Daily Pakistan

سنجیدہ شاعری


میرے مرنے کی خبر ہے اُس کو|راحت اندوری |

بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری  | دانیال طریر|

دل مرا باغِ دل کشا ہے مجھے | خواجہ میر درد |

کچھ لائے نہ تھے کہ کھو گئے ہم | خواجہ میر درد |

ابھی سفر کا آغاز ہے | حنا شہزادی |

اپنا ہی شکوہ اپنا گلہ ہے  | خلیل الرحمان اعظمی |

بڑھیں گے اور بھی یوں سلسلے حجابوں کے  | خاور رضوی |

حور و قصور سے نہ بہشت بریں سے ہے | خاور رضوی |

گرتے شیش محل دیکھو گے  | خاور رضوی |

آج اے دل! لب و رخسار کی باتیں ہی سہی | حمایت علی شاعر |

دے ہاتھ میں سوہنا ہاتھ کہ سجری سیج سجے | حسن عباس رضا |

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے | حسن عباس رضا |

رہینِ صد گماں بیٹھے ہوئے ہیں | خورشید رضوی |

خوبرویوں کی  یاریاں نہ گئیں | حسرت موہانی |

پیمانِ وفا نہ کر فراموش | حسرت موہانی |

کوئی جیتا ، کوئی مرتا ہی رہا | جگر مراد آبادی |

یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا  | جگر مراد آبادی |

ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا  | جگر مراد آبادی |

کرگئے نام محبت کر کے | جگر بریلوی |

شکر کیا ہو غمِ نہانی کا | جگر بریلوی |

دل سے نکلی جو درد کی آواز | جگر بریلوی |

جلد آ      کہ زندگی ہے پریشاں ترے بغیر | جوش ملیح آبادی |

اشارۂ مشیت | جوش ملیح آبادی |

زمانے کو اوجِ نظربخشتا ہوں| جوش ملیح آبادی |

توبہ جب توڑیے پیدا یہ صدا ہوتی ہے | جلیل مانک پوری |

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے  | جاوید اختر |

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا  | جاوید اختر |

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے  | تنویر سپرا |

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے  | تنویر سپرا |

مجھ کو نواز اپنے اَناجوں کے ڈھیر سے | تنویر سپرا |

تیرے قیاس سے مجھ کو قیاس آیا | حنا شہزادی |

میں جدید دور کی عورت ہوں |حنا شہزادی |

ساتھ دے کون ترے عشق میں وحشت کے سوا | بیدم شاہ وارثی |

پہلو میں دل ہے دل میں تمنائے یار ہے | بیدم شاہ وارثی |

طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیں  | بیدم شاہ وارثی |

ترا بیمار اچھا ہو رہا ہے | بیدل حیدری |

مزیدخبریں