ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 52

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 52
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 52

  

آٹومیٹک گاڑ یاں

اگلی صبح فرخ صاحب صبح سویرے تشریف لے آئے ۔ان کے ساتھ میری منزل و ولون گونگ کا شہر تھا۔راستہ حسب معمول بہت خوبصورت اورسرسبزتھا۔ سڑ کیں کشادہ اور ہموار تھیں ۔ یہی معاملہ ان سڑ کوں پر چلنے والی گاڑ یوں کا تھا۔ملبورن سے یہاں تک اور بعد میں بھی متعدد دوستوں کی بہت سی گاڑ یوں میں بیٹھا۔یہ گاڑ یاں اتنی ساری خصوصیات کی حامل تھیں کہ انھوں نے سفر جیسی مشکل چیز کو آخری درجے میں سہل اور آسان بنادیا تھا۔

تحفظ، آرام اور تفریح ہر پہلو سے ان گاڑ یوں میں اتنی خصوصیات جمع کر دی گئی تھیں کہ ان کا بیان ایک الگ کتاب کا تقاضہ کرتا ہے ۔ تاہم کچھ چیزوں کا بیان قارئین کے لیے باعث دلچسپی ہو گا۔ پہلے سیکیورٹی کو لیجیے ۔ملبورن میں گریٹ اوشن روڈ کے راستے میں ایک چورا ہے پر میں نے محسوس کیا کہ سامنے سے ایک گاڑ ی کے آنے پر عبدالشکور صاحب کی گاڑ ی تیزی سے رک گئی۔بعد میں عبدالشکور صاحب نے بتایا کہ گاڑ ی میں ایسا ا سکینر لگا ہوا ہے کہ وہ ایسے کسی موقع پر ڈرائیور کو زحمت دیے بغیر سامنے والی گاڑ ی کو خطرناک قربت پر محسوس کر کے خود بریک لگادیتی ہے ۔یہی ا سکینر اور بہت سے کام بھی کرتا ہے ۔ مثلاًبڑ ی گاڑ یوں میں کروز کا فیچر تو پہلے ہی سے آتا ہے ۔ جن قارئین کو علم نہیں ان کو یہ بتاتا چلوں کہ کروز کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب آپ گاڑ ی کی رفتار مثال کے طور پر ساٹھ میل فی گھنٹہ طے کر دیں گے تو گاڑ ی کا ایکسلیریٹردبانے یا کم کرنے کی ضرورت نہیں گاڑ ی اسی رفتار پر چلتی رہتی ہے ۔یہ فیچر ہائے وے پر بہت کام آتا ہے ۔ اب اس میں یہ اضافہ ہو گیا ہے کہ آپ کو بریک دبانے کی بھی ضرورت نہیں ۔آگے والی گاڑ ی اگرہلکی ہوجاتی ہے تو آپ کی گاڑ ی بغیر بریک کے ہلکی ہوجائے گی اور اس کے آگے جانے کے بعد خود ہی تیز ہوجائے گی۔اب آپ کو صرف اسٹیرنگ کو سنبھالنا ہے ۔ وہ بھی اتنا سہل ہے کہ ایک انگلی سے کنٹرول میں رہتا ہے ۔ اس پر بھی آپ اپنی لائن سے نکلتے ہیں تو ا سکینر الارم بجا کر آپ کو متوجہ کر دے گاتاکہ آپ گاڑ ی کو سیدھا رکھیں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گاڑ ی میں ہیٹنگ اور ٹھنڈک تو بہت پرانے فیچر ہیں ، مگر عاطف کی گاڑ ی میں یہ بڑ ی سہولت ملی کہ اگر مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی تو میں اپنے حصے کا درجہ حرارت اپنی مرضی سے طے کرسکتا تھا اور ان کو گرمی لگ رہی تھی تو وہ اپنے حساب سے طے کرسکتے تھے ۔برسبین میں میرے میزبان مدثر صاحب کی گاڑ ی پرانے کلاسیکل انداز کی لمبی چوڑ ی گاڑ ی تھی۔ اس میں جہاز کی بزنس کلاس کی طرح سیٹ کی پشت کو آگے پیچھے کرنے کی سہولت سے آگے بڑ ھ کر اس پشت کو ریڑ ھ کی ہڈی کی سہولت کے لحاظ سے بیچ سے ایڈجسٹ کرنے کی سہولت موجود تھی۔ جس کے بعد آپ سیٹ کی پشت پر اپنی سہولت سے ٹیک لگا کر کمر کی کسی تکلیف سے بچ کر سفر کرسکتے ہیں ۔

جی پی ایس کی سہولت کی وجہ سے اب دنیا بھر کی گاڑ یوں میں راستے کا نقشہ موجود ہوتا ہے ۔ بس آپ اپنا مطلوبہ ایڈریس ڈال دیجیے ۔ کمپیوٹر ہر قدم پر آپ کو بتاتا رہے گا کہ کس جگہ سے کہاں مڑ نا ہے ۔ یوں آپ سیدھے بغیر کسی سے کچھ پوچھے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔جبکہ بعض جدید گاڑ یوں میں یہ سہولت آ چکی ہے کہ وہ پارکنگ کے وقت آپ کو زحمت میں ڈالے بغیر خالی جگہ دیکھ کرخود اپنے آپ کو پارک کر دیتی ہیں ۔

ان سب چیزوں کو دیکھ کراب یہ یقینی لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈرائیور کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔آپ گھر سے نکل کر اپنی مکمل آٹومیٹک گاڑ ی میں بیٹھیں گے ۔زبانی طور پر اپنی منزل بیان کریں گے اور کمپیوٹر مقررہ وقت میں آپ کی گاڑ ی کو باحفاظت آپ کی منزل پر پہنچادے گا۔اس دوران میں آ پ چاہیں تو آن لائن میٹنگ کریں ۔ وڈیو دیکھیں یا آڈیو سنیں ۔ آپ کو راستے کا کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

فرخ صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی بالکل تیار ہے ۔جبکہ عاطف نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ڈرائیور لیس گاڑ ی کو ہزاروں میل چلا کر کامیاب تجربہ بھی کر لیا گیا۔اب اصل رکاوٹ ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ سڑ کوں کے انفرا اسٹرکچر کی ہے ۔ یعنی جب تک باقی گاڑ یاں اس طریقے پر نہیں آ جاتیں ایسی گاڑ یوں کو الگ راستے کی ضرورت ہو گی۔ ورنہ آپ کی گاڑ ی جتنی بھی آٹو میٹک ہو، سامنے والے کے لیے یہ بالکل ممکن ہو گا کہ کبھی بھی آپ کی گاڑ ی کو آ کر ٹکر ماردے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام