دہشتگردی کے خلاف علامی حمایت،متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے!
محمد نصیر الحق ہاشمی
پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے گزشتہ دنوں سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں ہونے والے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردوں اور خوارج سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کا فیصلہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی جبکہ قومی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں اور خوارج کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹنے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے نہ صرف قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کی حالیہ لہر پر تفصیلی غور کیا بلکہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہر قسم کی ہمدردی کے اظہار کی مذمت بھی کی۔
سلامتی کونسل نے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنانے کے لئے مربوط اور منظم حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے کسی بھی گروہ کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی، کمیٹی نے سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے بیانیے کو فروغ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی۔ کمیٹی نے اِس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لئے تمام تر مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو کمزوری نہیں دکھانی چاہئے، ایک مضبوط اور مربوط حکمت عملی کے تحت قومی سلامتی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی قائدین، آرمی چیف، اہم دفاعی،حکومتی شخصیات کے علاوہ سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت چاروں وزرائے اعلیٰ اور گورنر شریک ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کسی بھی رکن ِ پارلیمنٹ، صاحبزادہ حامد رضا، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل نے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس پر کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مشاورت کا عمل بہرحال جاری رہنا چاہئے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزبِ اختلاف کی عدم شرکت افسوسناک ہے اور قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔انہوں نے ملک میں بڑھتی دہشت گردی کا ملبہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت پر ڈالا، جس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل روک دیا تھا اور اس دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے حاصل ثمرات ضائع ہو گئے۔ان کے مطابق جو ملک، قوم، افواجِ پاکستان، شہیدوں اور غازیوں کے ساتھ نہیں کھڑا تو پھر وہ دہشت گردوں کا ساتھی اور اتحادی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈے سے فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کے بارے میں بھی بات کی اور باور کرایا کہ فوج اور عوام ایک ہیں، اِن کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازش پہلے کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہو گی۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے غیرمشروط تعاون اور غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، یہ معاملہ بھرپور انداز میں سفارتی سطح پر اْٹھانا ہوگا،یہ اہم قومی مسئلہ ہے،جس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تحریک انصاف کی غیر موجودگی پر اظہار افسوس کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں، کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں، ملک ہے تو ہم ہیں، ملکی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں، یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے، علماء سے درخواست ہے کہ وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں، پائیدار استحکام کے لئے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا، بہتر گورننس اور مملکت ِ پاکستان کو ”ہارڈ سٹیٹ“ (سخت گیر ریاست) بنانے کی ضرورت ہے، کب تک ایک سافٹ سٹیٹ (نرم خو ریاست) کے طور پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، گورننس کے خلاء کو کب تک افواج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، پاکستان کے تحفظ کے لئے یک زبان ہوکر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا، جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشت گردوں کے ذریعے کمزور کرسکتے ہیں آج کے دن ان کے لئے پیغام ہے کہ متحد ہوکر نہ صرف اْن کو بلکہ اْن کے تمام سہولت کاروں کو بھی ناکام کریں گے، اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے کچھ بھی ہو جائے انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔
قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کے عزم کی ایک بار پھر تائید کر دی ہے، اِس سے پہلے بھی بار ہا اِسی جذبے کا اظہار کیا جا چکا ہے اور در حقیقت اِسی جذبے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی، مناسب ہوتا کہ وہ بھی شریک ہو جاتی،اپنا موقف سامنے رکھنے کے لئے اجلاس میں شرکت کرنا ضروری تھا، ویسے بھی جب معاملہ قومی سلامتی کا ہو تو پھر کوئی اور بات معنی نہیں رکھتی۔ پی ٹی آئی پہلے تو شرکت کے لئے تیار تھی،ان کی طرف سے سپیکر کو نام بھی بھیج دئیے گئے تھے پھر اچانک انہوں نے نجانے کیا سوچا اور شرکت نہ کرنے کا جذباتی فیصلہ کر لیا۔
پاکستان میں دہشت گردی ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے۔جس میں گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے شدت آ چکی ہے، بلوچستان میں مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس کے چار سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے اور ان میں سے26 کو قتل کر دینے کے واقعے سے اس کی سنگینی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے تمام 33 دہشتگردوں کو عین موقع پر کیفرکردار تک پہنچانے اور ٹرین میں سوار 339 مسافر بحفاظت بازیاب کرانے میں افواج پاکستان، بالخصوص اس کی ضرار کمپنی نے جو بے مثال کردار ادا کیا،اس کی کامیاب حکمت عملی اور بہادری پر پوری قوم سمیت عالمی برادری کیلئے حرف ستائش بنی ہوئی ہے چین، امریکہ، روس، ایران، ترکیہ، یورپی یونین اور بالخصوص اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس واقعہ میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے اور انہیں سہولت کاری دینے والی قوتوں کے عزائم کی مذمت کی ہے۔ شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس حوالے سے اپنے بیان میں پاک فوج کے رولز آف گیمز تبدیل کیے جانے کی بھی بات کی ہے۔جس کی رو سے کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں،ٹرینوں، بسوں یا بازاروں میں اپنے گمراہ کن نظریات اور بیرونی آقاؤں کے ایما پر سہولت کاروں کے ذریعے نشانہ بنائیں۔ان کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ،آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہیں۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی اسپیکٹرم ہے جس کی پشت پناہی کچھ مخصوص عناصر کر رہے ہیں، جب بھی ریاست ان پر ہاتھ ڈالتی ہے تو پھر آپ کو جھوٹے بیانیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔
افواج پاکستان کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بہاولپور میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پس پردہ حقائق سے پردہ اٹھایا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بہاولپور میں طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اللہ پاک کا عطا کردہ ایک انمول تحفہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اپنے عقیدے، اسلاف اور معاشرتی اقدار کو نہیں بھولنا چاہیے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے ہم میں سے ہر کسی نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے اور بلاوجہ تنقید کے بجائے اپنی توجہ خود کی کارکردگی اور فرائض پر مبذول رکھنی ہے۔جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ جب تک عظیم مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی، یہ قوم بالخصوص نوجوان اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تو کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔سپہ سالار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی اسپیکٹرم ہے جس کی پشت پناہی کچھ مخصوص عناصر کررہے ہیں۔ آرمی چیف کے مطابق جب بھی ریاست ان عناصر پر ہاتھ ڈالتی ہے تو پھر آپ کو ان کے جھوٹے بیانیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔اپنے دورہ بہاولپور کے دوران آرمی چیف نے چھاؤنی کا دورہ کیا اور وہاں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بہاولپور کور کی آپریشنل تیاریوں اور تربیتی امور پر بریفنگ دی گئی، اس موقع پر آرمی چیف نے ان کی بے لوث لگن، بلند حوصلے اور جنگی تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سخت اور موثر تربیت ہی ایک سپاہی کی پیشہ ورانہ ترقی کی بنیاد ہے اور جدید جنگی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ پاکستان آرمی کی نمایاں خصوصیت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سی ایم ایچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سی آئی ایم ایس)، انووسٹا چولستان اور انٹیگریٹڈ کومبیٹ سمیولیٹر ارینا کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ جدید منصوبے طبی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جنگی تیاریوں کو فروغ دینے کے لیے متعارف کروائے گئے ہیں۔
آرمی چیف نے بہاولپور کی مختلف جامعات کے طلبہ سے بھی ملاقات کی اور نوجوانوں کی تعلیم و ترقی میں پاک فوج کے عزم کو اجاگر کیا۔انہوں نے طلبہ کو تعلیمی میدان میں محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اپنی مہارتوں میں اضافہ کرکے قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں۔۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ لگن کے ساتھ اپنا تعلیمی عمل مکمل کریں اور قومی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے لئے تعلیمی مہارتیں حاصل کریں۔انہوں نے پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کے اہم کردار کی تعریف کی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں بہتری کے لئے فوج کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے،جو بلوچستان کی درپیش صورتحال کا ناگزیر تقاضا ہے۔گذشتہ جمعہ کے روز کوئٹہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل عاصم منیر،گورنر، وزیراعلیٰ بلوچستان،وفاقی کابینہ کے بعض ارکان، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل سیکورٹی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا ناسور ختم نہ کیا گیا تو اس سے ملک کے وجود کو خطرہ ہوگا،جس کا حل سیاسی قیادت کومل بیٹھ کر نکالنا ہے۔ وزیراعظم کے بقول بلوچستان کی ترقی و خوشحالی جب تک دوسرے صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہو گی،ملکی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔کانفرنس کے شرکاء نے دہشت گردی کی تمام قسموں اور مظاہروں کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھنے کے حکومت پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔کانفرنس کے شرکاء میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ دہشت گردی کے ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ختم کردیا جائے۔ بعد ازاں وزیراعظم اور آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ جاکر زخمیوں کی عیادت اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔
