ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دورِ حکومت اور عالمی برادری

  ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دورِ حکومت اور عالمی برادری
  ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دورِ حکومت اور عالمی برادری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے47ویں صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد جو پہلی تقریر کی اور اس میں جن پالیسیوں کا اعلان اور خیالات کا اظہار کیا ان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ کے اور باقی ساری دنیا کے اگلے چار سال کیسے گزرنے والے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے آنے کے بعد جو نیا دور شروع ہوا ہے وہ امریکہ کا سنہری دور ہو گا، جس میں قومی خوشحالی آئے گی، امریکہ کی طاقت میں اضافہ ہو گا، مہنگائی پر قابو پایا جائے گا اور معیشت کو مستحکم کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی صنعت اور مینوفیکچرنگ کو دوبارہ مضبوط کرنے کی بھی بات کی۔ امریکہ کی جنوبی سرحد کی حفاظت کی بات ٹرمپ نے اپنے دور کے آغاز پر بھی کی تھی۔ اب ایک بار پھر اسی پالیسی کو دہراتے ہوئے انہوں نے جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور سرحدی تحفظ کو بہتر بنانے اور امیگریشن مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کا وعدہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافے کے لئے توانائی کے شعبے میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت میں بد عنوانی کو ختم کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔صدر ٹرمپ نے خلیج میکسیکو (Gulf of Mexico) کا نام گلف آف امریکہ (Gulf of America) رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پاناما کینال (Panama Canal) کو دوبارہ امریکی کنٹرول میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نومنتخب امریکی صدر نے اپنی افتتاحی تقریر میں یوکرین یا غزہ کا براہِ راست کوئی ذکر نہیں کیا‘ تاہم انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات کا عزم ظاہر کیا۔ ان مقاصد کے لئے ٹرمپ نے ’امریکہ فرسٹ‘ (America First) اور قومی خود مختاری پالیسی کا اعلان کیا،جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے ملکی اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ پچھلی ٹرم میں ان کی شکست کی وجہ اپنے پچھلے دور میں امریکہ کے داخلی معاملات پر مناسب توجہ نہ دینا ہے۔ شاید ان کا یہ بھی خیال ہے کہ گزشتہ دور میں داخلی معاملات پر مکمل اور مناسب گرفت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دوسری ٹرم کے الیکشن کے لئے اپنے اداروں کی طرف سے مناسب سپورٹ میسر نہیں آ سکی تھی۔ شاید ان کا یہ بھی تصور ہو کہ گزشتہ دور میں وہ امریکہ کے عوام کو پوری طرح خوش کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنی دوسری ٹرم کے لئے چار سال کا انتظار کرنا پڑا۔ اگرچہ امریکی صدر کے لئے تیسری ٹرم کے لئے منتخب ہونا ممکن نہیں ہے پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ یہ خواہش ضرور رکھتے ہوں گے کہ امریکہ کے داخلی معاملات کو ٹھیک کر کے، مہنگائی کو کم کر کے، صنعت و تجارت کو فروغ دے کر اور عوام کی مشکلات دور کر کے وہ امریکی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جائیں۔

 اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ عالمی معاملات پر کم سے کم رہے گی، یعنی امریکہ کی جانب سے افغانستان کی جنگ جیسا کوئی اقدام اگلے تین چار برسوں میں ہوتا نظر نہیں آئے گا اور دنیا کچھ پُرامن کچھ پُرسکون رہے گی‘ لیکن ایک عالمی طاقت کی جانب سے بین الاقوامی معاملات پر توجہ نہ دینے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ باقی دنیا کے تنازعات اسی طرح برقرار رہیں اور ان کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے جیسا کہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کی جنگ جو فی الحال ایک معاہدے کے تحت جنگ بندی پر منتج ہوئی ہے، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی پوری پاسداری کی جاتی رہے گی۔ میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا سکتے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ جہاں صورت حال یہ رہی ہو کہ اسرائیلی مغویوں کی رہائی میں کچھ تاخیر ہونے کی وجہ سے اسرائیل نے غزہ پر پھر بمباری شروع کر دی تھی وہاں یہ کیسے ممکن ہو گا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے معاملات تھوڑے بھی آگے پیچھے ہوئے تو اسرائیلی قیادت آپے سے باہر نہیں ہو جائے گی؟ دوسری جانب اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں بھی کشیدگی پہلے سے زیادہ پائی جاتی ہے اور ٹرمپ ایران کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں یہ بھی سب پر واضح ہے، چنانچہ اگر خدانخواستہ اسرائیل اور ایران کے مابین غزہ یا لبنان کے تنازع اور شام کی جنگ کو لے کر اختلافات بڑھے تو امریکی صدر خاموش تماشائی کے سوا کوئی اور کردار ادا نہیں کر سکیں گے، البتہ ٹرمپ یوکرین کی جنگ بند کرانے میں سرگرم کردار ادا کرنے کی ضرور کوشش کریں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت براہ راست متاثر ہو رہی ہے اور بالواسطہ طور پر بھی۔ علاوہ ازیں یہ جنگ یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے تنازع پر شروع ہوئی تھی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ کو نیٹو اتحاد سے نکل جانا چاہئے۔ امریکہ کے نیٹو اتحاد سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ نیٹو کا خاتمہ اور جب نیٹو تنظیم موجود ہی نہیں ہو گی یا مکمل غیر فعال ہو جائے گی تو اس کو وسعت دینے کی بنیاد پر شروع ہونے والی جنگ کے جاری رہنے کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ اس لئے غالب امکان یہ ہے کہ ٹرمپ یوکرین روس جنگ بند کرانے میں سرگرم کردار ادا کریں گے اور میرا خیال یہ ہے کہ وہ اپنے اس کردار میں‘ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جائیں گے، لیکن یہ طے ہے کہ ٹرمپ کے نئے دور حکومت میں دوسرے بین الاقوامی تنازعات کا ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔ ان پر توجہ دینے کی ٹرمپ کو شاید فرصت نہ ملے۔

 ایک اور معاملہ عالمی تجارت کا ہے‘ خصوصی طور پر چین کی تجارت کا‘ جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور اس ریلے کے سامنے امریکہ بھی بے بس نظر آتا ہے۔ میرے قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ دور حکومت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی امریکہ میں درآمد کی جانے والی مصنوعات پر ٹیکسوں میں کئی بار اضافہ کیا تھا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری رہے گا،لیکن پھر وہی بات کہ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی طاقت کو روکنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے گا، کیونکہ چین نے جس انداز میں اپنی صنعت کو ترقی دی ہے اور جس طرح وہ کم لاگت کی مصنوعات تیار کرتا ہے اس کا مقابلہ امریکہ سمیت دنیا کی کوئی اور طاقت نہیں کر سکتی، لہٰذا یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ چین کی بین الاقوامی تجارت خصوصی طور پر چین کا روس اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے مسلسل درد سر بنا رہے گا۔

 مجموعی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا  نیا شروع ہونے والا دور حکومت ملا جلا ہی رہے گا۔ اس میں نہ تو بڑے فیصلوں کا کوئی امکان ہے اور ظاہر ہے کہ جب بڑے فیصلے ہی نہیں ہوں گے تو بڑے اقدامات کیسے کیے جا سکیں گے؟ میں یہ بھی پیش گوئی کرتا چلوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پالیسیوں کے حوالے سے تو ممکن ہے جارحانہ نظر آئیں لیکن وہ اپنے بیانات اب تھوڑا سوچ سمجھ کر ہی دیں گے۔ 

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -