رہتا تھا ان کو ایک ہی خیال،ابھی بھی ممکن ہے وصال۔ انہیں سکول کے دنوں میں ایک محاورہ پڑھایا گیا تھا ”میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی“عملی زندگی میں، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ہوا کچھ یوں تھا کہ میاں بیوی تو تھے راضی، والدین کی ہوگئی ناراضی،دلہن کی ماں سال میں ہی لے گئی بیٹی کوسوئے قاضی،شادی ہوئی قصہ ماضی، ڈاکٹر خوش بخت کی والدہ نے پلٹ دی بازی، انجینئر صاحب تھے پرہیزی نمازی۔عشاء پڑھتے تھے یا فجر،اللہ تعالی سے مانگتے تھے ایک ہی اجر،لوٹ آئے زندگی کی پرانی ڈگر،بہاولنگر میں اجڑا تھا دل کا نگر، زندگی بن کے رہ گئی تھی اگر مگر۔ انجینئر صاحب ڈاکٹر صاحبہ کے قدموں میں گر گئے، لیکن صلح نہ ہوئی،خلع ہی ہوئی۔خلع میاں بیوی میں ہوتی ہے۔عاشقوں کی ڈگر خلع سے کہاں بدلتی ہے۔دِل کے نگر میں خلع نہیں چلتی، اگر،مگر نہیں چلتی۔ہمارے ہیرو کی زندگی ڈاکٹر صاحبہ کے تصور کے ساتھ جڑی ہے۔انہیں آج بھی لگتا ہے کہ خاتون نہ صرف ان کے لئے ضروری ہیں،بلکہ خاتون کی زندگی بھی ان کے بغیر ادھوری ہے۔ دونوں کے لئے جینا فقط ایک مجبوری ہے۔ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے۔ وہ عورت اس کے پیچھے ہوتی ہے۔اسی لئے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ اگر وہ عورت اس کے نکاح سے نکل جائے تو وہ کامیاب نہ رہے، نا کام ہو جائے۔ ہر ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں۔ ان عورتوں کا تعلق حضرت کے مائیکے سے بھی ہو سکتا ہے اور سسرال سے بھی۔اکیلی عورت بھی مرد کو کامیاب بنا سکتی ہے۔مرد آخر مرد ہے۔ناکام ہونے کے لئے کم از کم دو عورتوں کا مرہون منت ہوتا ہے۔زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ انجینئر صا حب کی زندگی کی ناکامی کے پیچھے بھی دو عورتیں تھیں۔بہاولنگر آمد سے پہلے بھی وہ خود کو بد قسمت نہیں سمجھتے تھے، مگر بہاولنگر آتے ہی سکہ بند خوش بخت ہو گئے اور خوش بخت ان کی ہو گئی۔ پوسٹنگ کے پہلے دن ہی انجینئر صاحب کو خوش بخت نظر آئیں پھر انہوں نے کچھ نہ دیکھا۔ ڈاکٹر صاحبہ پر لٹو ہو گئے،جھومنے لگے،گھومنے لگے۔آج تک جھومے جا رہے ہیں، گھومے جا رہے ہیں۔ وہ اپنی ماں کے اکلوتے سپوت تھے توخوش بخت بھی اپنے گھر کا سٹار چائلڈ تھیں۔ان دنوں پڑھی لکھی خواتین نہ ہونے کے برابرتھیں۔بیٹی ہو،ڈاکٹر ہو،خوبصورت ہو تو پھر کیا ہی کہنے۔دوسری طرف ہمارا ہیرو بھی صاحب جائیداد تھا،سرکاری افسر تھا،مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا اگرچہ بعد میں صرف نمونہ بن کے رہ گیا۔دونوں خواتین اپنی بہترین اولاد کو شادی شدہ تسلیم نہیں کر پارہی تھیں۔ ایک ماں کو لگتا تھا اکلوتا بیٹا اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے تو دوسری خاتون کا خیال تھا کہ انہوں نے بیٹی کو غیروں کے فائدے کے لئے تو ڈاکٹر نہیں بنایا۔مشترکہ خاندانی نظام کے فضائل اپنی جگہ، لیکن بعض اوقات والدین کی بے جا دخل اندازی سے بچوں کی گھریلو زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر اگر کسی خاتون کا ایک ہی بیٹا ہو تو اس کی شادی کے بعد خاتون کو عجب کمپلیکسز لاحق ہو جاتے ہیں۔ نند بھابی کا تعلق بھی عجیب ہوتا ہے۔گھر کا سربراہ اگر فوت ہو چکا ہو تو بعض اوقات حالات ناقابل اصلاح ہو جاتے ہیں۔ کئی دفعہ سسر صاحبان بھی بہو کی زندگی اجیرن کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔وہ خواتین جو روز روز سسرال کی کہانی مائیکے کو سناتی رہتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات پر ماں اور بہنوں سے مشورے کرتی ہیں، ان کا گھریلو ماحول خوشگوار نہیں رہتا۔ دل کی بستی،بستے بستے بستی ہے اور ایک صوفی شاعر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مسجد،مندر گرانے سے بڑا جرم کسی کا دل توڑنا ہے۔ یہاں تو دل توڑنے والی ہستی ماں تھی۔لڑکے کی بھی اور لڑکی کی بھی۔ہاتھیوں کی لڑائی میں بے گناہ روندے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی بزرگوں کی انا کئی گھروں کی بھینٹ لے جاتی ہے۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ ہمارے معاشرے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئی رجحان کی ایک بنیادی وجہ گھریلو ناچاقی ہے۔ بندہ تو نہ نوری ہے نہ ناری، ہے فقط خاکی ہے۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے یا نہیں، گھریلو زندگی میں معمولی معمولی واقعات مل کر بہت بڑی سزا ضرور بن جاتے ہیں۔سزا بھی بعض اوقات ایسی کہ لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی۔ شیطان کو سب سے زیادہ خوشی دو جوڑوں میں نفاق ڈال کر ہوتی ہے۔ شیطان اور شیطانی لوگ گھریلو نظام کے دشمن ہیں۔حلال کاموں میں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے،جو لوگ جانے انجانے میں کسی کے خلع یا طلاق کا سبب بنتے ہیں ان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔اللہ تعالی سے التجا کرنی چاہئے کہ ہمیں چلائے ان لوگوں کے راستہ پر،جن پر اللہ کا انعام ہوا، نہ کہ ان کے راستے پر جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا اور وہ جو گمراہ ہوئے۔آمین۔
٭٭٭٭٭