بلوچستان کا مسئلہ وفاق پاکستان کو درپیش نہایت حساس معاملہ ہے۔یہ ملک کا سب سے بڑا لیکن سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے،جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی ملک دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے۔ان کی نظریں صوبے کے بیش بہا قدرتی وسائل پر لگی ہوئی ہیں اور اپنے مذموم اور ناپاک مقاصد کے حصول کیلئے بلوچستان کے عوام کو استعمال کرنے کے در پے ہیں۔جس کیلئے ان کے دلوں میں دوسرے صوبوں اور وفاق کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے۔کالعدم بی ایل اے سمیت صوبے میں متحرک دوسری دہشت گرد تنظیمیں ان ہی کی اختراع ہیں۔اور ان کا ایک بڑا منصوبہ جعفر ایکسپریس پر حملہ بھی تھا۔جسے غیور اور بہادر عساکر پاکستان نے ناکام بنا دیا۔اس کے ساتھ ساتھ اب سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلوچستان کے لوگوں میں بوئی گئی دوسرے صوبوں اور ملک کے خلاف نفرت ختم کریں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے ملک کے سرکردہ افراد کی ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس کا فیصلہ اصولی ہے،جس میں کسی قسم کی تاخیر، ہچکچاہٹ یا سیاست نہیں ہونی چاہئے۔
بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی خبر ابھی تازہ تھی کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں نے حملے کر دیئے، جن میں 3 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔ ایک دہشت گردی کے واقعے میں ایک سویلین بھی جان کی بازی ہار گیا جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق پشاور میں 3، کرک میں 3 جبکہ بنوں، ڈی آئی خان، خیبر اور باجوڑ میں ایک، ایک حملہ ہوا۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 9 دہشت گرد ہلاک جبکہ 2 جوان شہید ہو گئے۔ پشاور کے مچنک گیٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں پجگی چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں کانسٹیبل نذر علی شہید ہو گیا۔پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی، جس سے حملہ آور فرار ہو گئے۔ جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیئے گئے۔کرک میں تخت نصرتی پولیس اسٹیشن پر حملے میں اے ایس آئی سلام نور شہید ہوگیا۔ ڈی پی او شہباز الٰہی کے مطابق مقامی افراد نے پولیس کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔اسی طرح کوئٹہ میں بھی یکے بعد دیگرے تین دھماکے۔ہوئے جن میں ایک اہلکار شہید، 7 زخمی ہوگئے۔کرک کے علاقے عیسک خماری میں دہشت گردوں نے گیس کے کنویں پر حملہ کیا، جس میں تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر ٹیری ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ڈی پی او کرک شہباز الٰہی کے مطابق کرک کے دو تھانوں پر دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے۔ مسلح افراد نے تھانہ خرم اور تھانہ تخت نصرتی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، تاہم پولیس نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا۔ ڈی پی او کے مطابق تخت نصرتی تھانے پر حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا، جبکہ عیسک خماری میں گیس ایس ایم ایس پر ہونے والے حملے میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس نے گیس تنصیبات پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا پیچھا کیا، تاہم وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ڈی پی او شہباز الٰہی کا کہنا ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی کے باعث دہشت گرد فرار ہوگئے۔ جبکہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔
دہشت گردی کی اس سفاکانہ کارروائی نے جہاں ملک بھر میں تشویش اور اضطراب اور رنج و الم کے ساتھ ساتھ اس سنگین چیلنج کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے عزم کو مستحکم کیا ہے وہیں عالمی سطح پر بھی امریکہ، چین، ایران، ترکیہ، روس،یورپی یونین و دیگر ملکوں کی جانب سے اس واردات کی سخت مذمت کے بعداقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کے بیان کی شکل میں بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت کا بھرپور مظاہرہ ہوا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے گزشتہ روزایک پریس بیان میں جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کے مطابق اراکین سلامتی کونسل نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی تمام شکلوں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ اراکین سلامتی کونسل نے دہشت گردی کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت کا اظہار کیاہے۔ بیان میں تمام اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلاجواز ہے، خواہ اس کا محرک کچھ بھی ہو، انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ریاستوں کی جانب سے جدوجہد ضروری ہے جس میں بین الاقوامی انسانی حقوق، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف اس عالمی حمایت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں جاری کارروائیوں کی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے مطابق جن پڑوسی ملکوں سے مالی معاونت، تربیت، پناہ گاہوں کی فراہمی اور دوسری شکلوں میں سرپرستی کی جا رہی ہے، اراکین سلامتی کونسل اور دیگر ممالک کی جانب سے انہیں سخت تنبیہ کی جائے اور ان کے خلاف موثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے اسباب و محرکات کا بے لاگ جائزہ لے کر اور اس عمل میں وسیع تر مشاورت کا اہتمام کرکے بہتر اور نتیجہ خیز حکمت عملی اپنائے کیونکہ فی الوقت افواج پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا فتنہ قابو میں نہیں آرہا اور ملک کے دوصوبوں میں اس حوالے سے حالات روز بروز ابتر ہوتے جارہے ہیں۔جس کے آگے فوری طور پر بند باندھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ہی ملک حقیقی معنوں میں ترقی و خوشحالی کی منزل سے روشناس ہوگا۔ ٭٭٭