انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 57

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 57
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 57

  

جنگ کے بعد یورپ کے اند ر کیمونزم نے بڑھنا شروع کردیا جس سے خوف زدہ ہو کر امریکہ اور دیگر سرمایہ دارانہ ممالک نے روس کے خلاف ایک سر د جنگ کا آغاز کردیا۔ اس سرد جنگ میں امریکہ پیش پیش تھا۔ یورپ میں یونان ، ہنگری اور پولینڈ میں کیمونسٹوں کی بڑھتی گوریلا کارروائیوں سے جمہوری حکومتیں خاصی پریشان تھیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ مالی طورپر تباہ ہو چکا تھا۔ اس دوران امریکی صدر ٹرومین نے اعلان کیا کہ امریکہ ان تمام ممالک کو مالی امداد دیگا جو کیمونزم یا سوشلزم کے خلا ف سرمایہ دارانہ ( capitalism) نظام کا تحفظ کریں گے۔ اس منصو بے کو ’سیکرٹری آف سٹیٹس ‘ جارج سی مارشل کے نام کی مناسبت سے ’’مارشل پلان ‘‘کا نام دیا گیا۔ لیکن 1950 ء تک جب برطانیہ میں عسکری پس منظر کے حامل وزیراعظم ونٹسن چرچل کو اقتدار ملا اس وقت ہنگری اور بلغاریہ میں کیمونسٹ حکومتیں قائم ہوچکی تھیں۔ 1948 ء میں چیکو سلواکیہ میں ہونے والے انتخابات میں طویل عرصے سے قائم جمہوری حکومت،کوکیمونسٹوں نے ختم کردیا۔ 

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس دوران (1950) جب امریکہ کو رین جنگ میں مصر وف ہو چکا تھا تو دوواقعات ایسے رونما ہوئے جس سے امریکہ اور یورپ کیمونزم کے خوف سے کا نپنے لگے ۔اول الحبر ہس ’پر کیمونسٹ جاسوس ‘ہونے کا الزام لگا جو ایک اعلیٰ سرکاری امریکی عہدیدار تھا۔ دوسری جانب روس نے 1949 ء میں ایٹمی دھماکہ کیا جس کا سن کر امریکی عوام کو بہت صدمہ ہوا اور وہ سوچنے لگے کہ جاسوسوں نے ایٹم بم کے فارمولے چوری کرکے روس کو فراہم کیے جس سے وہ بم بنانے کے قابل ہوا ۔ امریکہ اور یورپ میں ہزاروں افراد کو جاسوسی کے الزام میں فیکٹریوں سے نکال دیاگیا۔ 1950ء سے لیکر 2012تک امریکہ کو کئی ایک داخلی انتشار اور بیرونی جنگوں کا سامنا کرناپڑا ۔ اس کے صدر کو حمایت کھونے پر استعفٰی دینا پڑا اور کئی ایک کو قتل کیا گیا۔ 1980 سے روس (مجموعی طورپر کیمونزم )کے خلاف جنگ کے بعد وہ دنیا کا واحد طاقتور ترین (سیبر پاور)ملک بن چکا ہے۔ امریکہ میں کئی ایک تحاریک اور سیکنڈلز سامنے آچکے ہیں لیکن اس کے باوجودجمہوری استحکام اور ملکی سا لمیت کو ذرابرابر نقصان نہیں پہنچا۔ آج بھی وہ دنیا میں (خصوصاً مسلم دنیا )کئی ممالک کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ وسائل بھی اس کے پاس ہی ہیں۔ 

امریکہ میں انسانی سمگلنگ اور استحصال کی کہانی

اس سے قبل ہم نے امریکہ کی تاریخ کے باب میں اندرون ملک انسانوں کی ہجرت کا ذکر کیا جو مختلف جنگوں اور معاشرتی و معاشی بحرانوں کے دوران وقوع پذیر ہوئیں ۔ ذیل میں امریکہ میں ہونیوالی انسانی سمگلنگ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور سمگل شدہ افراد کی حالت زار پر بھی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ گزشتہ ڈیڑھ سوسال سے دنیا کے غریب اور پسماندہ خطوں کے عوام کیلئے ایک امیر ملک بنا ہوا ہے جہاں کم از کم اجرت اور فی کس آمدن دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس لئے مختلف ممالک کے باشندے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے امریکہ داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی جمع پونجی لٹاتے ہیں اور رسوا بھی ہوتے ہیں۔ 

ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر چکے ہیں کہ امریکہ معیشت اور تہذیب کی بنیاد پر دو حصوں میں منقسم ہے اور اس کے دو براعظم بن چکے ہیں۔ براعظم شمالی امریکہ جنوبی براعظم سے قدرے زیادہ خوشحال اور صنعتی براعظم ہے۔ جسے یو ایس اے (یونائٹیڈ سٹیٹس آف امریکہ) کہا جاتا ہے۔ اس کی طرف جنوبی براعظم امریکہ جس میں ارجنٹینا، بولویا، برازیل، چلی، کولمبیا،ایکواڈور، فرنچ گویانہ ، پیرو، پیرا گوئے، یوروگوئے اور وینزویلا وغیرہ شامل ہیں قدرے کم ترقی یافتہ براعظم ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ شمالی امریکہ داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذیل میں شمالی امریکہ میں ہونے والی انسانی سمگلنگ ، سمگلنگ کے شکار افراد، ان کی ضروریات ، شناخت اور ان کو فراہم کی جانے والی خدمات کے علاوہ سمگل شدہ افراد سے لئے جانے والے ممنوعہ کاموں کے متعلق ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

انسانی سمگلنگ کا جرم حقیقی معنوں میں دنیا کے ہر ملک کو متاثر کرتا ہے۔ اس جرم کی بقا عالمی مجرمانہ کردار کی حامل تنظیموں ، چھوٹے جرائم پیشہ نیٹ ورکس، مقامی گینگز،لیبر اور امیگریشن کے ضابطوں کی خلاف ورزیوں، کم عمر افرادکی جسم فروشی اور حکومتی بدعنوانیوں سے وابستہ ہے۔ امریکی سرحدوں کی کمزور نگرانی بھی امریکہ میں انسانی سمگلنگ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح امریکہ میں بھی بڑھتی ہوئی آبادی ( امریکہ کی آبادی ساڑھے31کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے) اور مضافاتی علاقوں تک پھیلی فیکٹریوں کے علاوہ بڑے شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں گھریلو ملازمین اور گلی محلوں میں منشیات فروخت کرنے والے کم عمر بچے ملک میں انسانی سمگلنگ کے متعلق درست اعدادوشمار سامنے لانے میں اہم رکاوٹ ہیں ۔ امریکہ میں اس جرم کے متعلق مقبول عام اندازوں اور سرکاری اعدادو شمار میں تفاوت اس بات کے غمازہیں کہ اس جرم کو سرکاری سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ مثال کے طور پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2005 کی رپورٹ میں ہر سال بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کی تعداد 6سے 8 لاکھ بتائی جاتی ہے جبکہ عالمی تنظیم برائے محنت نے 2005 میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’’ دنیا میں کسی وقت بھی جبری مشقت ، ممنوعہ کام اور بچوں سے لی جانے والی جبری مشقت میں مبتلا افراد کی تعداد ایک کروڑ 23 لاکھ سے کم نہیں ہوتی‘‘۔ 

اس کے برعکس دیگر بین الاقوامی اداروں ، جو انسانی محنت کے استحصال پر کام کرتے ہیں ، کے مطابق مذکورہ بالا تعداد 40 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ تک ہے ۔دراصل انسانی سمگلنگ کے متعلق پائے جانے والے اعدادوشمار اور ڈیٹا کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کوئی شفاف اور ٹھوس نظام سامنے لایا جا سکا ہے۔ جس کے تحت صحیح معلومات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہو۔اعدادو شمارکو پچیدہ بنانے سے قطع نظر انسانی سمگلنگ ایک ایسا جرم ہے جس سے کروڑوں انسان پریشان ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس جرم کو دنیا میں جاری رکھنے والے اور غیر قانونی طور پر انسانوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں منتقل کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے پاس مکمل ڈیٹاموجود ہوتا ہے ۔ لیکن حکومتیں جن کے پاس درجنوں محکموں کے اہلکاروں کی فوج ظفر موج موجود ہوتی ہے اس جرم کے متعلق درست معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ’’ انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کے تحفظ ‘‘ کے ایک ادارے کے مطابق امریکہ میں ہر سال 50 سے60ہزار افراد غیر قانونی طور پر بین الاقوامی سرحد کو عبور کر کے ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ گرفتار کر لیے جاتے ہیں جن کی تفتیش سے ایجنٹ مافیا تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔ 2001 میں ایسے ہی گرفتار کیے گئے 400 افر اد میں سے ایک سو بیس کو سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر سال انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کی ہزاروں کی تعداد میں پکڑا جاتا ہے اور ان کو ضروری امداد مہیا کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